Loading
پاکستانی یوٹیوب کری ایٹرز کی مقبولیت اب ملکی سرحدوں سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان نہ صرف دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی تخلیقی برادریوں میں شامل ہو چکا ہے بلکہ پاکستانی مواد کو دنیا کے مختلف خطوں میں غیر معمولی پذیرائی بھی مل رہی ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی فنکار، ڈیجیٹل کری ایٹرز اور تخلیقی شعبے سے وابستہ افراد مسلسل ایسے منفرد اور معیاری ویڈیوز تیار کر رہے ہیں جو نہ صرف مقامی ناظرین بلکہ بیرونِ ملک رہنے والے افراد کو بھی اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی یوٹیوب چینلز کی عالمی رسائی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے اندر اور بیرونِ ملک موجود ناظرین ریکارڈ تعداد میں پاکستانی ویڈیوز دیکھ رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور شمالی امریکا سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں پاکستانی مواد کو پسند کیا جا رہا ہے، جس سے ملک کے ڈیجیٹل تخلیق کاروں کی بین الاقوامی شناخت مزید مضبوط ہوئی ہے۔
یوٹیوب کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد ایسے یوٹیوب چینلز موجود ہیں جن کے سبسکرائبرز کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اسی طرح 19 ہزار سے زائد چینلز ایک لاکھ سبسکرائبرز کا سنگِ میل عبور کر چکے ہیں، جبکہ 12 سو سے زیادہ پاکستانی چینلز کے سبسکرائبرز کی تعداد 10 لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی ہے، جو ملک میں ڈیجیٹل کانٹینٹ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانی صارفین نے یوٹیوب پر مجموعی طور پر دو کروڑ گھنٹوں سے زیادہ دورانیے پر مشتمل ویڈیوز اپ لوڈ کیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان میں ڈیجیٹل مواد کی تیاری اور اس کی کھپت دونوں میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پاکستانی یوٹیوب ویڈیوز کے مجموعی واچ ٹائم کا تقریباً 60 فیصد حصہ پاکستان سے باہر رہنے والے ناظرین پر مشتمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی کری ایٹرز کی کامیابی اب صرف مقامی مارکیٹ تک محدود نہیں رہی بلکہ ان کا مواد دنیا بھر میں بڑی تعداد میں دیکھا جا رہا ہے۔
یوٹیوب کے مطابق پاکستانی تخلیق کار معیاری، مستند اور دلچسپ مواد کے ذریعے عالمی ناظرین کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔ یہی رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر پاکستانی کری ایٹرز اسی رفتار سے معیاری مواد تیار کرتے رہے تو مستقبل میں عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پاکستان کی نمائندگی مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل