Thursday, July 30, 2026
 

مرزا ادیب کی یاد میں

 



مرزا ادیب نے 14 اپریل 1914 کو لاہور میں جنم لیا۔ تمام تر تعلیمی مراحل لاہور ہی میں مکمل کیے۔ 1934 میں B.A اسلامیہ کالج لاہور سے کیا۔ ان کا اصل نام مرزا دلاور علی تھا۔ ان کا اولین تخلص تھا عاصی۔ جب کہ دوسرا تخلص تھا برق۔انھوں نے جب ادبی دنیا میں قدم رکھا تو ابتدا شاعری سے کی۔ یہ ان کے زمانہ طالب علمی ہی کا ذکر ہے کہ جب ان کی نظمیں ہفت روزہ ہلال، رسالہ شباب ، مولانا ظفر علی خان کے اخبار زمیندار اور سید حبیب کے اخبار سیاست میں چھپنے لگی تھیں۔ پھر 1935 میں نثر پر توجہ دی اور صرف 21 برس کی عمر میں ماہنامہ ادب لطیف کے ایڈیٹر بن گئے ۔ 1941 میں بمبئی چلے گئے اور فلمی صحافت کا آغاز کیا اور وہاں فلمی اخبار مصور کی ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ پھر واپس لاہور آ گئے اور آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہو گئے ، ادھر چوہدری برکت تو گویا ان کی آمد کے منتظر تھے۔ انھوں نے ایک بار پھر ماہنامہ ادب لطیف کی ادارت مرزا ادیب کے حوالے کر دی۔ مرزا ادیب نے ماہنامہ ادب لطیف میں ایک سلسلہ صحرا نورد کے خطوط کے نام سے قلم بند کرنے کا آغاز کیا۔ اور ہر ماہ ایک تاریخی داستان بیان کرتے۔ اپنی انفرادیت کے باعث یہ خوب پسند کیا جاتا۔ صداقت تو یہ ہے کہ صحرا نورد سلسلے کی داستانیں مرزا ادیب کی ادب میں حقیقی شناخت بن گئیں۔ یوں وہ 1962 تک ماہنامہ ادب لطیف سے وابستہ رہے، یہ عرصہ ادب لطیف کا بہترین دور کہلاتا ہے۔ پھر انھوں نے ریڈیو پاکستان لاہور میں اسٹاف آرٹسٹ کی حیثیت سے ملازمت اختیار کر لی۔ اب مرزا ادیب نے ڈرامے و افسانے لکھنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ آنسو اور ستارے، فصیل شب، شیشے کی دیوار، لہو اور قالین، ستون، شیشہ و سنگ، پس پردہ اور خاک نشین ان کے ڈراموں کے مجموعے ہیں۔  یوں تو تمام ہی ادبا نے بچوں کے لیے ادب تخلیق کیا، البتہ مرزا ادیب نے بچوں کا ادب لکھنے میں خوب نام کمایا۔ بچوں کا ادب لکھنا بے حد مشکل عمل ہے کیونکہ بچوں کا ادب لکھنے کے لیے لکھنے والے کو دس بارہ برس کی عمر کی سوچ و فکر اپنانا ہوتی ہے، اسی سبب سے بچوں کے لیے لکھنے والے ادبا انتہائی قلیل تعداد میں ہمیں نظر آتے ہیں، البتہ مرزا ادیب کے اندر یہ صلاحیت موجود تھی کہ آخری عمر میں بھی بچوں کا ادب تخلیق کرتے رہے۔ انھوں نے بچوں کے لیے جو ڈرامے لکھے ان میں قوم کی بیٹی، ڈالیاں، سات کھیل، نانی جان کی عینک، تیس مار خان، اے وطن میرے وطن قابل ذکر ڈرامے ہیں۔  البتہ جب مرزا ادیب کی عمر ساٹھ برس ہو گئی تو آپ ملازمت سے فارغ ہو گئے۔ یہ ذکر خیر ہے 1974 کا، یہ ضرور ہو گیا تھا کہ اب انھوں نے پوری توجہ ادبی تخلیق پر مرکوز کر دی چنانچہ اب انھوں نے انگریزی ادب کے تراجم کیے اور خوب کیے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جب کسی کتاب کا دوسری زبان میں ترجمہ کیا جاتا ہے تو ترجموں والی تحریروں میں اصلی چاشنی ختم ہو جاتی ہے، گویا مترجم بہت ہی کم حقیقی تحریر یا ادب کے ساتھ انصاف کر پاتا ہے مگر مرزا ادیب کمال مہارت سے پڑھنے والوں کے لیے دلچسپی کا پورا پورا خیال رکھتے، گویا حقیقی تحریر کے ساتھ پورا انصاف کرتے۔ انھوں نے تنقیدی مضامین بھی تحریر کیے۔ ان کے تنقیدی مضامین میں ڈاکٹر سید عبداللہ، مجید امجد جو بڑے اسکالر ہیں، ممدوح اقبال، حالی، شاعری میں بڑا نام اشرف صبوحی دہلویت کا مثالی نمونہ، خدیجہ مستور، پروفیسر مجتبیٰ حسین وغیرہ پر ان کے قابل ذکر تنقیدی مضامین ہیں۔  نامور نقاد عرشی صدیقی نے مرزا ادیب کے افسانوں کا مجموعہ مرزا ادیب کے بہترین افسانے کے نام سے شائع کیا جب کہ ڈاکٹر رشید امجد نے ان کی زندگی ہی میں ایک کتاب مرزا ادیب شخصیت و فن مرتب کی جس کے اختتامیہ میں انھوں نے تحریر کیا کہ یہ کتاب اصل میں ان محبتوں کا دھارا ہے جو میرے احباب میرے اہل قلم ساتھیوں نے مجھے دی ہے اور یہ بے پایاں محبت ایک اور ثبوت ہے۔ مرزا ادیب نے خود اپنی تخلیقات کے پس متن کے بارے میں یوں تحریر کیا کہ’’ میری تحریروں میں عام طور پر انسانی محبت، انسانی ایثار، انسانی حسن سلوک کا جذبہ بین السطور محسوس ہوتا ہے۔‘‘  یکم اگست 1999 کو مرزا ادیب جوکہ نام ہی کے ادیب نہ تھے بلکہ حقیقی ادیب بھی تھے نے اس دنیا فانی سے کوچ کیا۔ ان کی موت ایک انسان دوست قلم کار کی موت تھی۔ نوائے وقت لاہور میں کالم نویسی کرنے والے مرزا ادیب کی چند کتب کا ذکر ہم نے سطور بالا میں کیا، ان کی تحریر کردہ مزید کتب کے نام یہ ہیں۔ مٹی کا دیا، ان کی سوانح حیات، ناخن کا قرض ان کی خاکوں کی کتاب ہے۔ ادبی کالم، ان کے تحریر کردہ کالموں کی کتاب ہے۔ جنگل، لاوا، کمبل اور گلی گلی کہانیاں ان کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔ صحرا نورد کے خطوط، صحرا نورد کا رومان، صحرا نورد کا خط، ہمالیہ کے اس پار اور سفر نامہ چین۔ یکم اگست کو ان کی 28 ویں برسی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل