Thursday, July 30, 2026
 

دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے امیر، غریب!

 



انیسویں صدی میں کارل مارکس نے سرمایہ داری کے بارے میں سوال اٹھایا تھا کہ اگر دولت مسلسل چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتی گئی تو کیا ایک دن ایسا نہیں آئے گا جب امیر مزید امیر اور غریب مزید غریب ہو جائے گا؟ عالمی رپورٹس کے مطابق دنیا میں ارب پتیوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جو تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ بعض تخمینوں کے مطابق صرف 2025 میں ارب پتیوں کی مجموعی دولت میں 16 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جب کہ 2020 کے بعد سے ان کی دولت میں تقریباً 81 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔آج بھی دنیا کی تقریباً نصف آبادی محدود وسائل میں زندگی گزار رہی ہے۔ امریکا اس تضاد کی سب سے واضح مثال ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے باوجود وہاں لاکھوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ چین کا تجربہ ایک الگ حقیقت سامنے لاتا ہے۔ ایک طرف اس نے دنیا کی تاریخ میں غربت کے خاتمے کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی اور کروڑوں افراد کو متوسط طبقے میں شامل کیا، لیکن دوسری طرف اسی معاشی ترقی نے بے پناہ دولت رکھنے والے ایک نئے طبقے کو بھی جنم دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج چین کی حکومت معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ دولت کی نسبتاً منصفانہ تقسیم کو بھی اپنی پالیسی کا اہم ہدف قرار دے رہی ہے۔  بھارت میں بھی معاشی ترقی نے نئی صنعتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو جنم دیا۔ نتیجتاً ارب پتیوں کی تعداد بڑھی، مگر اسی وقت وسیع آبادی مہنگائی، غیر رسمی روزگار اور محدود سماجی تحفظ جیسے مسائل سے نبرد آزما رہی۔ روس میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد نجکاری کے عمل نے چند افراد کو بے پناہ دولت کا مالک بنا دیا، جب کہ یورپ میں اگرچہ فلاحی ریاست نے متوسط طبقے کو سہارا دیا، پھر بھی حالیہ برسوں میں رہائش، توانائی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے وہاں بھی متوسط طبقے کو دباؤ میں رکھا۔یہاں ایک اور پہلو بھی اہم ہے۔ جب دولت محدود ہاتھوں میں جمع ہونے لگتی ہے تو صرف معاشی عدم مساوات نہیں بڑھتی بلکہ سیاسی طاقت کا توازن بھی بدلنے لگتا ہے۔ دنیا بھر میں متوسط طبقہ کہیں کہیں ختم بھی ہورہا ہے جب کہ کئی ممالک میں متوسط طبقہ بڑھ بھی رہا ہے، مگر متعدد ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں اس کی قوت خرید اور معاشی تحفظ کمزور ہوا ہے۔ اس کے برعکس ارب پتیوں کی تعداد اور ان کی دولت میں مسلسل اضافہ ایک عالمی رجحان بن چکا ہے۔ کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے چند سو یا چند ہزار ارب پتی نہیں ہوتے، بلکہ وہ کروڑوں شہری ہوتے ہیں جو متوسط طبقے کی صورت میں معیشت کا پہیہ چلاتے ہیں، ٹیکس دیتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں، نئی نسل کو تعلیم دلواتے ہیں اور ریاستی اداروں کو استحکام فراہم کرتے ہیں، اگر یہی طبقہ کمزور پڑنے لگے تو معاشی ترقی کے اعداد و شمار خواہ کتنے ہی دلکش کیوں نہ ہوں، خوشحالی کا احساس عام آدمی تک نہیں پہنچتا۔  دوسری طرف پاکستان میں گزشتہ پانچ سے دس برسوں میں سب سے زیادہ فائدہ ان افراد اور کاروباری گروپس کو ہوا جن کے پاس بڑے مالی اداروں کے حصص تھے،کھاد، سیمنٹ اور تیل و گیس کمپنیوں میں سرمایہ کاری تھی، بڑے شہروں میں قیمتی زمین اور کمرشل پراپرٹی تھی،آئی ٹی اور سافٹ ویئر ایکسپورٹ سے وابستہ کاروبار تھے، توانائی، شوگر، سیمنٹ اور فرٹیلائزر جیسے صنعتی گروپس میں ملکیت تھی۔جب کہ غیرقانونی کاروباری اور جرائم سے کمائی گئی دولت کا حجم بھی غیرمعمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔  اسی عرصے میں پاکستان شدید مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی اور متوسط طبقے کی قوتِ خرید میں گراوٹ کا شکار رہا، لیکن کئی بڑے کاروباری شعبوں نے ریکارڈ منافع بھی کمایا۔یعنی پاکستان میں دولت کی تخلیق تو ہوئی، مگر اس کی تقسیم یکساں نہیں رہی۔ ایک طرف بڑے کاروباری اداروں ، سرمایہ کاروں اور وائٹ کالر کریمنلز کی دولت میں اضافہ ہوا، جب کہ دوسری طرف متوسط اور تنخواہ دار طبقے پر مہنگائی اور حقیقی آمدنی میں کمی کا دباؤ بڑھتا گیا۔ متوسط طبقہ آج بجلی، گیس، بچوں کی تعلیم اور علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے سخت جدوجہد کر رہا ہے۔ بہت سے خاندانوں نے اپنی بچتیں ختم کر دیں، جب کہ متوسط طبقہ سکڑ کر مزید کم ہوگیا۔ اب امیر طبقے کے بعد نچلے تمام طبقے شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں ،جس کی بے شمار وجوہات ہیں۔  اس وقت بھی صورتحال کچھ یوں ہیں کہ سرکاری ملازمین جن میں ڈاکٹر اور جامعات کے پروفیسر وغیرہ کے طبقات بھی شامل ہیں،انھیںجو ان کا حق ہے وہ بھی نہیں مل رہا۔نجی اداروں کے ملازمین کی اکثریت ملازمت پہلے ہی ہر وقت خطرے میں رہتی ہے کہ کب ختم کر دی جائے، سرکاری ملازمین کو جو اضافے حکومت کی طرف سے میسر آتے ہیں وہ نجی سیکٹر میں کام کرنے والوں کونہیں ملتے ،وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم بھی نہیں دلا سکتے نہ اچھے اسپتال سے علاج کرا سکتے ہیں ۔ پاکستان میں بھی دنیا بھر کی طرح امیر امیر تر ہو رہے ہیں۔ عوام اپنے حقوق کے لیے کوئی تحریک چلانے اور آواز اٹھانے کے قابل بھی نہیں ہیں، مزید یہ کہ عوام کو کوئی ایسی سیاسی و مذہبی جماعت بھی میسر نہیں کہ جو ان کے ان بنیادی حقوق کے لیے کم از کم موثر آواز بلند کرے یا ان کے پاس کو قابل عمل منشور ۔ یہی وجو ہات ہیں کہ جن کے سبب پاکستان میں متوسط طبقہ، غریب طبقے میں تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، غریب مزید غریب جب کہ امیر، امیر تر ہو رہا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل