Loading
واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف نافذ بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کے دوران امریکی افواج نے اب تک 24 تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کرایا، دو جہازوں کو ناکارہ بنایا جبکہ مزید دو جہازوں پر چڑھ کر کارروائی کی گئی ہے۔
سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ 30 جولائی تک یہ تمام اقدامات مشرقِ وسطیٰ کے سمندری علاقوں میں جاری آپریشنز کا حصہ تھے، جن کا مقصد ایران کے خلاف بحری پابندیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
بیان کے ساتھ امریکی فوج نے ایک تصویر بھی جاری کی، جس میں امریکی بحریہ کا پوسائیڈن نگرانی طیارہ مشرقِ وسطیٰ میں گشت کے دوران امریکی فضائیہ کے ٹینکر طیارے سے فضا میں ایندھن حاصل کرتا دکھایا گیا۔
امریکی فوج کے مطابق یہ نگرانی طیارہ ان متعدد فضائی اور بحری اثاثوں میں شامل ہے جو خطے کے سمندری راستوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ بحری ناکہ بندی پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
سینٹ کام نے ان جہازوں کی شناخت، ان کے کارگو یا ان کے خلاف کی گئی کارروائیوں کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ جن دو جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا، ان کے خلاف کس نوعیت کی کارروائی کی گئی۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے امریکی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
A U.S. Navy P-8 Poseidon approaches a U.S. Air Force KC-135 Stratotanker for refueling while patrolling the Middle East. The P-8 is a specialized reconnaissance aircraft that is among the many assets monitoring regional waters during America's blockade against Iran. As of July… pic.twitter.com/5LJGLApwWR
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 30, 2026
دفاعی ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سمندری راستوں پر فوجی نگرانی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور علاقائی سلامتی پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل