Loading
بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں بی جے پی میں شمولیت اختیار نہ کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
ابھیجیت دیپکے کا کہنا ہے کہ فون کالز اور احتجاج کے دوران انہیں بارہا خبردار کیا گیا کہ اگر انہوں نے اپنا مؤقف تبدیل نہ کیا تو انہیں گولی مار دی جائے گی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اورنگ آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ جنتر منتر پر احتجاج کے دوران بھی انہیں مسلسل دباؤ کا سامنا رہا۔ ان کے بقول بعض افراد نے انہیں احتجاج ختم کرنے اور بی جے پی میں شامل ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے دھمکی دی کہ انکار کی صورت میں انہیں جان سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔
ابھیجیت دیپکے نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہی بی جے پی اور آر ایس ایس کی ’محبت کی زبان‘ ہے، جس میں کہا جاتا ہے کہ ساتھ آ جاؤ، ورنہ تمہارے یا تمہارے اہلِ خانہ کے ساتھ برا سلوک کیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کے خاندان کو مختلف نوعیت کی دھمکیاں دی جاتی رہیں۔
View this post on Instagram
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں متعدد مرتبہ بی جے پی میں شمولیت کی پیشکش کی گئی، تاہم انہوں نے ہر بار انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کا ارادہ بی جے پی میں جانے کا ہوتا تو وہ بہت پہلے یہ فیصلہ کر چکے ہوتے۔
ملکی سیاست میں مستقبل کے کردار سے متعلق سوال پر ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ملک میں ایک شخصیت کو اس حد تک طاقتور بنا دیا گیا ہے کہ اسے آئین سے بھی بالاتر سمجھا جانے لگا ہے، جبکہ بھارت کو موجودہ صورتحال سے نکالنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری عوام کا متحد ہونا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی پر بیرونی فنڈنگ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر واقعی ان کی جماعت غیر ملکی طاقتوں کے اشاروں پر کام کر رہی ہے تو یہ وزیر داخلہ امیت شاہ کی ناکامی ہے، لہٰذا انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
ابھیجیت دیپکے نے جنتر منتر میں احتجاج کے دوران ہونے والے پتھراؤ اور طلبا پر پولیس کے لاٹھی چارج کا ذمے دار بھی امیت شاہ کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام کارروائیاں پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کی گئیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل