Loading
ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے استعمال ہونے والی میموری چپس کی عالمی قلت کے باعث کمپنی آئی فونز کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے اضافی ذخیرہ جمع کرنے اور تیزی سے انتظامات کرنے میں مصروف ہے۔
کمپنی کے تازہ مالی نتائج کے مطابق ایپل نے اپنی تاریخ کی بہترین تقابلی سہ ماہی کارکردگی ریکارڈ کی۔ اس دوران آئی فون کی فروخت میں 22 فی صد جبکہ میک کمپیوٹرز کی فروخت میں 29 فی صد اضافہ ہوا، جو توقعات سے بہتر رہا۔
تاہم، عالمی سطح پر میموری چپس کی کمی، جسے بعض ماہرین ریماگیڈون (RAMageddon) بھی قرار دے رہے ہیں، الیکٹرانکس صنعت کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے۔ اے آئی سسٹمز کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث دیگر ڈیوائسز بنانے والی کمپنیوں کو چپس کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں کئی مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھ چکی ہیں۔
ایپل نے گزشتہ ماہ اپنی متعدد مصنوعات کی قیمتوں میں 20 فی صد یا اس سے زیادہ اضافہ کیا تھا، اگرچہ آئی فونز کی قیمتوں میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کمپنی ستمبر میں متوقع نئے آئی فون ماڈلز کی لانچ کے ساتھ قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔
ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹِم کُک نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر میموری چپس کی قلت برقرار رہی تو کمپنی کے لیے بڑھتی ہوئی طلب کے مطابق آئی فونز تیار کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل