Loading
افغانستان میں پاک-افغان کشیدگی کے باعث پھنسے مزید 110 پاکستانی طلبہ طورخم بارڈر کے راستے وطن واپس پہنچ گئے اور اس کے ساتھ ساتھ 592 پاکستانی کارگو گاڑیوں کو بھی پاکستان میں داخلے کی اجازت مل گئی۔
بارڈر سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس سے قبل بھی ایک ماہ پہلے 70 پاکستانی طلبہ کی وطن واپسی ممکن بنائی گئی تھی، طلبہ اور کارگو گاڑیوں کی مرحلہ وار واپسی معروف صنعت کار اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) ضلع خیبر کے صدر حاجی شیرین خان آفریدی کی کوششوں اور تعاون سے ممکن ہوئی اور دونوں ممالک کے سفارتی عملے اور بارڈر سیکیورٹی حکام نے بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کیا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ 12 اکتوبر 2025 سے پاک-افغان کشیدگی کے باعث سینکڑوں پاکستانی طلبہ اور کارگو گاڑیاں افغانستان میں پھنسی ہوئی تھیں۔
اس موقع پر حاجی شیرین خان آفریدی نے بتایا کہ پاکستانی سفارتی عملے اور بارڈر حکام کے باہمی تعاون سے طلبہ کی واپسی ممکن بنائی گئی، انہوں نے طورخم بارڈر پر وطن واپس آنے والے طلبہ کا استقبال بھی کیا، طلبہ اور کارگو گاڑیوں کی واپسی کے لیے اپنے کردار کی تصدیق کی۔
وطن واپس پہنچنے والے طلبہ نے پاکستانی حکام، سفارتی عملے اور حاجی شیرین خان آفریدی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی کاوشوں کو سراہا۔
حاجی شیرین خان آفریدی کے مطابق افغانستان میں موجود مزید پاکستانی طلبہ اور کارگو گاڑیوں کی واپسی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل