Loading
پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور وزیر برائے محنت و افرادی قوت سعید غنی نے کہا ہے کہ نئے صوبے کسی کے کہنے پر نہیں بلکہ صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کی قراداد کی منظوری کے بعد بن سکتے ہیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ نئے صوبے کسی کے کہنے سے نہیں بلکہ آئین کے تحت اس صوبے کی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے قرارداد کی منظوری کے بعد ہی بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وزراء نے اپنی ہی وفاقی حکومت کے خلاف پورٹ پر بات کرکے چارج شیٹ دی ہے، پنجاب کے وزرا مریم نواز کے دائرہ نظر میں رہ کر سوچتے ہیں۔
سعید غنی نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی دنیا کے سب سے بڑے اسپتالوں میں سے ایک ہے جہاں سالانہ لاکھوں مریضوں کا نہ صرف مفت علاج کیا جاتا ہے بلکہ پورے ملک سے آنے والے مریضوں کو یہ سہولت میسر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ نے اس سال کے بجٹ میں اپنے ترقیاتی بجٹ میں 29 فیصد جبکہ پنجاب نے 39 فیصد کمی کی ہے اور ہمیں گڈ گورنس کی نصیحت کی جاتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری سینیٹر سید وقار مہدی اور تیمور سیال بھی ان کے ہمراہ موجود تھے ۔
سعید غنی نے کہا کہ پنجاب کے وزراء نے پریس کانفرنس میں جو باتیں کیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید وہ کبھی سندھ آئے ہی نہیں، پنجاب کے نوجوان اراکین اسمبلی سندھ آئے تھے، انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کی اور کہا کہ کراچی ویسا نہیں جیسا ہمیں بتایا جاتا ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ پنجاب کے ان دو وزراء نے کراچی پورٹ کے ریونیو کے حوالے سے بات کی، لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ بندرگاہیں وفاقی حکومت کے اختیار میں ہوتی ہیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب کے عوام کو بہتر علاج کی ضرورت ہے، اور سندھ میں صحت کے شعبے میں جو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، وہ سب کے لیے موجود ہیں۔ این آئی سی وی ڈی میں ایک ہی چھت کے نیچے دل کے تمام امراض کا علاج کیا جاتا ہے، دنیا میں اس طرز کا نظام کہیں اور موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے دو وزراء پریس کانفرنس کر رہے تھے میں انہیں ذاتی طور پر نہیں جانتا۔ کچھ دن پہلے ینگ پارلیمنٹیرینز کا وفد سندھ آیا تھا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل تھے انہی میں سے مسلم لیگ (ن) کے ایک رکن نے بتایا کہ کراچی جیسا ہمیں بتایا جاتا ہے، حقیقت میں ویسا نہیں ہے۔
صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ نون لیگی وزراء مریم نواز کے دائرۂ نظر میں رہ کر سوچتے ہیں۔ اگر کراچی پورٹ کے معاملات پر بات کی جاتی ہے تو یہ دراصل اپنی ہی وفاقی حکومت کو چارج شیٹ کرنے کے مترادف ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل