Saturday, August 01, 2026
 

امت الصبور

 



’’میری خواہش ہے انھیں بھی حکومت کی جانب سے تمغہ حسن کارکردگی تو ملنا ہی چاہیے۔ انھوں نے ایک طویل عرصہ اس کام کو دیا ہے اور ان کا کام معمولی نہیں تھا، بہت مشکل ہے یہ کام۔ کس طرح انھوں نے مصنفین کو ڈھونڈ کر نکالا اور انھیں سنوارا اور جو آج ہر دوسرے ٹی وی چینل پر ڈرامے آ رہے ہیں ناظرین پسند کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ہی کیا، پاکستان سے باہر بھی لوگ کتنا پسند کرتے ہیں، پاکستانی ڈرامے اور وہ ڈرامہ رائٹرز خاص کر خواتین، کہاں سے آئی ہیں۔ اسی ادارے سے نکلی ہیں اور یہ چینل والے پکے پکائے مال پر آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔‘‘ انھوں نے اپنی بات کہہ کر اس کا ردعمل دیکھنے کے لیے اِدھر اُدھر دیکھا تھا۔ ’’تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو۔ امتل نے چالیس پینتالیس سال کام کیا ہے، اپنی زندگی اس جاب کو دے دی، بالکل امت الصبور کو یہ ایوارڈ ضرور ملنا چاہیے۔ دیکھو، کن کن کو مل جاتا ہے، جنھیں ہم جانتے بھی نہیں۔‘‘ دوسری جانب سے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا گیا تھا۔ ’’بھئی! آخر یہ ایوارڈ دینے والے کیوں نہیں دیکھتے کہ اتنے برسوں سے خواتین کو اتنا صاف ستھرا ماہنامہ پڑھنے کو مل رہا ہے جس نے اتنے عرصے سے اپنے معیار کو بھی برقرار رکھا ہوا ہے اور اس کا سارا کریڈٹ امت الصبور کو جاتا ہے۔‘‘ ’’بالکل یہ تو ہے انھوں نے معیار رکھا ہوا ہے، کمپرومائز نہیں کرتیں۔‘‘ ایک خواتین کے معروف ماہنامے کی ایڈیٹر کے بارے میں خواتین کے تاثرات جو خود بھی معروف مصنفہ ہیں سن کر اچھا لگا۔ امت الصبور کو گزشتہ پینتالیس برسوں سے خواتین، لڑکیوں اور ان تمام لوگوں کے لیے بھی جو ستھرا اور اصلاحی ادب پڑھنا چاہتے ہیں جس میں کہانی بھی ہو، زندگی کی اونچ نیچ بھی ہو، برائی کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور اچھے کو چٹکی سے پکڑ کر حوادث کے تھپیڑوں سے بچاتے سامنے لایا جائے۔ انسان وہی پڑھنا چاہتا ہے جو اس کے ارد گرد نظر آتا ہے، پر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے ارد گرد سے الگ دیہاتی مناظر میں کھو جانا چاہتا ہے، جہاں لہلہاتے سرسبز کھیتوں کی شوخیاں ہوں اور کچی زمین کی سوندھی خوشبو، ماحول میں لاپرواہی، قدرتی ماحول اور الھڑپن اور ایسے ہی خوب صورت مناظر کے بیچ کہیں کوئی گہری زہریلی کہانی جو بظاہر لوگوں کو متاثر کر رہی ہے لیکن کچھ تو غلط ہو رہا ہے۔ ہماری خواتین کی مصنف ایسی ہی ماہر ہیں کہ اپنے اردگرد کی تو خیر کوئی بات ہی نہیں پر ان مناظر کی بھی ایسی دلکش منظر کشی کرتی ہیں کہ قاری اس ماحول میں کھو کر آگے بڑھتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ یہ مافوق الفطرت کہانیاں ہوتی ہیں، یہ سب میرے اور آپ کے بیچ پنپتی اور سلگتی ہیں۔ سب سے خوب صورت بات یہ ہے کہ ہماری وہ مصنفات جو شہری ماحول اور لگژریز کو استعمال کرتی ہیں وہ بھی ایسے ہی ماحول کی منظر کشی بڑے سہل انداز میں کرتی جاتی ہیں لیکن شاید آپ کو پڑھ کر حیرت ہو کہ امت الصبور نے ایسی لکھاریوں کا بھی خیر مقدم کیا جن کی کچی پکی لکھائی پڑھنا مشکل تھی، لیکن ان کی جوہر شناس آنکھوں نے ان مصنفاؤں کو پہچان لیا تھا۔ یقین کریں روز کی آنے والی ڈھیروں کہانیوں میں سے اچھی کہانی تلاش کرنا انتہائی دشوار کام ہے کیونکہ سو میں سے بہ مشکل ایک افسانہ کچھ معقول ملتا ہے، ایسے جیسے سمندر کے کنارے چھلنیاں لیے لوگ دن رات سونے کی آرزو میں پانی چھانتے رہتے ہیں، ویسے ہی ایک اچھا لکھاری چھانا جاتا ہے۔ نام لینے کے جھنجھٹ میں پڑے بغیر ایک رائٹر شوق شوق میں خواتین کے ماہنامے پڑھ پڑھ کر خود بھی لکھنے کی کوشش کرتی ہے جس نے اسکول کی شکل تک نہ دیکھی تھی۔ بھینسوں کے لیے چارہ کاٹتی وہ خاتون اپنی نگارشات امت الصبور کو سونپتی ہے اور قدرت کا کرشمہ کہ پنجاب کے دور دراز سے آئے اس افسانے کو بنا سوچے سمجھے کہ اس کے پیچھے محنت کش ہاتھ ہیں بس کہانی پسند آئی اور اشاعت کے لیے منظور ہو گئی، پھر ایک کے بعد ایک سلسلہ چل نکلا اور آج وہی امت الصبور کا سینچا ہوا پودا ٹی وی کی اسکرین پر ڈرامائی دنیا میں اپنے جوہر دکھا رہا ہے ۔ یہ ایک الگ بات کہ سارے ہی مشہور ٹی وی چینلز ان کے پودوں اور بیجوں پر نہ صرف نظر رکھتے ہیں بلکہ انھیں اڑا بھی لے جاتے ہیں۔ یقینا ایک باغبان کے لیے یہ امر تکلیف دہ ہے لیکن گزشتہ بیس، انیس برسوں سے تو ایسا ہی ہو رہا ہے لیکن امت الصبور آج بھی ایک اچھا رائٹر ڈھونڈنے پر جتی ہوئی ہیں۔ انتھک محنت، جستجو اور لگن عمر کے اس حصے میں بھی جاری ہے۔ ’’ہم نے خواتین کے ان ماہناموں سے بہت سیکھا ہے، پہلے ہماری اماں سمجھتی تھیں کہ بیتی پیار محبت اور بہکانے والی باتیں پڑھ رہی ہے پر جب انھوں نے خود مطالعہ کیا تو کہنے لگیں یہ تو بچیوں کے لیے بہت اچھا ہے۔ سسرال اور میکے میں بچیاں کیسے ہلکان ہوتی ہیں پر یہ تو ترکیبیں بتاتا ہے، اچھا ہے۔‘‘ ایک مصنفہ نے اپنی والدہ کے بارے میں بتایا تھا جن کی سادہ لوح ماں نے اپنی بیٹی کو کہانیاں، افسانے پڑھنے سے روکا تھا۔ فاخرہ جبیں، راحت جبیں، ساجدہ حبیب، رفعت سراج، رخسانہ نگار، عمیرہ احمد، نمرہ احمد، سمیرا حمید، نعیمہ ناز، فرحت اشتیاق، صائمہ اکرم، سائرہ رضا (مرحومہ)، شازیہ چوہدری، امت العریز ایک طویل فہرست ہے جن کے قلم نے پڑھنے والوں کو مایوسی، کفر، حسد، غیبت، جھوٹ سچ غرض تمام اخلاقی برائیوں سے دور رہنا سکھایا ہے بلکہ اپنی کردار نگاری سے سمجھایا ہے کہ اپنے خالق سے جڑنے میں ہی فائدہ ہے۔ کیا کیا نام لوں اور کیسے کیسے سمجھانے کے انداز یقینا ہماری تمام رائٹرز نے معاشرے میں بحالی اور سلجھاؤ کے لیے بہت بہترین انداز میں کہانی کی بنت کی اور باتوں باتوں میں کام کی بات کر گئیں۔ امت الصبور نے اپنی رائٹرز کی بہترین انداز میں رہنمائی کی اور اپنے قیمتی مشوروں سے بھی مدد کی جس سے ان کے کام میں مزید نکھار پیدا ہوا۔ کمرشلزم کے اس دور میں اچھے اور مخلص لوگ کم ہی نظر آتے ہیں جو اپنے کام سے جتے رہتے ہیں۔ امت الصبور ان ہی لوگوں میں سے ایک ہیں جو اپنے کام سے جنون کی حد تک محبت کرتی ہیں۔ ہم ایسے لوگوں کو سلیوٹ کرتے ہیں جنھوں نے خواتین کے چھوٹے چھوٹے اور بڑے بڑے مسائل کو سمجھنے اور انھیں سلجھانے میں ایسے ہیروں کو تراشا کہ جن کی روشنی ناصرف پاکستان میں بلکہ پڑوسی ملک میں پہنچ رہی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل