Loading
امریکی فوج نے گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کے بعد چھوٹے ڈرونز کو تباہ کرنے کے لیے کم لاگت والے نئے میزائل تیار کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوج ایسے میزائل کی تلاش میں ہے جو کم قیمت ہونے کے باوجود چھوٹے بغیر پائلٹ طیاروں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنا سکے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکی جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ایک خریداری دستاویز میں نئی ضروریات بیان کی گئی ہیں۔ دستاویز کے مطابق امریکی فوج چاہتی ہے کہ ہر میزائل کی تیاری پر ڈیڑھ لاکھ ڈالر سے کم لاگت آئے تاکہ انہیں بڑی تعداد میں تیار کیا جا سکے۔
دستاویز میں کم از کم 5 ہزار میزائلوں کی خریداری کا ہدف بھی رکھا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی فوج کم قیمت دفاعی نظام کو وسیع پیمانے پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق نئے میزائل کو ایسے چھوٹے ڈرونز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل ہونی چاہیے جن کا وزن تقریباً 20 سے 1,300 پاؤنڈ کے درمیان ہو، جبکہ اس کی مؤثر مار تقریباً 15 میل تک ہونی چاہیے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ جنگوں میں کم قیمت ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے دنیا بھر کی افواج کو اپنے فضائی دفاعی نظام پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے، کیونکہ مہنگے میزائلوں سے سستے ڈرونز کو گرانا اقتصادی طور پر مؤثر حکمت عملی نہیں سمجھی جاتی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کی نئی منصوبہ بندی کا مقصد دفاعی اخراجات میں کمی لانا، ڈرون حملوں سے مؤثر انداز میں نمٹنا اور مستقبل کے ممکنہ تنازعات کے لیے دفاعی تیاری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی میڈیا میں حالیہ دنوں یہ رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ مختلف فوجی کارروائیوں کے بعد امریکا کے بعض اہم میزائل ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل