Loading
یمنی فوج نے تصدیق کی ہے کہ حوثی جنگجوؤں کے متعدد آرمی کیمپوں پر حملے میں کم از کم 30 اہلکار ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ حملے یمن کے علاقوں مأرب اور حضرموت کے صوبوں میں قائم فوجی اڈوں پر کیے گئے۔
یمنی حکام کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے ایک ہی وقت میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا اور فورسز کو سنبھلنے کا موقع نہیں مل سکا جس کے باعث فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
زخمی ہونے والے درجنوں اہلکاروں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جبکہ بعض زخمیوں کی حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یمنی حکام نے کہا کہ یہ حملے اپریل 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالث سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد سب سے بڑا عسکری تصادم ہیں۔
اگرچہ باضابطہ جنگ بندی کی مدت بعد میں ختم ہوگئی تھی تاہم دونوں فریقوں کے درمیان ایک غیر اعلانیہ جنگ بندی برقرار تھی جس کے باعث بڑے پیمانے کی لڑائی میں نمایاں کمی آگئی تھی۔
حالیہ حملوں نے اس غیر رسمی امن کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یمن دوبارہ وسیع پیمانے پر خانہ جنگی کی طرف جا سکتا ہے۔
دوسری جانب حوثیوں نے حملوں کی تفصیلات جاری نہیں کیں تاہم ان کے میڈیا ونگ نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی ایک اہم فوجی آپریشن کے بارے میں بیان جاری کریں گے۔
تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حملوں میں ڈرون، بیلسٹک میزائل یا دیگر ہتھیار استعمال کیے گئے یا نہیں تاہم ماضی میں حوثی ایسی کارروائیوں میں ڈرونز اور میزائلوں کا استعمال کرتے رہے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی ایران، امریکا، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز، غزہ اور خلیج میں جاری سفارتی و عسکری سرگرمیوں کے باعث پورا خطہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یمن میں دوبارہ بڑے پیمانے پر لڑائی شروع ہوتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف سعودی عرب اور خلیجی ممالک بلکہ بحیرہ احمر اور عالمی بحری تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ یمن میں 2014 سے جاری جنگ میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک ایک طرف جبکہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت اور ماضی میں اس کی حمایت کرنے والا سعودی قیادت کا فوجی اتحاد دوسری طرف موجود ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل