Loading
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے خیبرپختونخوا میں عالمی بینک کے مالی تعاون سے جاری منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جامع تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی سفارش کر دی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے چیئرمین سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ بعض منصوبوں کے ٹھیکے مبینہ طور پر نااہل کمپنیوں کو دیے گئے اور ٹینڈرنگ کے عمل میں شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
کمیٹی نے سنگل اسٹیج ون انویلپ طریقہ کار پراعتراض کرتے ہوئے مالی بولیاں تکنیکی جانچ سے قبل کھولنے کے عمل کو پیپرا قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا۔
سینیٹ کمیٹی نے وزارت اقتصادی امور کو سفارش کی ہے کہ وہ عالمی بینک سے مذکورہ خریداری کو مبینہ طور پر غلط قرار دینے کی درخواست کرے جبکہ زائد ادائیگیوں کی وصولی اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کو بھی یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں نئے غیر ملکی قرضوں پر مبنی منصوبوں کی حوصلہ شکنی کی بھی سفارش کی گئی۔
اس موقع پر حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی بی آر ٹی یلو لائن منصوبہ دسمبر 2028 تک مکمل ہونے کی توقع ہے اور حکومت سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت 250 الیکٹرک بسیں خریدنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
کمیٹی نے بی آر ٹی یلو لائن منصوبے سے متعلق تمام تجاویز اور سبسڈی کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی جبکہ اکرم واہ کینال منصوبے کے معاہدے کی تکمیل کے لیے واضح ٹائم لائن بھی پیش کرنے کی سفارش کی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل