Loading
تاریخ کے اوراق میں کچھ دن ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں وقت کی گرد مٹا نہیں سکتی۔ وہ صرف کیلنڈر کے عام ہندسے نہیں رہتے، بلکہ ایک ایسا دائمی درد بن جاتے ہیں جس کی کسک نسلیں محسوس کرتی ہیں۔
8 اگست 2016 بلوچستان کی تاریخ کا ایک ایسا ہی سیاہ اور الم ناک باب ہے۔ ایک ایسا دن جب کوئٹہ کے سول اسپتال میں ہونے والے قیامت خیز خودکش دھماکے نے نہ صرف درجنوں تروتازہ زندگیاں چھین لیں، بلکہ انصاف کی راہوں کو روشن کرنے والے درخشندہ چراغوں اور سچائی کی آواز بننے والے قلم کاروں کو بھی ہمیشہ کے لیے بجھا دیا۔
8 اگست کی صبح بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کی ٹارگٹ کلنگ سے شروع ہوئی۔ ابھی اس ناگہانی صدمے کی خبر پھیلی ہی تھی کہ غم سے نڈھال سیکڑوں وکلاء، جج صاحبان، صحافی، اور شہری آخری دیدار کے لیے سول اسپتال کوئٹہ کے شعبہ حادثات میں جمع ہوگئے۔ فضا ابھی آہوں اور سسکیوں سے بوجھل ہی تھی کہ ایک بزدل خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ ایک پل میں ہر طرف دھواں، خون اور لاشوں کا ڈھیر تھا۔
اس ستم ڈھاتے حملے میں 56 وکلا، اور 2 صحافیوں سمیت 74 زندگی کی شمعیں گل ہوگئیں اور 100 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے ان شہداء میں بلوچستان کے وہ نامور اور مدبر وکلا شامل تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی آئین کی سربلندی اور مظلوموں کی داد رسی کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ بلال انور کاسی، باز محمد کاکڑ، قاہر شاہ، بیرسٹر عدنان کاسی، داوٴد کاسی، عسکر خان اچکزئی، سنگت جمالدینی، اشرف سلہری، عبداللہ اچکزئی، تیمور شاہ کاکڑ، اور غلام فاروق سمیت درجنوں سینئر اور ابھرتے ہوئے قانون دان اس المیے کی نذر ہو گئے۔
ان میں سے بیشتر وہ ذہن تھے جنہیں اس سرزمین کے مستقبل کے جج اور عدالتی نظام کے مضبوط ستون سمجھا جاتا تھا۔ اس المناک سانحے کا ایک اور دردناک پہلو وہ دو صحافی تھے آج ٹی وی کے کیمرہ مین شہزاد خان اور ڈان نیوز کے کیمرہ مین محمود خان جو پیشہ ورانہ ذمے داری نبھاتے ہوئے اس المناک حادثے کا شکار ہوگئے۔ جو صحافی ہمیشہ دوسروں کا درد دنیا تک پہنچاتے تھے، جو بلوچستان کے مظلوموں کی آواز بن کر سچ کی تلاش میں نکلتے تھے، جو دوسروں کے غم کو بریکنگ نیوز اور ہیڈ لائنز بناتے تھے اس دن تقدیر کی ستم ظریفی دیکھیے کہ وہ خود اپنے ہی اداروں کے لیے ایک المناک اور خونچکاں خبر بن گئے۔ جن ہاتھوں میں کیمرے اور مائیک تھے، وہ سچائی کو محفوظ کرتے کرتے خود تاریخ کا حصہ بن گئے۔
اس ایک دھماکے نے صرف جسمانی جانیں نہیں لیں، بلکہ کئی ماؤں کی گودیں سونی کردیں، معصوم بچوں کے سروں سے شفقت کی چھت اٹھا لی اور بوڑھے والدین کے بڑھاپے کی لاٹھیاں توڑ دیں۔ آج بھی بلوچستان کے کئی گھروں میں دروازے کی ساہٹ پر نگاہیں جم جاتی ہیں، جیسے کوئی ابھی کوٹ سنبھالے عدالت سے گھر لوٹنے والا ہو۔ آج بھی کچھ الماریوں میں رکھے سیاہ اور سفید کوٹ اپنے مالک کا انتظار کر رہے ہیں، اور کچھ میزوں پر قانون کی کتابیں ویسے ہی کھلی پڑی ہیں، جیسے ان کا پڑھنے والا ابھی آ کر اگلا صفحہ پلٹے گادس برس کا طویل عرصہ گزر چکا ہے، مگر 8 اگست کا سورج ہر سال ان ناپید زخموں کو پھر سے ہرا کر دیتا ہے۔
وقت کا کارواں آگے بڑھ گیا، بار رومز میں نئے چہرے آ گئے، عدالتوں میں نئی آوازیں گونجنے لگیں، مگر جو خلا 8 اگست کے شہداء چھوڑ گئے ہیں، وہ نہ کل پُر ہوسکا تھا اور نہ کبھی ہوسکے گا۔ سانحے کے بعد سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیشن نے نیشنل ایکشن پلان پر موٴثر عملدرآمد، جدید فرانزک نظام اور دہشت گرد تنظیموں کے قلع قمع کے لیے جامع سفارشات مرتب کی تھیں۔ وکلاء برادری اور سچائی کے جویا آج بھی پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ ان سفارشات پر کامل عملدرآمد ہی ان شہداء کے خون کا حقیقی احترام اور ان کے لواحقین کے لیے مداوا ہوگاآج سانحہ سول اسپتال کوئٹہ کی دسویں برسی کے موقع پر پوری قوم ان عظیم شہداء کو سلامِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ ان کے پسماندگان کے ہمت و حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے اور اس پختہ عزم کو دہراتی ہے کہ امن، انصاف اور آئین کی حکمرانی کے لیے دی گئی یہ عظیم قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی۔
بعض سانحات تاریخ کے بند صفحات میں دفن نہیں ہوتے، بلکہ قوموں کے اجتماعی حافظے اور دلوں کی دھڑکنوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور 8 اگست کا سانحہ بلوچستان کا وہ درد ہے جو کبھی پرانا نہیں ہوگا۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل