Sunday, August 09, 2026
 

آبنائے ہرمز پر طاقت اور سفارت کی کشمکش

 



دنیا کی بڑی جنگیں ہمیشہ میدان جنگ میں ختم نہیں ہوتیں، بعض اوقات ان کا فیصلہ اس وقت ہونا شروع ہوتا ہے جب توپوں کے خاموش ہونے سے پہلے ہی میز پر رکھے ہوئے کاغذوں کی سطریں ایک دوسرے کو للکارنے لگتی ہیں۔ آبنائے ہرمز کے گرد موجودہ کشمکش بھی اسی مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف واشنگٹن جنگ کے خاتمے کے بعد تیل و گیس کی ترسیل کو معمول پر لانے کی امید ظاہر کر رہا ہے، دوسری طرف تہران آبنائے کے دروازے کو محض ایک بحری راستہ نہیں بلکہ اپنی جنگی، سفارتی اور اقتصادی قوت کے اظہار کا وسیلہ بنا کر مذاکرات کی میز پر بیٹھا ہے۔ اس منظرنامے میں اصل سوال یہ نہیں کہ ہرمز کب کھلے گا، بلکہ یہ ہے کہ اسے کھولنے کی قیمت کون طے کرے گا اور اس قیمت کی ادائیگی کس سیاسی حقیقت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوگی۔ ایران کے موجودہ موقف سے واضح ہے کہ تہران آبنائے کی بحری آمدورفت کو کسی معمولی انتظامی معاملے کے طور پر نہیں دیکھ رہا۔ عمان کے ساتھ مذاکرات کو مثبت قرار دیے جانے کے باوجود ایرانی قیادت یہ فرق برقرار رکھ رہی ہے کہ تکنیکی یا انتظامی سمجھوتا اور آبنائے کو مکمل طور پر کھولنے کا فیصلہ دو الگ معاملات ہیں۔ اس امتیاز میں تہران کی مذاکراتی حکمت عملی چھپی ہوئی ہے۔ ایران اگر فوری طور پر راستہ کھول دیتا ہے تو اس کے پاس جنگ کے بعد حاصل ہونے والا سب سے موثر دباؤ کا ذریعہ کمزور پڑ سکتا ہے، جب کہ شرائط منوانے سے پہلے اسے برقرار رکھنا امریکا پر مسلسل سیاسی و معاشی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ ایرانی مطالبات کی نوعیت بھی اسی حکمت عملی کی غمازی کرتی ہے۔ جنگی نقصانات کا مکمل معاوضہ، امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی غیر مشروط بحالی ایسے مطالبات ہیں جنھیں واشنگٹن کے لیے قبول کرنا آسان نہیں۔ بالخصوص ہرجانے کا مطالبہ محض مالی معاملہ نہیں بلکہ جنگ کی ذمے داری، اس کے نتائج اور طاقت کے استعمال کی سیاسی قیمت سے متعلق ایک بنیادی سوال ہے، اگر امریکا ان شرائط کو مانتا ہے تو اسے نہ صرف ایران کے ساتھ ایک نئے توازن کو تسلیم کرنا ہوگا بلکہ اپنے اتحادیوں اور عالمی حریفوں کو بھی یہ پیغام دینا ہوگا کہ فوجی طاقت کے استعمال کے بعد مذاکرات میں رعایتیں حاصل کرنے کے بجائے بعض اوقات اس کی قیمت بھی ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے آنے والے بیانات میں بظاہر امید اور اندرونی سطح پر تشویش ایک ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ امریکی نائب صدر کی طرف سے یہ کہنا کہ ایران آبنائے سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، اس بات کی علامت ہے کہ امریکا کم از کم ایک ایسے راستے کی تلاش میں ہے جس کے ذریعے عالمی توانائی کی منڈی کو فوری دھچکے سے بچایا جا سکے، لیکن امریکی عسکری قیادت کی جانب سے جنگ محدود کرنے یا ختم کرنے کی ضرورت پر زور اس امید کے دوسری طرف موجود حقیقت کو نمایاں کرتا ہے۔ محض فضائی طاقت کے ذریعے ایران کو اپنی مرضی پر مجبور کرنا آسان نہیں اور طویل جنگ کی صورت میں امریکی اڈے، خلیجی اتحادی اور توانائی کی تنصیبات وسیع تر خطرے سے دوچار ہوسکتی ہیں۔ یہ تضاد امریکی پالیسی کی اصل کمزوری بن سکتا ہے۔ ایک طرف پینٹاگون یہ یقین دلانا چاہتا ہے کہ اس کے پاس جنگ جاری رکھنے کے لیے مطلوبہ گولہ بارود اور وسائل موجود ہیں، دوسری طرف جدید فضائی دفاعی ہتھیاروں اور انٹرسیپٹرز کی دستیابی سے متعلق خدشات یہ بتاتے ہیں کہ جنگ صرف اس بات کا نام نہیں کہ کتنے بم موجود ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ دشمن کی جوابی صلاحیت کے مقابلے میں کتنی دیر تک دفاع برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ جنگی ذخیرے کا حجم فتح کی ضمانت نہیں ہوتا، خصوصاً اس وقت جب مخالف ریاست کے پاس جغرافیہ، میزائل، علاقائی شراکت دار اور توانائی کے عالمی نظام کو متاثر کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔  ایران بھی اس حقیقت سے پوری طرح واقف ہے، اسی لیے تہران کی زبان میں جنگی اعتماد اور مذاکراتی آمادگی بیک وقت نظر آتی ہے۔ ایرانی صدر کا یہ کہنا کہ معاہدے کے لیے یہی بہترین وقت ہے کیونکہ ایران مضبوط اور متحد ہوکر جنگ سے نکلا ہے، دراصل ایک مخصوص سفارتی پیغام ہے۔ تہران مذاکرات کو شکست خوردہ فریق کی مجبوری کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہتا۔ وہ جنگ بندی یا سمجھوتے کو اپنی مزاحمت کے بعد حاصل ہونے والے سیاسی نتیجے کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ایرانی قیادت ایک طرف آخری وقت تک قیادت کے فیصلوں کے ساتھ کھڑے رہنے کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف یہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ مسائل ہمیشہ جنگ کے ذریعے حل نہیں کیے جاسکتے۔آبنائے ہرمز کی اہمیت اس تنازعے کو محض ایران اور امریکا کی دو طرفہ کشمکش نہیں رہنے دیتی۔ خلیجی ریاستوں کی تشویش، ٹینکر پر حملے کی مذمت، عمان کی محتاط سفارتی زبان، قطر کی تہران سے بات چیت اور عراق کی تیل کی برآمدات کے انتظام پر ایران سے گفتگو اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ کے اثرات اب کسی ایک دارالحکومت کی حدود میں مقید نہیں رہے۔ خلیج کی معیشت کا انحصار محفوظ بحری راستوں پر ہے، جب کہ دنیا کی توانائی کی منڈیاں اس آبنائے میں معمولی خلل کو بھی قیمتوں، انشورنس، ترسیل اور سرمایہ کاری کے فیصلوں میں محسوس کرتی ہیں۔ عمان کا کردار یہاں غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ مسقط تاریخی طور پر ایسے مواقع پر رابطے کا پل بنتا رہا ہے جہاں براہِ راست مذاکرات سیاسی طور پر دشوار ہوں، اگر ایران اور امریکا کے درمیان کسی وسیع تر مفاہمت کی بنیاد پڑتی ہے تو عمان کی موجودگی محض ثالثی نہیں بلکہ اعتماد سازی کا ایک ذریعہ بن سکتی ہے۔ تاہم یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ کسی انتظامی معاہدے کو فوری طور پر مکمل سیاسی سمجھوتا سمجھ لینا قبل از وقت ہوگا۔ ہرمز کا مسئلہ دراصل وسیع تر تنازعے کی ایک علامت ہے، اس کا پائیدار حل صرف جہاز رانی کے قواعد طے کرنے سے نہیں بلکہ جنگ، پابندیوں، معاوضے، علاقائی سلامتی اور باہمی ضمانتوں کے سوالات کو ایک جامع فریم ورک میں لانے سے ممکن ہوگا۔ اس سارے بحران میں سب سے زیادہ قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ فریقین اپنی اپنی داخلی سیاسی ضرورت کے مطابق کامیابی کی تعریف کر رہے ہیں۔ ایران کے لیے راستہ کھولنا اس وقت قابل قبول ہوگا جب اسے اس کے بدلے میں پابندیوں کے خاتمے، اثاثوں کی واپسی اور جنگی نقصانات کے ازالے جیسے ٹھوس نتائج ملیں۔ امریکا کے لیے کامیابی یہ ہوگی کہ توانائی کی ترسیل بحال ہو، اتحادی محفوظ رہیں اور ایران ایسی شرائط منوانے کی پوزیشن میں نہ آئے جو واشنگٹن کی عالمی ساکھ کو متاثر کریں۔ خلیجی ممالک کی ترجیح اس سے بھی مختلف ہے: انھیں محفوظ سمندری راستہ، مستحکم توانائی کی برآمدات اور اپنی سرزمین کو آیندہ محاذ بننے سے بچانا ہے۔یہیں سے سفارت کاری کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے، اگر امریکا ایران سے صرف یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ ہرمز کھول دے اور بدلے میں محض محدود یقین دہانیاں حاصل کرے، تو مذاکرات زیادہ دیر آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ اسی طرح اگر ایران آبنائے کو مستقل دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ہر مرحلے پر مطالبات بڑھاتا رہے تو خلیجی ممالک اور عالمی توانائی کی منڈی میں اس کے خلاف بے اعتمادی گہری ہوسکتی ہے۔ طاقت کا استعمال مذاکراتی قوت پیدا کرسکتا ہے، مگر پائیدار اعتماد پیدا نہیں کرتا۔ اس کے لیے ضمانت، شفافیت اور قابلِ عمل سمجھوتے درکار ہوتے ہیں۔ایسے ماحول میں اسلام آباد دوبارہ قابل اعتماد رابطہ کار کا کردار ادا کرے تو اس کی سفارتی اہمیت بڑھ سکتی ہے۔ تاہم ثالثی کی خواہش کو کسی فریق کی ترجمانی میں تبدیل ہونے سے روکنا ہوگا۔ خطے کو مزید جنگی اتحادوں کی نہیں، ایسے سیاسی بندوبست کی ضرورت ہے جس میں ایران کی سلامتی، خلیجی ریاستوں کے تحفظ، عالمی تجارت کی آزادی اور بڑی طاقتوں کی ذمے داری ایک ہی فریم میں دیکھی جائے۔ ہرمز کا مستقل امن اسی وقت ممکن ہوگا جب اسے دباؤ کے ہتھیار کے بجائے مشترکہ سلامتی کی راہداری سمجھا جائے۔ سب سے بہتر راستہ یہی ہے کہ ہرمز کو کسی فریق کی فتح یا شکست کی علامت بنانے کے بجائے اسے علاقائی سلامتی کے مشترکہ مسئلے میں تبدیل کیا جائے۔ جہاز رانی کے تحفظ، حملوں کی روک تھام، توانائی کی ترسیل، پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی اور جنگی نقصانات کے ازالے جیسے معاملات کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کرنے کے بجائے ایک مربوط مذاکراتی پیکیج تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ ایسا سمجھوتا ہی ایران کو اپنی عزت نفس محفوظ رکھنے، امریکا کو اپنی سیاسی پوزیشن بچانے اور خلیجی ریاستوں کو اپنی معاشی سلامتی یقینی بنانے کا راستہ دے سکتا ہے۔ آج آبنائے ہرمز پر کھڑا ہر ٹینکر محض تیل نہیں لے جا رہا؛ وہ عالمی معیشت کی اس کمزوری کی یاد دہانی بھی کرا رہا ہے کہ جغرافیہ کبھی کبھی پوری دنیا کی سیاست سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتا ہے، اگر واشنگٹن اور تہران اس حقیقت کو سمجھ لیتے ہیں تو موجودہ بحران ایک نئے علاقائی نظم کی ابتدا بن سکتا ہے، لیکن اگر دونوں فریق جنگ کے بعد بھی اپنی اپنی فتح کے بیانیے میں قید رہے تو ہرمز کا مسئلہ ایک عارضی بندش سے بڑھ کر مستقل عدمِ استحکام کا استعارہ بن جائے گا۔ اب فیصلہ میز پر ہونا چاہیے، کیونکہ سمندر کو میدانِ جنگ بنانا آسان ہے، مگر اسے دوبارہ امن کی گزرگاہ بنانا کہیں زیادہ بالغ قیادت کا تقاضا کرتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل