Sunday, August 09, 2026
 

میرا دوست، میرا بھائی، امیرالعظیم

 



یہ رواں سال31 جنوری کی شام تھی۔ میرے ہمدم دیرینہ طارق محمود احسن نے ہر سال کی طرح اس بار بھی اپنے دولت کدہ پر دوستوںکے لیے فش پارٹی کا بندوبست کر رکھا تھا۔ مجلس جوبن پر تھی۔ ہرکوئی اپنے اپنے نقطہء نظر سے حالات حاضرہ پر تبصرہ کر رہا تھا۔ اچانک ڈور بیل بجی۔ طارق صاحب دروازے کی طرف لپکے، اورجب واپس آئے تو ان کے ہمراہ امیر العظیم بھی مسکراتے ہوئے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے، اور شرکاے محفل کو’السلام علیکم‘ کہہ کے سیدھے میرے پاس ہی آ کے بیٹھ گئے۔ سر پرکریم کلر کی افغان ٹوپی، جو سردیوں میں ان کی پہچان بن چکی تھی، ہلکے بھورے رنگ کی شلوار قمیص کے اوپر نیلے رنگ کی گرم شال، اس طرح کہ اس سے ان کا گلا ڈھکا ہوا تھا۔ اس روز انھوں نے کچھ زیادہ بات نہیں کی اور بیشتر وقت سر جھکائے خاموش بیٹھے رہے۔ انھیں اس طرح گم صم دیکھ کر مجھے کچھ بے چینی سی محسوس ہوئی۔ مجھے علم تھا کہ ان کی گردن میں ٹیومر ہے، جس کا وہ برابر علاج کرا رہے ہیں، مگر تھوڑا عرصہ پہلے تک کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ ٹیومرکینسر بن چکا ہے۔ وہ خود بھی اس سے بے خبر تھے، بلکہ دو تین سال قبل ایک بار بتایا کہ سرجری کرا کے وہ اس ٹیومر سے مستقل نجات پانے کی سوچ رہے ہیں۔ ان کی یہ بات میرے ذہن میں تھی، جب میں نے اس بارے میں ان سے استفسار کیا۔ ’ ڈاکٹروںکی رائے ہے، فی الحال اس کی ضرورت نہیں۔‘ انھوں نے کہا،’ اللہ نے چاہا تو دوائیوں ہی سے آرام آ جائے گا‘۔ یہ بات ابھی بیچ میں تھی کہ طارق صاحب نے سامان کام و دہن کو میز پر سجانے کا آغازکر دیا۔ مگر، اس دوران جب انھوں نے ہماری طرف بھی دو پلیٹیں بڑھائی، تو امیر العظیم نے بڑی اپنائیت سے کہا،’میرے اور اصغر عبداللہ کے لیے ایک ہی پلیٹ رکھیں، ہم ’گجراتی بھائی‘ ایک ہی پلیٹ میں کھائیں گے‘۔ اس کے بعد انھوں نے خود تو مچھلی کا ایک ہی ٹکڑاکھایا، مگر میں جب ایک ختم کر چکا تو میری پلیٹ میں دو تین مزید ٹکڑے رکھوا دیے ۔ دعوت ابھی چل رہی تھی کہ اچانک وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ معلوم ہوا، انھیں کہیں اور بھی جانا ہے۔ اور پھر، جس طرح کچھ دیر پہلے وہ شال سے گلے کو ڈھانپے،گردن کو ایک طرف جھکائے، ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تھے، اسی طرح ’ السلام علیکم‘ کہتے ہوئے دروازے سے باہر نکل گئے۔ اس وقت کیا معلوم تھا، آج ان کو آخری بار دیکھ رہا ہوں، ’تیری گلی تک تو ہم نے دیکھا، پھر نجانے کدھر گیا وہ‘ ۔ امیر العظیم یوں تو پیدایشی لاہوری تھے، مگر گجرات سے اپنی نسبت وہ اس طرح جوڑتے تھے کہ پاکستان بننے کے بعد ان کے ماں باپ اور نانا نانی ( مشرقی پنجاب ) سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تو ان کا پہلا ٹھکانہ گجرات شہر محلہ مسلم آباد تھا، جو اس زمانے میں گیان پورہ کہلاتا تھا۔ ان کے والدین تو بعد ازاں لاہور منتقل ہو گئے، مگر نانا، نانی عمر بھر اسی محلہ میں رہے، جہاں ان کا گھر ہمارے گھر سے صرف چار مکانوں کے فاصلہ پر تھا۔ آج بھی اس گھر میں انھی کی اولاد مقیم ہے۔ ان کی نانی مجھے یاد ہے، ٹوپی والا پرانی طرزکا غرارہ نما برقعہ پہنتی تھیں، جس میں ٹوپی کے سامنے والے حصہ میں دیکھنے کے لیے جالی ٹائپ سوراخ ہوتے ہیں۔ وہ سوداسلف خریدنے کے لیے بازارآتے جاتے ہمارے گھر ضرور رکتیں، اور ہماری والدہ کے ساتھ بیٹھ کے گھنٹوں باتیں کیا کرتی تھیں۔ مشرقی پنجاب میں اپنے آبائی گھر اور بچھڑ جانے والے رشتے داروں کا ذکر کرتے ہوئے وہ اکثر آبدیدہ ہو جایا کرتی تھیں۔کبھی کبھی ہم بھی ان کی درد بھری کہانی سننے کے لیے پاس بیٹھ جاتے تھے۔ ان کے سفید ریش بزرگ شوہر، جو عام طور پر سفید کرتا پاجامہ، اچکن اور سر پر جناح کیپ پہنتے تھے، بہت خاموش طبع تھے، اورکم ہی گھر سے باہر نظر آتے تھے۔  امیرالعظیم پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر تھے، جب جنرل ضیاء نے طلبہ یونینز اور تنظیموںکوکالعدم قرار دیا۔ میں ان دنوں ہیلی کالج آف کامرس میں بی کام پارٹ فرسٹ میں پڑھتا تھا۔ طلبہ یونینز پر پابندی کا اعلان ہوتے ہی نیوکیمپس میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔ روزانہ ہی طلبہ کا ایک جلوس ہیلی کالج، لاء کالج سے ہوتا، مختلف شعبہ جات میں سے گزرتا ہوا، آئی آر ڈیپارٹمنٹ کے پاس آ کے ’جلسہ عام‘ کی صورت اختیار کر جاتا۔ اس جلسہ کے آخری اور سب سے پرجوش مقرر امیرالعظیم ہوتے تھے۔ طلبہ ان کے دیوانے تھے اور ان کے کہنے پرکچھ بھی کر گزرنے کے لیے تیار نظر آتے تھے۔ دوسری طرف پولیس بھی دن رات ان کے پیچھے لگی ہوتی۔ اس کا خیال تھا، اگر وہ امیرالعظیم کو پکڑنے میں کامیاب ہو جائے، تو کم ازکم یونیورسٹی کے ’حالات پرامن ہو جائیں گے۔ مگر ان کی گرفتاری آسان نہ تھی۔ وہ ان دنوں گھر پر ہوتے، نہ کیمپس میں کوئی جانتا تھا کہ آج رات کہاں سوئیں گے۔ پولیس جہاں بھی چھاپہ مارتی، وہ اس سے پہلے ہی کہیں اور منتقل ہو چکے ہوتے۔پولیس اور امیرالعظیم کے درمیان ہفتوں یہ آنکھ مچولی جاری رہی؛ تا آنکہ ایک روز جب وہ لاہور میں اپوزیشن کے ایک سیاستدان کے یہاں شادی کی تقریب میں مدعو تھے، تو ان کے پیچھے پیچھے پولیس بھی گھس آئی، اور انھیںکالر سے پکڑ کرکھینچتے ہوئے ساتھ لے گئی۔ نواب زادہ نصراللہ خان نے، جو خود بھی موقع پر موجود تھے ، اس پر مارشل لاء حکومت کے خلاف انتہائی سخت مذمتی بیان جاری کیا، اور اسی کے جواب میں جنرل ضیاء نے مشتعل ہو کر کہا تھا، ’امیرالعظیم ہو یا امیر الاعظم ، کچھ کیا ہی ہو گا تو پولیس نے پکڑا ہے‘۔ جنرل ضیاء کا یہ فوری اور براہ راست ردعمل اگلے روز تمام قومی اخبارات کی شہ سرخی بنا، جو اس وقت کی طلبہ سیاست میں امیر العظیم کی اہمیت اور مقبولیت کا اعتراف تھا۔ پھر، اس دوران جب کہ وہ قید تھے، ان کو جمعیت کا ناظم اعلیٰ منتخب کر لیا گیا، بلکہ کوٹ لکھپت جیل ہی میں ان کی حلف برداری ہوئی تھی۔ ہیلی کالج کے دنوں میں امیرالعظیم سے میری بس سرسری سی واقفیت تھی۔ ان سے براہ راست شناسائی بہت بعد میں اور بڑے ناخوشگوار انداز میں ہوئی۔ مثلاً؛ جب میں نے جمعیت سے استعفا دیا تو ان دنوں اتفاق سے وہی ناظم اعلیٰ تھے۔ پھر1993ء میں جب وہ جماعت کے اندر اور باہر قاضی حسین احمد کے ’اسلامی فرنٹ‘ کے پرجوش وکیل تھے، میں نے اس فرنٹ پر ایک تنقیدی تجزیہ لکھا، جسے اس وقت کے ایک قومی اخبار نے اپنے ادارتی صفحہ پر، عین انتخابی مہم کے دوران، مسلسل تین قسطوں میں نمایاں طور پر شائع کیا۔ چند روز بعد امیرالعظیم نے، جو اس وقت قاضی صاحب کے سیکریٹری اطلاعات تھے، اسی صفحہ پر اس کا تندوتیز اور ’طالب علمانہ‘ جوش و خروش سے جواب دیا۔ انتخابی نتائج نے اسلامی فرنٹ کے بارے میں میرے تجزیہ کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کردی، مگر، امیر العظیم اور میرے درمیان اس قلمی چشمک کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی سرد مہری کی برف کئی سال بعد اس وقت پگھلی، جب میں نے ’نوائے وقت‘ کے لیے قاضی حسین احمد کا انٹرویو کیا۔ وہ اب بھی ان کے سیکریٹری اطلاعات تھے۔ ایک بار اکٹھے مل بیٹھنے سے باہمی گلے شکوے جاتے رہے، تو ہمارے درمیان گجرات محلہ مسلم آباد سے جڑی’مشترکہ نسبت‘ کی دیرینہ محبت بھی عود کر آئی۔ رفتہ رفتہ ان کے ساتھ یہ دوستی اس طرح کے قلبی تعلق میں ڈھل گئی کہ میں ان کے ساتھ ہرغم، ہر خوشی شیئرکر سکتا تھا۔ یہ سہانی یادیں اس تنگنائے کالم میں سما نہیں سکتی ہیں۔ ان سے آخری رابطہ مئی کے وسط میں ٹیلی فون پر ہوا۔ معلوم نہ تھا کہ ان کی گردن کا ٹیومر لاعلاج قرار پا چکا ہے۔ میں نے کہا، ’مجھے آپ سے فوری ملنا ہے‘۔ پوچھا، ’کب؟‘ میں نے کہا، ’پرسوں ہفتہ کو۔‘ کہنے لگے، ’آ جائیں، میں منصورہ ہی ہوں گا‘۔ بعد میں مجھے لگا، جیسے آج وہ قدرے دقت سے بول رہے تھے۔ پر، میں نے اسے محض اپنا وسوسہ سمجھا۔ ہفتہ کوکال کی اور منتظر تھا کہ ابھی دوسری طرف سے ان کی مدھر آواز ابھرے گی، مگر بیل کی صدا جیسے کسی صحرا میں بھٹک رہی تھی۔ اتوار، سوموار، منگل، کئی روز گزر گئے، کوئی جواب نہیں آیا۔ یہ ان کے زندگی بھر کے معمول کے خلاف تھا۔ پھر ایک دوست کی زبانی معلوم ہوا کہ وہ منصورہ اسپتال میں اس منزل پر ہیںکہ دنیوی رابطوں سے بے نیازہو چکے ہیں۔ اور، اتفاق سے اس روز بھی ایک نجی نوعیت کے کام کے سلسلہ میں لاہور سے باہر تھا ، جب یہ اطلاع پہنچی کہ میرے دوست، میرے بھائی امیر العظیم ’’ قل ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العلمین‘‘ کا ورد کرتے اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے ہیں  ؎ جہان و کار جہان جملہ ہیچ بر ہیچ ست ہزار بار من این نکتہ کردہ ام تحقیق

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل