Monday, August 10, 2026
 

قائمہ کمیٹی: سیٹیں خالی رہنے پر میڈیکل کالجز میں میرٹ کم کرنے کی تجویز

 



میڈیکل کالج میں میرٹ کم کرنے کے باوجود سیٹیں خالی ہونے پر پاسنگ مارکس 50 فیصد رکھنے کی تجویز سامنے آگئی۔ قومی اسمبلی کی  قومی صحت کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس مہیش کمار کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں بعض کالجز کی جانب سے زائد فیسوں کی وصولی کی شکایات کا جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ میڈیکل کالج سالانہ 18 لاکھ تک فیس لے سکتے ہیں، کچھ کالجز کی شکایت ملی ہے کہ وہ فیس زیادہ لے رہے ہیں، اُن میڈیکل کالجز کی تفصیل شئیر کریں جو فیس زیادہ لے رہے ہیں۔  چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ میڈیکل کالجز میں میرٹ کم کرنے کے بعد بھی سیٹیں خالی رہی ہیں، کیوں نہ پاسنگ مارکس کو پچاس فیصد رکھ لیا جائے، پی ایم اینڈ ڈی سی انٹری ٹیسٹ کے سخت سوالات کی پرسنٹیج کم کر لی جائے۔  وفاقی وزیر صحت نے اجلاس میں بتایا کہ 61 کالجز نے فیسوں میں اضافہ کے لیے درخواست دی ہے، کوئی بھی میڈیکل کلج اپنی مرضی سے فیس نہیں بڑھا سکتا، 61 کالجز میں سے صرف 35 کالج فیس میں اضافے کی شرائط پوری کر سکے ہیں، جو میڈیکل کالجز شرائط پر پورا نہیں اترتے وہ فیس نہیں بڑھا سکتے۔ صدر پی ایم ڈی سی نے کہا کہ جن کالجز کے خلاف زیادہ فیس کی شکایات آئی ہیں ہم نے انہیں نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سیٹیں خالی والا ہمارا بھی مسئلہ ہے، جہاں فیس 35 لاکھ ہے ان کی کوئی سیٹ خالی نہیں، اگر فیس ایشو ہوتا تو زیادہ فیس والوں کی سیٹیں بھی خالی ہوتیں۔  صدر پی ایم ڈی سی نے کہا کہ 468 سیٹیں ہم نے پنجاب کے سرکاری کالجز کی بڑھا دی ہیں، فاٹا کی 315 سیٹیں بڑھا دی گئی ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ کہ سندھ کی کتنی سیٹیں بڑھی ہیں؟ جس پر صدر پی ایم ڈی سی نے کہا کہ سندھ کی سیٹیں نہیں بڑھائی گئیں کیونکہ انہوں نے اپلائی نہیں کیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل