Loading
لاہور پولیس نے تھانے میں لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے معاملے پر زیر حراست اے ایس آئی کے بیان کی روشنی میں پولی گرافک ٹیسٹ کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں ابہام ہے۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ غازی آباد تھانے میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کے معاملے پر انویسٹی گیشن پولیس کے اے ایس آئی عمران کا پولی گرافک ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ متاثرہ لڑکی کا سائیکاٹری ٹیسٹ بھی کروالیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی کے سائیکاٹری ٹیسٹ کی رپورٹ 18اگست کو موصول ہو گی جبکہ اے ایس آئی عمران کا کہنا ہے کہ لڑکی کو گداگری سے روکنے کے لیے تھانے لے کر آیا تھا اور اس سے زیادتی نہیں کی بلکہ کمرے میں کھانا کھلایا اور سمجھا کر واپس بھیج دیا تھا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں متاثرہ لڑکی سے زیادتی کے حوالے سے چیزوں میں ابہام ہے، پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی رپورٹ میں تمام چیزیں سامنے آجائیں گی۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور ذیشان رضا نے کہا کہ کیس کی نگرانی میں خود کر رہا ہوں اور قانون کے مطابق قصور وار کو سزا دی جائے گی۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی کے اور بھی ٹیسٹ کروائے گئے ہیں جن کی رپورٹ آنا باقی ہے۔
خیال رہے کہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور ذیشان رضا کی ہدایت پر انچارج انویسٹی گیشن غازی آباد انسپکٹر ناصر حمید، انچارج جینڈر سیل انسپکٹر فاطمہ اور تفتیشی افسر فریال ہائی پروف کیس کی تفتیش کر رہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل