Saturday, August 15, 2026
 

کراچی کی فضا اُداس ہے

 



کراچی کی فضاؤں میں لاقانونیت، جبر و تشدد، لاشوں کی بے حرمتی، شیر خوار اور ننھی بچیوں پر ہونے والا ظلم و ستم اور ان کی گھٹی ہوئی چیخیں شامل ہوگئی ہیں۔معاشرے میں امن و سکون کو ناپید کرنے اور قانون کی دھجیاں بکھیرنے والوں کی ہرگزکمی نہیں ہے۔ شہریوں کی حفاظت کا ذمہ لینے والے جب خود ہی گمراہ ہو جائیں تو سماج میں آہ و بکا، فریاد کی صدائیں اور ویرانوں میں تشدد زدہ نوجوانوں کی لاشیں ہی بچتی ہیں، اس کے ساتھ سوگوار لواحقین کا قافلہ ایک سانحے پر بین کرتے اور انصاف کے طلب گار ہوتے ہیں تو دوسرا حادثہ اور شرمناک واقعہ جنم لیتا ہے۔ ان دنوں ہر دوسرے روز عبرت ناک واقعات کا ظہور ہو رہا ہے۔  ڈیڑھ برس کی معصوم بچی جو چلنے اور بولنے سے قاصر ہے، وہ اپنے رشتے کے بھائی کے ساتھ خوشی خوشی باہر کی ہوا کھانے کے ساتھ ٹافی یا بسکٹ کی امید میں جاتی ہے۔ رشتے دار بھائی کی عمر صرف سترہ سال ہے لیکن وہ سترہ سالہ لڑکا حیوان کے روپ میں سامنے آتا ہے، اس کی ماں اپنی نیم مردہ بچی کو اسپتال لے کر دوڑتی ہے، ایک اسپتال پھر دوسرے اسپتال، اپنی جان جگر کی زندگی کو بچانے کے لیے کہ وہ اس کی اکلوتی اولاد تھی، شوہر پہلے ہی اسے ٹھکرا چکا تھا۔ جب چھوڑنا تھا تو شادی ہی کیوں کی تھی؟ ہمارے ملک میں شادی اور طلاق ایک کھیل بن کر رہ گیا ہے، جب چاہا نکاح کرکے اس کے دعوے دار بن بیٹھے اور معمولی سی بات پر بس تین بار الفاظ ادا کر دیے، منٹوں میں کھیل ختم۔ اس کی خاص وجہ تعلیم کا فقدان دینی اور نہ دنیوی، پاکستان کی نسل در نسل کو حیوان بنانے میں حکومتوں کا کردار ہے، اسکول و مدارس بنا تو دیے ہیں لیکن طالب علم نہیں اساتذہ نہیں اورکلاس روم، فرنیچر اور پنکھوں سے محروم، پانی پینے کے انتظام سے بھی لاپرواہ، اب یہ ادارے اصطبل بن گئے ہیں۔ اصطبل میں جانور ہی باندھے جاتے ہیں نہ، جنھیں پڑھ لکھ کر علم کی شمع روشن کرنا تھی اور وطن عزیز کے اندھیروں کو مٹانے کے لیے نیکی کا چراغ جلانا اور پھر دیے سے دیے جلانے کی رسم کو قائم رکھنا تھا۔ وہ محنت مزدوری اور شاہراہوں پر بھیک مانگنے پر مجبور کردیے گئے، گھروں کے کاموں پر لگا دیا گیا۔ گھر کے سارے کام بھی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے نمٹانے میں مصروف۔ بدلے میں بیگم صاحبہ کے جوتے اور ڈنڈوں کی برسات کر دی جاتی ہے، کسی کی آنکھ ضایع ہوئی تو کسی کی ٹانگ ٹوٹی اور وہ بے چارہ اپنی جان سے گیا۔ لڑکیوں کو مفت کا مال سمجھ کر برے کاموں میں ملوث کر دینا روزکا معمول ہے۔ ان بچوں کی زندگی برباد اور ان کی درد ناک موت کے بعد والدین بھی برے انجام کو پہنچے۔ اولاد بھی نہیں بچی جو ظلم سہہ کر ماہانہ بیس پچیس ہزار کما کر دیتی تھی، اس طرح معاشی بحران کے ساتھ وڈیروں کی کوٹھڑیوں میں محض محنت وہ بھی مفت کی محنت کروانے کے لیے انھیں قید میں رکھا گیا یا پھر اپنی اولاد کے قتل کے لیے انصاف کے لیے دھکے کھانے پر مجبور ہوئے۔ ہمارا ملک وہ ہے جہاں ہر چیز بکتی ہے، عزت، ابدان اور اس کے اعضا، مستورات، چھوٹی اور کم عمر لڑکیاں ساتھ میں قانون کا بھی کھلے بندوں خرید و فروخت کیا جاتا ہے،کسی امیر اور صاحب حیثیت شخص کی اولاد قتل و غارت میں ملوث ہوتی ہے تو اسے چھوڑ دیا جاتا ہے اور مقتول کے گھر والوں پر ملک چھوڑنے یا کیس واپس لینے پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں پنجاب میں غیر ملکی لڑکیوں کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا کہ قوم کے سر شرم سے جھک گئے جن کا کوئی قصور نہیں تھا لیکن قصور والے ذرا نہ شرمائے ، چونکہ انصاف اور اس کے رکھوالے بک چکے ہیں، بس سب کو پیسہ چاہیے دنیا میں اپنی جنت بنانے کے لیے۔ قابل غور یہ بات ہے روز بروز اغوا و تشدد کے درد ناک واقعات سامنے آ رہے ہیں لیکن قانون خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے وہ مجرمان کو سزا دینے سے قاصر ہے۔ منصفین کو حکومت ہر طرح کی مراعات اور لاکھوں روپے تنخواہ کی مدد میں ادا کرتی ہے لیکن ججز حضرات مجرموں کو سر عام یا بیچ چوراہے پر سزا دینے کے حق میں ہر گز نہیں ہیں ویسے تو بڑے سے بڑے مجرم کو پھانسی کی سزا نہ دینا قانون کا حصہ بن چکا ہے قاتل دندناتے پھرتے ہیں اور اپنے نہ کردہ گناہوں کی پاداش میں جیل میں یا قبر میں پہنچ جاتے ہیں اور آواز اٹھانے کی صورت میں بار بار پابہ زنجیر سلاسل کر دیا جاتا ہے۔ حبیب جالب نے یہ ہی تو کہا تھا اور پھر کیا ہوا وہ ہی جیل کی سلاخیں اور قید تنہائی۔ آج بھی سر پھرے حق کہتے ہیں اور جیل کی چار دیواری کے پیچھے دھکیل دیے جاتے ہیں۔ ان دنوں میر رضا علی کیس میں بھی کچھ ایسے ہی حالات سامنے آئے ہیں، میر رضا علی جوکہ کراچی کا ایک کامیاب بزنس مین تھا، چھوٹی عمر میں اس نے بڑی کامیابیاں حاصل کی تھیں اپنی محنت اور ذہانت کے بل پر آگے آیا تھا، افسوس کی بات یہ ہے کہ اسے گھنٹوں ذہنی اور جسمانی اذیت میں مبتلا رکھا گیا، اللہ اسے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور اس کے والدین کو ڈھیروں صبر عطا فرمائے۔ ماں باپ کے لیے اس کی تلاش اور پھر تشدد زدہ لاش کا ملنا اس کے پوسٹ مارٹم کے مراحل، قبرکشائی نے انھیں جس تکلیف سے گزارا، یہ ان کا ہی دل جانتا ہے۔ ہمارے ملک میں جینا مشکل ہوگیا ہے۔ پاکستان کسی کی جاگیر نہیں ہے، یہ ملک سب کا ہے اور ان کا تو خصوصی طور پر جن کے آبا و اجداد نے قربانیاں دیں۔ جان و مال قربان کیا سفر کی خونی داستانیں رقم کیں۔ 14 اگست کو مناتے ہوئے ان لوگوں کو ضرور ندامت ہوگی، جنھوں نے قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے رفقا کارکی انتھک محنت، جدوجہد اور جس مقصد کے لیے پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا اس پر ناعاقبت اندیشوں نے اپنے کالے کرتوتوں کی بنا پر پانی پھیر دیا۔ وطن عزیز میں بسنے والوں کی زندگیوں کو جیتے جی مار ڈالا۔ پانی،گیس اور بجلی کا رونا پیچھے رہ گیا ہے اب تو معصوم بچیوں کی عزت، نوجوانوں کی جان کو خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ شہر کراچی میں جنگل کا قانون بھی نہیں ہے بلکہ اس سے بدتر ہے۔ جسے چاہا، جب چاہا اٹھا کر لے گئے اور اب تو گھروں میں بھی پاکیزہ رشتوں کے ہاتھوں یہ کلیاں محفوظ نہیں ہیں۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ کسی پر اعتبار نہ کریں، خود اپنے بچوں کی حفاظت کا بیڑا اٹھائیں، خود بھی تعلیم حاصل کریں اور اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت پر پوری توجہ دیں۔ ان کے ساتھ دوستوں کی طرح وقت گزاریں تاکہ وہ اپنی ہر مشکل، ہر پریشانی اور ہر بات اپنے والدین کے ساتھ شیئرکر سکیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل