Tuesday, August 18, 2026
 

برطانیہ میں باحجاب مسلم خواتین کو سرعام ہراسانی اور قتل کی دھمکیاں کا سامنا

 



برطانیہ میں باحجاب مسلمان خواتین کو سڑکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر ہراسانی، گالم گلوچ، دھمکیوں اور جسمانی حملوں کا سامنا کرنے کے واقعات نے اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ میں مسلمان خواتین کے تجربات سامنے لائے گئے ہیں۔ ایک 21 سالہ مسلم لڑکی نے بتایا کہ اسے دورانِ سفر حجاب اور لباس کی وجہ سے بارہا توہین آمیز رویے، دھکے، کھینچا تانی، تھوکنے اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ تھوکنے، دھکے دینے، کھینچا تانی اور دیگر بدسلوکی کا سامنا تقریباً روزانہ کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث ہر واقعے کو پولیس تک لے جانا عملی طور پر انتہائی مشکل محسوس ہوتا ہے۔ ان کے بقول اگر وہ ہر مرتبہ پیش آنے والے واقعے کی شکایت درج کرانے لگیں تو ان کا زیادہ تر وقت پولیس اسٹیشن میں ہی گزرے گا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ واقعات کثرت سے پیش آرہے ہیں اور دیگر خواتین نے یہ سوچ لیا کہ ہر واقعے کو پولیس میں رپورٹ کرنے کے بجائے برداشت کرنا ہی آسان ہے۔ بی بی سی سے گفتگو میں مسلم لڑکی نے ایک اور بتایا کہ بس اسٹاپ پر ایک شخص نے میرے حجاب اور لباس کو دیکھ کر مجھے برا بھلا کہنا شروع کردیا اور نقاب اتارنے کو کہا۔ مسلم لڑکی کے بقول جب میں بس میں سوار ہوئی تو وہ شخص بھی بس میں آگیا اور مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے لگا۔ صورتحال اتنی سنگین ہوگئی کہ مجھے لگا کہ وہ جسمانی حملہ کرسکتا ہے۔ مسلمان نے لڑکی نے بتایا کہ تاہم اُس وقت بس میں موجود ایک مسافر نے مداخلت کی، جس کے بعد ڈرائیور نے اُس دھمکی دینے والے شخص کو بس سے اتار دیا۔ متاثرہ لڑکی نے کہا کہ اگر وہ مسافر میری مدد کے لیے آگے نہ بڑھتا تو اسے شاید شدید نوعیت کی چوٹیں بھی لگ سکتی تھیں۔ انہوں نے مدد کرنے والے شخص کا شکریہ بھی ادا کیا۔ متاثرہ خاتون نے بتایا کہ انہوں نے اسلاموفوبیا سے متعلق ایک واقعہ میٹروپولیٹن پولیس کو رپورٹ بھی کیا، تاہم ان کے مطابق پولیس افسر کا رویہ حوصلہ افزا نہیں تھا۔ خاتون کا کہنا تھا کہ انہیں محسوس ہوا کہ شکایت کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ ان کے مطابق کئی دوسری خواتین نے بھی پولیس کو اسلاموفوبک واقعات کی اطلاع دی لیکن پولیس کے مبینہ رویے نے انہیں آئندہ شکایت کرنے سے حوصلہ شکنی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی صورت میں اس طرح کا رویہ قابل قبول نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ شکایت درج کرانے والی خاتون پہلے ہی خوف اور دباؤ کی کیفیت سے گزر رہی ہوتی ہے۔ دوسری جانب میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ لندن میں کسی بھی کمیونٹی کو بدسلوکی یا خوف میں زندگی گزارنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے اور پولیس نفرت پر مبنی تمام جرائم سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔ میٹروپولیٹن پولیس کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ لندن میں اسلاموفوبک نفرت پر مبنی جرائم کو الگ سے ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ پولیس کے بقول فروری 2024 میں اس کے نئے کنیکٹ نظام میں مذہبی نفرت کے تحت مسلم کیٹیگری بھی شامل کی گئی۔ پولیس کے دستیاب اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اسلاموفوبک نفرت پر مبنی جرائم لندن میں ایک پرانا مسئلہ ہیں۔ مثال کے طور پر میٹ پولیس کے مطابق اپریل 2016 سے مارچ 2017 کے دوران 1,266 اسلاموفوبک جرائم ریکارڈ ہوئے، جبکہ اگلے سال یہ تعداد 1,665 تک پہنچ گئی، جو تقریباً 32 فیصد اضافہ تھا۔  پولیس نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ نفرت پر مبنی جرائم کے اعداد و شمار میں ایسے واقعات رہ جانے کا امکان موجود ہوتا ہے جو افسران کی جانب سے درست طریقے سے ہائیٹ کرائم کے طور پر درج نہ کیے جائیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل