Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کے تحت غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی آگئی ہے.
بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق 2025 میں 3 ہزار 567 بھارتی شہریوں کو امریکا سے ملک بدر کیا گیا جبکہ رواں سال 31 جولائی تک مزید 1 ہزار 273 بھارتی شہری واپس بھیجے گئے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ نئی دہلی مختلف حکومتوں کے ساتھ ملک بدری سے متعلق معاملات پر تعاون کررہا ہے۔
خیال رہے کہ صدر ٹرمپ کے موجودہ دور حکومت میں انتظامیہ کے وسیع تر امیگریشن کریک ڈاؤن کے دوران امریکی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی کارروائیوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔
صرف جولائی کے ماہ میں تقریباً 51 ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا یعنی روزانہ کی بنیاد پر 1645 تارکین وطن گرفتار ہوئے جو اس ادارے کی تاریخ میں ایک ماہ کے دوران گرفتاریوں کی بلند ترین تعداد ہے۔
گزشتہ ماہ جون میں بھی تقریباً 43 ہزار تارکین وطن کی گرفتاریاں ہوئی تھیں یعنی مسلسل دوسرے ماہ نیا ریکارڈ قائم ہوا۔ جون میں ہی امیگریشن حراستی مراکز میں 39 ہزار 500 سے زائد افراد لائے گئے تھے۔
امریکی حکام نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے لیے روزانہ 2 ہزار گرفتاریوں کا ہدف مقرر کیے جانے کی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے میں کوئی ’’ارِیسٹ کوٹا‘‘ موجود نہیں ہے۔
امریکی تنظیم Stop AAPI Hate نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے اعداد و شمار کے تجزیے میں بھی بھارتی شہریوں کے نمایاں طور پر متاثر ہونے کی نشاندہی کی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں ایشیائی باشندوں کی گرفتاری، حراست اور ملک بدری کی شرح سابقہ انتظامیہ کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
جنوری 2025 سے مارچ 2026 کے عرصے میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی کارروائیوں میں شامل ایشیائی افراد میں بھارتی شہریوں کا حصہ 28 فیصد تھا جو کسی بھی ایشیائی قومیت کا سب سے بڑا حصہ تھا۔
بھارت کے بعد چین 23 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا جبکہ ویتنامی شہریوں کا حصہ 10 فیصد تھا اور وہ تیسرے نمبر پر ہے،
تنظیم کے بقول 30 فیصد افراد نے خود یا اپنے کسی جاننے والے کے گرفتاری، حراست یا ملک بدری کے خطرے کا سامنا کرنے کی اطلاع دی جبکہ 28 فیصد نے امریکا چھوڑنے پر غور کرنے یا اس کی تیاری کرنے کا بتایا۔
سالانہ 10 لاکھ ملک بدری کا ہدف
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے بڑے پیمانے پر ملک بدری کو اپنی امیگریشن پالیسی کا مرکزی حصہ بنایا ہے اور حکومت سالانہ 10 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کے ہدف پر زور دے رہی ہے۔
جون میں امریکی امیگریشن حکام نے بتایا تھا کہ مالی سال کے دوران اب تک 3 لاکھ 56 ہزار سے زائد ملک بدریاں ہوچکی ہیں تاہم گرفتاریوں اور حتمی ملک بدری کے اعداد و شمار الگ الگ مراحل کی نمائندگی کرتے ہیں۔
دریں اثنا، ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن امریکا چھوڑ چکے ہیں، جن میں ایک بڑی تعداد رضاکارانہ طور پر واپس جانے والوں کی بھی ہے۔
اس کریک ڈاؤن کے ساتھ امیگریشن اہلکاروں کے استعمال کے لیے نئے آلات بھی زیر بحث ہیں۔ امریکی ادارے نے ایسے برقی دستانے خریدنے کا منصوبہ بنایا ہے جو براہِ راست جسم سے رابطے کی صورت میں دردناک برقی جھٹکا دے سکتے ہیں۔
رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکا ان دستانوں کی خریداری میں تقریباً 1 کروڑ سے 2 کروڑ ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل