Loading
برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لندن میں تعینات اسرائیلی ناظم امور کو وزارت خارجہ طلب کر لیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیلی ناظم الامور کی طلبی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو ای ون منصوبے کو فوری طور پر روکنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ ان ٹینڈرز کو منسوخ کرے اور مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کے تمام توسیعی اقدامات کو بغیر کسی تاخیر کے بند کرے۔
دوسری جانب آسٹریلیا نے غزہ میں 2024 کے دوران ایک آسٹریلوی امدادی کارکن کی فضائی حملے میں ہلاکت کے معاملے پر اسرائیلی سفیر کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ یہ قدم اسرائیلی فوج کی جانب سے اس واقعے پر کسی قسم کی فوجداری کارروائی شروع کرنے سے انکار کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
آسٹریلوی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسرائیلی دفاعی افواج خود اس بات کا اعتراف کر چکی ہیں کہ ورلڈ سینٹرل کچن کے کارکنوں کی گاڑیوں پر حملہ ان کے اپنے آپریشنل طریقہ کار میں سنگین ناکامی، غلط شناخت اور فیصلہ سازی میں ہولناک غلطیوں کا نتیجہ تھا، جس کے باوجود ذمہ داروں کا تعین نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ورلڈ سینٹرل کچن کے 7 امدادی کارکنوں کی ہلاکت کے معاملے میں ان کے فوجیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجداری کارروائی شروع کرنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں ہے۔ اس مؤقف پر عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل