Thursday, August 20, 2026
 

وفاقی آئینی عدالت وکلا کی التوا کی درخواست پر برہم، 20 ہزار روپے جرمانے ہوگا

 



وفاقی آئینی عدالت میں ایک سول مقدمے کی سماعت کے دوران وکلا کی جانب سے التوا مانگنے پر عدالت برہم ہوگئی۔ دوران سماعت اے او آر رفاقت حسین شاہ نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے کے وکیل خیبرپختونخوا میں سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں، جس پر جسٹس عامر فاروق نے سوال اٹھایا کہ کے پی میں لینڈ سلائیڈنگ تو ہوسکتی ہے، سیلاب کیسے؟ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ باہر جا کر آپ ہی کہتے ہیں کہ مقدمات کے فیصلے نہیں ہوتے۔ ہر روز عدالتوں میں مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے اور اگر یہی رویہ رہا تو مقدمات بڑھتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جرمانہ کریں تو بھی وکلا برا مانتے ہیں اور عدم پیروی پر مقدمہ خارج کریں تو بھی وکلا ناراض ہوتے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ کیس میں صرف ایک دن کا التوا ہوگا اور ایک دن کے التوا پر بھی 20 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر زیادہ التوا لینا ہے تو 2 لاکھ روپے جرمانہ کریں گے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے تو عدالتی جرمانے بھی بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وکیل خود بھی دلائل دے سکتے ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے مزید ریمارکس دیے کہ ایسے چلتا رہا تو اے او آر کا عہدہ ختم کردیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے ایک اجلاس میں اے او آرز کو ختم کرنے پر بات ہوئی تھی اور وہ خود اس اجلاس میں شریک تھے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل