Thursday, August 20, 2026
 

امریکا کی فلسطینی صدر محمود عباس کو اقوام متحدہ جانے سے روکنے کا فیصلہ

 



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو مسلسل دوسری مرتبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت اور خطاب کے لیے نیویارک آنے سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق محمود عباس اس سال 24 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے عمومی مباحثے سے خطاب کرنے والے ہیں۔ تاہم امریکا نے واشنگٹن آئندہ ماہ ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے محمود عباس کو ویزا جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلسطین اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو گزشتہ برس بھی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا آنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ تاہم امریکی پابندی برقرار رہنے کی صورت میں انہیں گزشتہ سال کی طرح ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ سال محمود عباس کو ویزا دینے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کے بعض اقدامات خطے میں امن کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ امریکا نے محمود عباس کو ویز نہ دینے کی وجوہات نہیں بتائی تاہم امریکی انتظامیہ نے فرانس اور سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس کی بھی مخالفت کی تھی جس کا مقصد اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنا تھا۔ امریکا نے اس کانفرنس کو حماس کے لیے انعام قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے اقدامات غزہ جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ امریکی فیصلے کو تبدیل کرانے کی کوشش میں محمود عباس نے گزشتہ ہفتے ترکیہ کے دورے کے دوران صدر رجب طیب اردوان سے درخواست کی کہ وہ اپنے اچھے دوست ڈونلڈ ٹرمپ سے اس معاملے پر بات کریں۔ فلسطینی حکام کے مطابق اردوان نے محمود عباس کی درخواست قبول کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان منگل کو ٹیلی فون پر گفتگو بھی ہوئی تھی۔ تاہم امریکی عہدیدار کی جانب سے بعد میں محمود عباس کے ویزے پر پابندی برقرار رہنے کی تصدیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اردوان امریکی صدر کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں کرسکے۔ اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار نے امریکی فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا، میزبان ملک کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرے گا اور ان ممالک کے وفود کے سربراہان کو اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دے گا جو جنرل اسمبلی سے خطاب کرنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کا مرکزی دفتر نیویارک میں واقع ہے اور امریکی حکومت میزبان ملک کی حیثیت سے اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کرنے والے غیر ملکی وفود کے داخلے سے متعلق اہم ذمہ داریاں رکھتی ہے۔    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل