Monday, August 24, 2026
 

مائیکل وان نے کیا غلط کہا؟

 



’میں نے پاکستان کی ایسی کمزور ٹیم کبھی نہیں دیکھی، کھلاڑی بالکل بے بس اور خوفزدہ دکھائی دے رہے ہیں‘، انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے گزشتہ دنوں ٹی وی پر یہ کہا۔ ’یہ گزشتہ 50 برسوں کی کمزور ترین پاکستانی ٹیم ہے‘، برطانوی اخبار ’ڈیلی ٹیلیگراف‘ کے رائٹر شیلڈ بیری نے یہ آرٹیکل لکھا۔ ’ایک خراب ٹیم پاکستان کیخلاف انگلینڈ کو 0-3 سے ٹیسٹ سیریز جیتنی چاہیے‘، سابق کرکٹر اسٹورٹ براڈ کا چند روز قبل یہ بیان سامنے آیا۔  یہ سب کچھ سننے کے بعد یقینی طور پر ہر پاکستانی کرکٹ شائق کا خون کھول اٹھا ہو گا لیکن اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا وان، براڈ یا بیری نے کچھ غلط کہا؟ کیا واقعی ہماری ٹیم آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں سب سے آخری نمبر پر نہیں؟ کیا ٹیسٹ رینکنگ کی 10 ٹیموں میں ہم آٹھویں درجے پر نہیں ہیں؟ کیا پلیئرز رینکنگ کے ٹاپ 10 میں بمشکل ہمارا ایک، ایک بولر یا بیٹر شامل نہیں، کیا ہم اپنے آخری 31 میں سے صرف 8 ٹیسٹ میں کامیاب نہیں ہوئے؟ کیا بنگلادیش نے بھی ہمیں گزشتہ دونوں سیریز میں کلین سوئپ نہیں کیا؟ کیا یہ غلط ہے کہ گزشتہ دنوں ہم نے ویسٹ انڈیز کی کمزور ٹیم کو جب ہرایا تو وہ دیار غیر میں 3 برس بعد ہماری پہلی ٹیسٹ فتح تھی، اگر یہ سب جھوٹ نہیں تو ہم اپنے گریبان میں جھانکنے کے بجائے کیوں سابق کرکٹرز یا میڈیا پر غصہ کر رہے ہیں۔ پہلے ایک بہانہ ہوتا تھا کہ فلاں کرکٹر کو نہیں منتخب کیا گیا اس لیے ہار گئے، اب مجھے بتائیں کہ کس ’بریڈمین‘ کو چھوڑ کر ٹیم انگلینڈ آئی جس کی وجہ سے بیٹنگ لائن کا اتنا خراب حال ہے، اب وقت وہ آ چکا جب پاکستان کرکٹ بھی تیزی سے  اپنے مداح کھوتی جا رہی ہے، جو لوگ اس بزنس سے وابستہ ہیں آپ ذرا ان سے پوچھیں کہ کتنے اسپانسرز دستیاب رہ گئے یا جو ہیں وہ کیا آفر کرتے ہیں۔ آپ میں سے بہت سے لوگوں کو یہ پتہ ہی نہیں ہو گا کہ ہاکی ٹیم ان دنوں ورلڈکپ کھیل رہی ہے جو جانتے ہیں وہ کپتان کے نام سے بھی واقف نہیں ہوں گے، بدقسمتی سے کرکٹ کا حال بھی تیزی سے ایسا ہوتا جا رہا ہے، اگر آئی سی سی سے ملنے والا آمدنی کا  حصہ یا پی ایس ایل فرنچائزز کی فیس ہٹا دیں تو پتا چلے گا کہ زمینی حقائق کیا ہیں، یا باہمی سیریز سے کتنی رقم مل رہی ہے، ہمارے پاس اس وقت بیچنے کیلیے کوئی کرکٹر نہیں رہا، ایک بابر اعظم ہی ہے جس نے خود 4 سال سے کوئی سنچری نہیں بنائی لیکن اس زوال کے باوجود وہ اب بھی سب سے بہتر ہے۔ چند برس قبل جب شاہد آفریدی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ملک میں نیا ٹیلنٹ نہیں آ رہا‘ تو سب ان کے پیچھے پڑ گئے، اب بتائیں کہ کیا وہ غلط تھے، یا اگر ٹیلنٹ ہے تو سامنے کیوں نہیں آ رہا؟ جو سلیکٹرز باصلاحیت کرکٹرز کی تلاش نہیں کر سکتے وہ کیوں عہدوں پر برقرار ہیں؟ آسمان پر بادلوں کی موجودگی میں جس تیز پچ پر انگلینڈ نے پاکستانی ٹیم کو 171 اور پھر 135 رنز پر  آؤٹ کیا وہاں ہمارے پیسرز کا یہ حال تھا کہ کئی بار محمد رضوان اسپنر کی طرح وکٹوں کے قریب  کیپنگ کر رہے تھے، وہ پاکستان جس کے فاسٹ بولر شعیب اختر نے 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کا ریکارڈ بنایا، جہاں وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے بولرز ہوا کرتے تھے وہاں اب 70 کی اسپیڈ والے بولرز ہی باقی رہ گئے ہیں۔ علی رضا کا بڑا نام ہے لیکن کیا موجودہ فٹنس میں وہ تین چار اوورز سے زیادہ کا اسپیل کر سکتے ہیں؟ زیادہ دور نہیں جاتے آپ حالیہ چیمپئنز کپ کو دیکھ لیں کس نوجوان بولر نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا؟ چلیں مان لیتے ہیں اسپیڈ سب کچھ نہیں ہوتی لیکن کس کے پاس ایسی سوئنگ ہے جو حریف بیٹرز کو مشکلات کا شکار کر سکے، ماضی میں ہمارے پاس عظیم آل راؤنڈرز ہوا کرتے تھے، بولرز بھی بیٹنگ میں کچھ نہ کچھ حصہ ڈالتے، اب تو آخر کی چار پانچ وکٹیں سوکھے پتوں کی طرح بکھر جاتی ہیں، ڈیڈ پچ پر تو پھر بھی بیٹرز کچھ کر جاتے ہیں لیکن جہاں جاندار ٹریک ہو ان کی ٹانگیں کانپنے لگ جاتی ہیں، کوئی سینئر کھلاڑی بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں سب کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ اتنا پرفارم کر جاؤں کہ اگلا میچ کھیل سکوں، ٹیم کا کوئی نہیں سوچتا۔ امام الحق کی پرفارمنس نکال کر دیکھ لیں سوائے راولپنڈی کے ان سے کہیں اسکور ہی نہیں ہوتا، اذان اویس یقینی طور پر باصلاحیت ہیں لیکن اس کا اظہار بھی تو کریں،کیا ایک اننگز پر وہ ہمیشہ کھیلتے رہیں گے، سعود شکیل اور شان مسعود بھی تسلسل سے پرفارم نہیں کر پاتے، بابر اعظم کی تھوڑی فارم بحال ہوئی تو کپتانی کا بوجھ خود پر سوار کرلیا اب فٹنس مسائل سے بھی پریشان ہیں۔ سلمان علی آغا کی کوئی کارکردگی نہیں لیکن وہ ٹیم کے کپتان ہیں، اس سے بڑا المیہ کیا ہو گا، رضوان ٹیسٹ میچز میں چھکے لگانے کی کوشش میں آؤٹ ہو کر ٹیم کو بیچ منجھدار میں چھوڑ جاتے ہیں، عبداللہ شفیق اتفاقی طور پر ٹیم میں واپس آئے اور ایک طرح سے اچھا ہی ہوا ورنہ بیٹنگ لائن کا مزید خراب حال ہوتا۔ ٹیم کے ہارنے سے زیادہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کھلاڑی اب اس کے عادی بھی ہو چکے۔ انہیں شکست سے کوئی فرق نہیں پڑتا، سلیکٹرز بھی اپنی جگہ ڈٹے رہتے ہیں، ڈومیسٹک کرکٹ کا پہلے ڈپارٹمنٹس ختم کر کے تیاپانچہ کیا گیا اس کے بعد جب بحالی ہوئی تو اب زیادہ ٹیلنٹ نہیں مل رہا، ہر سال نظام بھی تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ انڈیا کے نئے پلیئرز سنچریاں بنا کر 10 وکٹیں لے کر ٹیم کو فتح دلا رہے ہیں ہمارے ینگسٹرز کہاں ہیں؟ حالات کی ستم ظریفی یہ ہے کہ ’لارڈز کے ہیرو‘ سلمان بٹ اب لیکچرز دے رہے ہوتے ہیں، انہوں نے  انگلش کرکٹرز کے بیانات پر ناراضی کا بھی اظہار کیا لیکن اس سے کیا فائدہ ہوگا، پلیئرز میدان میں پرفارم کریں، ٹیم کو فتح دلائیں تو یہی براڈ اور وان کل تعریفیں کر رہے ہوں گے، خود پر بھروسہ تو رکھیں، اگر پہلے ہی سوچ لیا کہ ہیڈنگلے میں اکثر ہار جاتے ہیں اب بھی ایسا ہو گیا تو کیا نیا ہے؟ ایسے میں کارکردگی بہتر کیسے ہو گی۔ ابھی گیند موجودہ ٹیم کے کورٹ میں ہی ہے، کھلاڑی بقیہ دونوں ٹیسٹ میچز میں بہترین پرفارم کرکے ناقدین کے منہ بند کردیں، اگر ایسا نہ ہوا تو پھر پی سی بی کو نہ صرف پلیئرز بلکہ سلیکشن کمیٹی کو بھی تبدیل کرکے نئے کھلاڑیوں کو موقع دینا ہوگا، ہار تو اب بھی رہے ہیں شاید اس تبدیلی کے بعد چند برسوں میں جیتنے لگیں، امید پر دنیا قائم ہے، اب بھی امید ہی رکھتے ہیں کہ شاید  کوئی بہتری آ جائے ورنہ وان اور براڈ کو ہی برابھلا کہہ کر دل کو تسلی دے دیتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل