Loading
سرکاری دفتر کی کسی الماری یا میز پر رکھی ایک فائل بظاہر چند کاغذوں، کچھ دستخطوں اور مہروں کا مجموعہ ہوتی ہے۔
اس فائل کے اندر ایک درخواست ہوتی ہے، سروس ریکارڈ ہوتا ہے، تقرری کا حکم نامہ ہوتا ہے اور کبھی کبھار ایسے سرکاری احکامات کی نقول ہوتی ہیں، جو حکومت خود برسوں پہلے جاری کر چکی ہوتی ہے۔
لیکن اس بے جان فائل کے پیچھے ایک جیتا جاگتا انسان اور اس کا پورا خاندان ہوتا ہے۔
وہ انسان جس نے اپنی پوری جوانی قوم کے بچوں کی تربیت اور سرکاری ملازمت کی نذر کر دی۔ جس نے روزانہ اسکول کا دروازہ کھولا، بچوں کو پڑھایا، امتحانات لیے، انتظامی فرائض نبھائے اور ہر ماہ کے آخر میں اپنی محدود تنخواہ کا انتظار کیا۔
پھر ایک دن، اپنی ملازمت کے آخری حصے میں، اُس نے اپنے ایک ایسے جائز حق کے لیے درخواست دی جسے حکومت کے اپنے قواعد و ضوابط تسلیم کرتے ہیں اور اس کے بعد شروع ہوا ایک ایسا انتظار جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔
ایک سال، دو سال، پانچ سال... اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دہائی نکل جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک سرکاری ملازم کا جائز حق اور اس کی زندگی اتنی ہی طویل ہو سکتی ہے جتنی سرکاری بے حسی یا ایک سرکاری فائل؟
گلبرگ اور لیاقت آباد ٹاؤن ایجوکیشن کراچی سے وابستہ اساتذہ اور تعلیمی ملازمین کے ٹائم اسکیل کا التوا بھی اِسی کڑوے اور دردناک سوال کو ایک بار پھر انتظامیہ کے سامنے لے آیا ہے۔
اصول اور قواعد کی بات
یہاں یہ وضاحت بے حد ضروری ہے کہ بات کسی ایسے ملازم کو بے جا فائدہ پہنچانے کی بالکل نہیں ہے جو قواعد کے مطابق اہلیت ہی نہ رکھتا ہو، بلکہ بات صرف اتنی ہے کہ جو ملازم متعلقہ قواعد، پالیسی اور سرکاری احکامات کے تحت تمام شرائط پوری کرتا ہے، اس کے کیس کا ایک حتمی اور شفاف فیصلہ ہونا چاہیے۔
اگر اس کا حق بنتا ہے تو اسے بغیر کسی تاخیر کے اس کا حق دیا جائے اور اگر کسی قانونی یا انتظامی وجہ سے حق نہیں بنتا، تو اسے واضح اور تحریری طور پر وجہ بتائی جائے۔ لیکن کسی ملازم کو غیر معینہ مدت تک آس اور امید کے چکر میں سولی پر لٹکائے رکھنا شاید کسی بھی حکومت کا سب سے کمزور اور غیر ذمہ دارانہ انتظامی رویہ ہے۔
کہانی آج سے شروع نہیں ہوئی
ٹائم اسکیل کے معاملے کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے ہمیں کچھ سال پیچھے جانا پڑے گا۔ حکومتِ سندھ کے محکمۂ خزانہ (Finance Department) کے سرکاری ریکارڈ میں 7 جون 2010 کا وہ تاریخ ساز حکم نامہ آج بھی موجود ہے، جس کا تعلق محکمۂ تعلیم و خواندگی کے اسکول سائیڈ کے تدریسی عملے کو ٹائم اسکیل کی بنیاد پر اعلیٰ گریڈ دینے سے تھا۔
بعد کے برسوں میں بھی محکمۂ خزانہ کی جانب سے اعلیٰ گریڈ اور ٹائم اسکیل کے حوالے سے متعدد وضاحتی احکامات جاری کیے گئے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ سندھ حکومت کے مالی سال 2010-11 کے بجٹ خطاب میں بھی اساتذہ کے اس دیرینہ مطالبے کا باقاعدہ ذکر کیا گیا تھا اور حکومت نے اس مقصد کے لیے بجٹ میں مالی گنجائش کا اعلان بھی کیا تھا۔
اس تمام ریکارڈ کا مطلب بالکل واضح ہے کہ ٹائم اسکیل کا معاملہ ملازمین کا کوئی نیا، اچانک یا نا جائز مطالبہ نہیں ہے۔ حکومت خود اس مسئلے کی اہمیت اور ملازمین کی اہلیت کو پالیسی کی سطح پر تسلیم کر چکی ہے۔
پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے واضح احکامات کے باوجود اتنے برس گزر جانے کے بعد بھی بعض ملازمین کو اپنے کیس کے فیصلے کے لیے دفاتر کے چکر کیوں کاٹنے پڑ رہے ہیں؟
اصل سوال: گلبرگ اور لیاقت آباد ہی کیوں؟
گلبرگ اور لیاقت آباد ٹاؤن ایجوکیشن کے متاثرہ اساتذہ اور ملازمین کا موقف ہے کہ کراچی کے دیگر تمام ٹاؤنز میں، جہاں ٹائم اسکیل کا نفاذ کامیابی سے ہو چکا ہے، وہاں اہل تدریسی ملازمین کے کیسز کو نمٹا کر انہیں ان کا حق دے دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس، صرف ان 2 ٹاؤنز کے متعدد کیسز سالہا سال سے دھول چاٹ رہے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں یہ معاملہ محض ایک انتظامی تاخیر سے بڑھ کر ناانصافی کا روپ دھار لیتا ہے، کیونکہ اب سوال یہ نہیں رہا کہ ’حکومت ٹائم اسکیل دیتی ہے یا نہیں؟‘ بلکہ اس سوال کا جواب تو سرکاری ریکارڈ پہلے ہی دے چکا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ ایک ہی صوبائی حکومت اور ایک ہی تعلیمی نظام کے تحت کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ دہرا معیار کیوں؟
اگر دیگر ٹاؤنز کے اساتذہ کو یہ حق مل سکتا ہے تو گلبرگ اور لیاقت آباد کے معاملے میں ایسی کون سی قانونی یا انتظامی رکاوٹ ہے جو آج تک دور نہیں ہو سکی؟
اگر کوئی تکنیکی رکاوٹ ہے تو اسے سامنے کیوں نہیں لایا جاتا؟
اگر کوئی دستاویزی کمی ہے تو متعلقہ استاد کو آگاہ کر کے اسے درست کرنے کا موقع کیوں نہیں دیا جاتا؟
اور اگر ملازم تمام تر قواعد کے مطابق اہل ہے تو پھر تاخیر کی اصل وجہ کیا ہے؟
فائل کی خاموشی: نہ ہاں، نہ نا!
سرکاری نظام میں کسی درخواست کو منظور کرنا ایک فیصلہ ہے اور اسے مسترد کر دینا بھی ایک فیصلہ ہے، لیکن سالہا سال تک کسی درخواست پر کوئی فیصلہ ہی نہ کرنا ایک ایسا انتظامی الجھاؤ ہے جو ملازم کو ذہنی اذیت میں مبتلا رکھتا ہے۔
ملازم کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس کا کیس کس مرحلے پر ہے۔ وہ جب دفتر جاتا ہے تو اسے روایتی جواب ملتا ہے کہ ’فائل پر کام ہو رہا ہے‘۔ وہ کچھ عرصے بعد دوبارہ جاتا ہے تو کوئی نیا اعتراض سامنے لا کر کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ وہ پھر کاغذات پورے کرتا ہے اور واپس آتا ہے۔
یوں ایک استاد اپنی تدریسی زندگی کے آخری اور قیمتی سال صرف ایک فائل کا پیچھا کرتے کرتے گزار دیتا ہے اور بالآخر ایک دن اس کی ریٹائرمنٹ کا وقت آ جاتا ہے۔
یہاں یہ سوال انتظامیہ کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ اگر کوئی ملازم تمام قواعد کے تحت اپنے سروس بینیفٹ کا اہل تھا، لیکن اس کے کیس پر فیصلہ صرف اس لیے نہیں ہو سکا کیونکہ فائل افسران کی میزوں پر گھومتی رہی، تو اس تاخیر اور نقصان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اس ملازم پر، یا اس سست رو نظام پر؟
ریٹائرڈ اور دنیا سے رخصت ہو جانے والے اساتذہ
اس پورے معاملے کا سب سے زیادہ دردناک اور انسانی پہلو وہ اساتذہ ہیں جو اپنے جائز حق کا انتظار کرتے کرتے ریٹائر ہو گئے۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان میں سے متعدد اساتذہ ایسے بھی ہیں جو اپنے ٹائم اسکیل کی حسرت دل میں لیے اس دنیا ہی سے رخصت ہو گئے۔
ایک استاد، جس نے اپنی زندگی کی تین چار دہائیاں قوم کے بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے میں گزار دیں، وہ اپنے آخری ایام میں اپنے ہی حق کے لیے نظام کے سامنے بے بس رہا۔ اس نے اپنی اولاد کی تعلیم، گھر کے راشن اور دیگر ضروریات کے لیے اس امید پر خود کو سنبھالے رکھا کہ شاید کل اس کی فائل منظور ہو جائے اور اسے اس کا مالی حق مل جائے۔
اگر کوئی ملازم اپنی سروس کے دوران قواعد کے مطابق کسی مالی یا سروس بینیفٹ کا اہل تھا، تو اس کا حق اس کے اس دنیا سے چلے جانے سے ختم نہیں ہو جاتا۔ یہ کوئی ہمدردی یا خیرات کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ریکارڈ اور انصاف کا معاملہ ہے۔ اگر وہ اہل تھا تو اس کے قانونی ورثا کو اس کا حق اور تمام بقایا جات ملنے چاہییں۔
قوم کے معمار اور نظام کا تضاد
ہم ہر فورم پر استاد کو ’قوم کا معمار‘ کہتے ہیں، اسے معاشرے کا روشن چراغ قرار دیتے ہیں اور اپنے بچوں کا مستقبل اس کے ہاتھوں میں سونپتے ہیں۔ لیکن جب وہی معمار اپنے بنیادی حقوق کے لیے سرکاری دفاتر کی راہداریوں میں دھکے کھاتا ہے، تو اسے نظام کی طرف سے صرف ایک ہی سبق ملتا ہے: ’انتظار کرو‘!
یہ تضاد صرف ایک محکمے یا کسی ایک افسر کی نااہلی کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ ہمارے پورے انتظامی اور بیوروکریٹک نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ حکومت اگر کوئی پالیسی بناتی ہے تو اس پر عمل درآمد کا طریقہ کار بھی اتنا ہی آسان اور شفاف ہونا چاہیے۔
حل کیا ہے؟ حکومت کے لیے تجاویز
اس مسئلے کو حل کرنا کوئی ناممکن یا پیچیدہ کام نہیں ہے۔ اگر حکومت اور متعلقہ حکام نیت صاف رکھیں تو درج ذیل اقدامات کے ذریعے اس مسئلے کو فوری حل کیا جا سکتا ہے:
جامع ڈیٹا بیس کی تیاری: گلبرگ اور لیاقت آباد ٹاؤن ایجوکیشن کے تمام متعلقہ اساتذہ، بشمول ریٹائرڈ اور متوفی ملازمین کا مکمل سروس ریکارڈ فوری طور پر مرتب کیا جائے۔
شفاف اسکروٹنی: ہر کیس کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جائے۔ جو اہل ہیں انہیں بلا تاخیر ٹائم اسکیل دیا جائے اور جو نااہل ہیں انہیں تحریری طور پر اس کی وجہ بتائی جائے۔
تقابلی جائزہ: کراچی کے جن ٹاؤنز میں ٹائم اسکیل نافذ ہو چکا ہے، ان کے ریکارڈ اور طریقہ کار کا گلبرگ اور لیاقت آباد کے کیسز سے موازنہ کیا جائے تاکہ انتظامی تفریق ختم ہو سکے۔
قانونی ورثا کے حقوق: جو اساتذہ وفات پا چکے ہیں، اگر وہ اہلیت کے معیار پر پورا اترتے تھے تو ان کے بقایا جات ان کی بیواؤں یا قانونی ورثا تک منتقل کیے جائیں۔
بات صرف پیسوں کی نہیں، عزت کی ہے
ٹائم اسکیل کو اگر صرف تنخواہ میں چند ہزار روپے کے اضافے کے طور پر دیکھا جائے تو شاید یہ بہت چھوٹا مسئلہ لگے، لیکن ایک ملازم اور استاد کے لیے یہ صرف پیسے کا معاملہ نہیں ہوتا۔ یہ اس کی دہائیوں پر محیط محنت کی پذیرائی کا معاملہ ہوتا ہے۔ یہ اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی معاشی سیکیورٹی کا معاملہ ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر، یہ اس کے اس اعتماد کی بحالی کا معاملہ ہوتا ہے جو اس نے اپنے ادارے اور ریاست پر قائم رکھا تھا۔
حکومت سے سوال
ٹائم اسکیل کے حق کا مطالبہ بالکل واضح اور آئینی ہے۔ یعنی اہل ملازمین کے کیسز کا فیصلہ قانون اور قواعد کے مطابق کیا جائے۔ اس معاملے کو کسی فرد واحد کے خلاف مہم بنانے کے بجائے دستاویزات اور ریکارڈ کی روشنی میں حل ہونا چاہیے۔
آج سوال حکومتِ سندھ، محکمۂ تعلیم، محکمۂ بلدیات اور محکمۂ خزانہ کے اعلیٰ حکام سے ہے کہ اگر کراچی کے دیگر ٹاؤنز کے اساتذہ کو ٹائم اسکیل مل سکتا ہے، تو گلبرگ اور لیاقت آباد کے اساتذہ کے ساتھ یہ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیوں؟ آخر کب تک اساتذہ کی فائلیں میزوں پر پڑی دھول چاٹتی رہیں گی؟
حکومت اگر سمجھتی ہے کہ کسی ملازم کا حق نہیں بنتا تو اسے واضح بتا دے اور اگر حق بنتا ہے تو فوراً دے، کیونکہ بعض اوقات فائلیں اتنی دیر سے کھلتی ہیں کہ ان کے اندر بند لوگوں کی زندگیاں اس سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل