Saturday, August 29, 2026
 

حزب اللہ ایران کے حکم پر مذاکرات سے انکار کر رہی ہے، امریکا کا الزام

 



امریکا نے ایران کی حمایت یافتہ لبنانی تنظیم حزب اللہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے لبنانی حکومت، امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات سے گریز کر رہی ہے۔ بیروت میں امریکی سفارتخانے نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ حزب اللہ فی الحال نہ لبنانی ریاست سے بات کرنا چاہتی ہے نہ امریکا سے اور نہ ہی اسرائیل سے، کیونکہ وہ مبینہ طور پر ایران سے ہدایات لے رہی ہے۔ امریکی سفارتخانے کے مطابق لبنان کی حکومت ملک کے مستقبل اور لبنانی عوام کی نمائندگی کے حوالے سے مذاکرات کے لیے واحد جائز فریق ہے۔ امریکا نے واضح کیا کہ وہ لبنانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور لبنان کو ایک محفوظ اور خودمختار ملک کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے، تاہم واشنگٹن کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے حزب اللہ کو اپنے ہتھیار ترک کرنا ہوں گے۔ امریکی سفارتخانے نے کہا کہ اگر حزب اللہ لبنانی حکومت کو یہ بتا دے کہ وہ اپنے ہتھیار ریاست کے حوالے کرنے کے لیے کب تیار ہے تو امریکا فریقین کے مؤقف کو قریب لانے میں مدد کی کوشش کر سکتا ہے۔ بیان میں حزب اللہ پر زور دیا گیا کہ وہ لبنان اور لبنانی عوام کے مفاد میں فیصلہ کرے۔ امریکی سفارتخانے کے مطابق یہ بیان ایک میڈیا ادارے کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں جاری کیا گیا۔ امریکا کی جانب سے حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب لبنان میں تنظیم کے ہتھیاروں، ریاستی خودمختاری اور خطے میں اس کے کردار پر سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ لبنان میں مستقبل کے فیصلے ملک کی منتخب حکومت اور ریاستی اداروں کے ذریعے ہونے چاہئیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل