Loading
ملک میں مہنگائی کی شرح ایک ماہ کے وقفے کے بعددوبارہ ڈبل ڈیجٹ میں داخل ہوگئی، اگست میں صارف قیمت اشاریہ کے تحت مہنگائی کی سالانہ شرح 11 اعشاریہ 2 فیصدریکارڈکی گئی۔
جولائی میں مہنگائی کی شرح 9۔2 فیصدتھی، تاہم گندم اور آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافے، پٹرولیم مصنوعات کی بلندقیمتوں اورٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے نے مہنگائی کودوبارہ دوہرے ہندسے میں پہنچادیا۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق اگست میں مہنگائی میں اضافہ شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں دیکھاگیا،جبکہ خوراک اور توانائی سمیت متعدد شعبوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔
حکومت کی جانب سے عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں کامکمل بوجھ صارفین پر منتقل کرنے اور پٹرولیم مصنوعات پر مختلف ٹیکس عائدکرنے کے باعث موٹرفیول کی قیمتیں گزشتہ سال اگست کے مقابلے میں تقریباً 25 فیصد بڑھ گئیں۔
پٹرول پر فی لیٹر تقریباً 116روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 101 روپے کے مختلف ٹیکس وصول کیے جارہے ہیں، جن میں پیٹرولیم لیوی،کاربن لیوی اورکسٹمز ڈیوٹی شامل ہیں۔
وزارت خزانہ نے اگست میں مہنگائی کی شرح 10 سے 11 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی تھی، تاہم اصل شرح اس اندازے سے بھی قدرے زیادہ رہی۔
وزارت خزانہ کے مطابق حالیہ قیمتوں کے دباؤاور عالمی سطح پر اشیائے ضروریہ اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات ملکی معیشت میں منتقل ہونے کے باعث قلیل مدت میں مہنگائی بلندرہنے کاامکان ہے۔
اعدادوشمارکے مطابق اگست میں شہری علاقوں میں خوراک کی مہنگائی 12۔1 فیصدجبکہ دیہی علاقوں میں 13۔2 فیصد تک پہنچ گئی۔
غیر غذائی مہنگائی شہری علاقوں میں 9۔4 فیصد اور دیہی علاقوں میں 11۔3 فیصد ریکارڈکی گئی۔
بنیادی مہنگائی،جس میں خوراک اور توانائی کی غیرمستحکم قیمتوں کو نکال دیاجاتاہے، بھی شہری اوردیہی دونوں علاقوں میں بڑھی اور تقریباً 8۔5 سے 8۔8 فیصدکی حدمیں رہی۔ سب سے زیادہ اضافہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ہوا،جہاں قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں 20۔2 فیصد بڑھ گئیں۔
پٹرول وڈیزل کی مسلسل بڑھتی قیمتوں کے باعث ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کی اہم وجہ قراردیاجارہاہے۔
خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے بھی عوام پر بوجھ بڑھادیا،اگست میں ٹماٹرکی قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں 128 فیصد،پیاز 125فیصد،گندم 87 فیصد اور آٹے کی قیمت 73 فیصد بڑھ گئی، دودھ اور اس سے بنی مصنوعات کی قیمتوں میں بھی تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا۔
دوسری جانب آلوکی قیمت میں 23 فیصد جبکہ چینی کی قیمت میں 17 فیصدکمی ریکارڈکی گئی۔ رواں مالی سال حکومت نے مہنگائی کاہدف 8۔2 فیصد مقررکررکھاہے،تاہم مالی سال کے ابتدائی دوماہ میں اوسط مہنگائی 10۔2 فیصد تک پہنچ گئی ہے،صورتحال سے شرح سودمیں مزیداضافے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق موجودہ مہنگائی میں بڑاحصہ انتظامی فیصلوں،ایندھن کی قیمتوں، ٹیکسوں اور رسدسے متعلق مسائل کاہے،حکومت کیلیے مالیاتی اہداف پورے کرنے کے ساتھ ساتھ خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں استحکام لانابڑاچیلنج ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل