Loading
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے روسی مسلح افواج کو یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملوں کی تیاری اور کارروائیوں کا حکم دے دیا۔
روسی میڈیا کے مطابق پیوٹن نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے بعد کہا کہ روسی افواج کو یوکرین کی توانائی تنصیبات کے خلاف بڑے حملے کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
پیوٹن کے مطابق یہ اقدام روسی شہری انفراسٹرکچر اور آئل ریفائنریز پر یوکرینی مسلح افواج کے حملوں کے جواب میں کیا جا رہا ہے۔
روسی صدر نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے روسی فضائی حدود کو بند کرنے سے متعلق بیان پر بھی ردعمل دیا۔
پیوٹن نے کہا کہ اگر ایسی بات کھلے عام کی جاتی ہے تو یہ ریاستی دہشت گردی کے اعلان کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں کیے جاتے، ہم اس کا جواب دینے کا راستہ تلاش کرلیں گے۔
دوسری جانب روسی میڈیا کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف سے ملاقات سے بھی انکار کردیا۔
رپورٹس کے مطابق جب ماسکو کو ان کے دورے کے مقصد سے متعلق معلومات ہوئیں تو پیوٹن نے ملاقات نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل