Loading
ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزن کم کرنے والی ایک تجرباتی دوا مستقبل میں مونجارو نامی دوا سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ البتہ، یہ دوا ابھی برطانیہ میں طبی استعمال کے لیے قانونی طور پر منظور شدہ نہیں ہے۔
تحقیق کے مطابق مونجارو میں موجود فعال جزو ٹیرزیپیٹائڈ کے استعمال سے مریضوں نے تقریباً 17 ماہ کے دوران اپنے جسمانی وزن کا اوسطاً 19 فی صد کم کیا۔
اس کے مقابلے میں تجرباتی دوا ریٹاٹروٹائڈ استعمال کرنے والے افراد نے تقریباً 48 ہفتوں میں اپنے جسمانی وزن کا 22.1 فی صد کم کیا۔ یہ دوا تاحال برطانیہ کی میڈیسنز اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی سے طبی استعمال کی منظوری حاصل نہیں کر سکی۔
اسی طرح ایک اور تجرباتی انجیکشن ایمی کریٹن کے استعمال سے بھی 36 ہفتوں کے دوران تقریباً 23.9 فی صد وزن کم ہونے کے اثرات سامنے آئے۔
تحقیق میں ان نتائج کا موازنہ سیماگلوٹائڈ پر مبنی انجیکشنز، جن میں ویگووی اور اوزمپک شامل ہیں، سے بھی کیا گیا۔ ان ادویات کے ذریعے اسی نوعیت کے عرصے میں افراد اپنے جسمانی وزن کا تقریباً 18 فی صد کم کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق نئی تجرباتی ادویات کے نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ تاہم، ان کے وسیع پیمانے پر طبی استعمال سے قبل مزید تحقیق اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے منظوری ضروری ہوگی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل