Thursday, September 03, 2026
 

بچوں کی بہتر غذائیت کیلیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا، عطا تارڑ

 



وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بچوں کی بہتر غذائیت کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ایکٹ فار نیوٹریشن کانفرنس  میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ غذائیت سے متعلق آگاہی مہم کو ایک وقتی سرگرمی نہیں ہونا چاہیے۔ غذائیت کے فروغ کے لیے سالانہ ایکشن پلان مرتب کیا جائے اور آگاہی مہم کو سال بھر جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ عطا تارڑ نے کہا کہ سول سوسائٹی، رائے عامہ بنانے والوں اور صحافتی تنظیموں سے تعاون ضروری ہے۔ بچوں کی بہتر غذائیت کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ والدین اپنے بچوں کے لیے بہترین فیصلہ کرنا چاہتے ہیں، مگر بعض اوقات غلط معلومات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ والدین کو نقصان دہ گھریلو علاج اور گمراہ کن تجارتی دعوؤں سے بچانا ضروری ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ والدین کو اس بارے میں آگاہی ہونی چاہیے کہ بچوں کے لیے کب پیشہ ورانہ طبی نگہداشت ضروری ہے۔ درست معلومات غذائیت سے متعلق فیصلوں کا بنیادی حصہ ہیں اور ان کی فراہمی حکومتی ذمہ داری ہے۔ عطا تارڑ نے کہا کہ یہ صرف صحت کا مسئلہ نہیں۔ ہوسکتا ہے ماں کے پاس غذا ہو لیکن ممکنہ استعمال کی آگہی نہ ہو، اس لیے درست پیغام درست لوگوں تک درست وقت پر پہنچنا چاہیے اور مس انفارمیشن کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ غلط متھ سے متعلق آگاہی ہونی چاہیے۔ گاؤں میں رہنے والی ماں کے پاس ہوسکتا ہے انٹرنیٹ نہ ہو، تاہم کمیونٹی کمیونیکیشن کے ذریعے ان تک پیغام پہنچایا جاسکتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج کے مباحثے سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مسائل سب کو معلوم ہیں لیکن مسئلے کا حل ہونا چاہیے۔ زچگی کے ساتھ والدین کی مشترکہ ذمہ داری کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ عطا تارڑ نے کہا کہ حاملہ خواتین کو غذائیت بخش خوراک، آرام اور طبی معاونت کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاندان کو حاملہ خواتین کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا ہوگا، جبکہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کی غذائیت اور بہتر پرورش کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ والد کو چھٹی کے مقصد کے حصول کے لیے اس کے استعمال کی نگرانی ضروری ہے۔ بچے کی پیدائش پر والد کی چھٹی واقعی خاندان اور ماں بچے کی مدد کے لیے استعمال ہو، اس کا جائزہ لینا ہوگا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بچوں کی غذائیت کے لیے شواہد پر مبنی طریقہ کار کو فروغ دینا ہوگا۔ غذائیت کے معاملے میں خاندانی ذمہ داری کو مشترکہ بنانا ہوگا اور غلط معلومات کے مقابلے میں درست معلومات تیزی سے عوام تک پہنچنی چاہئیں۔ عطا تارڑ نے کہا کہ ماہرین، پروفیشنلز اور ڈیجیٹل کریئیٹرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ غلط معلومات کے خلاف مؤثر ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے، صرف لوگوں تک پیغام پہنچانا آگاہی مہم کی کامیابی نہیں بلکہ رویوں میں تبدیلی ضروری ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آگاہی مہم کی کامیابی کا اصل معیار لوگوں کے رویوں میں مثبت تبدیلی ہے۔ خواتین کو حمل اور بچے کی پیدائش کے دوران غذائی معاونت تک رسائی ملنی چاہیے۔ عطا تارڑ کے مطابق ماں اور بچے کی بہتر صحت کے لیے غذائیت اور درست معلومات تک رسائی ضروری ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل