Thursday, September 03, 2026
 

لاہور: نئے صوبوں کے قیام پر اراکین اسمبلی اور عوام کی مختلف آراء

 



مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے نئے صوبوں کے قیام کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبے بننے چاہئیں، جتنے بڑے صوبے ہیں اتنے بڑے تو دنیا میں ملک بھی نہیں۔ اراکین اسمبلی کے مطابق انفراسٹرکچر کی ڈویلپمنٹ، صحت، تعلیم اور بے روزگاری سمیت دیگر مسائل بڑھ رہے ہیں، ان مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبے لسانی، مذہبی یا قومیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ آئین اور قانون کے تحت پارلیمنٹ کے منتخب نمائندے بنائیں، کسی پر مسلط نہ کیے جائیں۔ تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر اس حوالے سے بات چیت کریں اور لیڈران فیصلہ کریں کہ انہوں نے کرنا کیا ہے۔ ایکسپریس نیوز نے نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے اراکین اسمبلی اور عوام سے تفصیلی بات چیت کی تو اکثریت کی رائے تھی کہ نئے صوبے بننے چاہئیں، آبادی جتنی بڑھ چکی ہے توازن خراب ہوچکا ہے اور سسٹم بے بس ہوچکا ہے۔ شیخ امتیاز، آفتاب مان، نادیہ کھر، رشدہ لودھی، اعجاز عالم اور علی حیدر نیازی نے کہا کہ بلدیاتی نظام کو مضبوط کیا جائے، ترقی یافتہ ممالک میں بلدیاتی نظام بہت مؤثر ہے۔ آئین کے تحت صوبوں کو خودمختاری تو دے دی گئی مگر بلدیاتی نظام بحال نہ ہوسکا، یہی وجہ ہے کہ مسائل بڑھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چار پانچ صوبے اور بن جائیں تو مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ جتنا بڑا صوبہ پنجاب ہے اتنے بڑے تو دنیا میں ملک نہیں، نیوزی لینڈ سمیت کئی ممالک کی آبادی پنجاب سے کم ہے۔ گڈ گورننس کے لیے نئے صوبوں کا قیام ضروری ہے، مگر اس کے لیے منتخب حکومت چاہیے جو مل بیٹھ کر فیصلہ کرے۔ اراکین اسمبلی کے مطابق عوام کے بڑھتے ہوئے مسائل کا حل نئے یونٹس بنانے سے ہوگا، انفراسٹرکچر بہتر ہوگا، صحت، تعلیم اور بے روزگاری جیسے مسائل حل ہوں گے۔ چھوٹے قصبوں اور شہروں میں رہنے والوں کو لاہور اور کراچی آنا نہیں پڑے گا، جبکہ احتساب بھی ممکن ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی کسی کے پیچھے چھپ نہیں سکے گا، ہر صوبے کا اپنا بجٹ اور اپنے وسائل ہوں گے تو بازپرس میں بھی آسانی ہوگی۔ دوسری جانب عوام نے نئے صوبوں کے قیام کو سیاسی شعبدہ بازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے شوشہ چھوڑا گیا ہے۔ مہنگی بجلی، گیس اور پٹرول سستا ہوگا، ساری توجہ اس لوٹ مار سے ہٹانے کے لیے ہے۔ امجد اقبال، افتخار عارف اور بلال اصغر نے کہا کہ ستر برسوں سے یہی حکمران ٹولہ مسلط ہے، اگر انہوں نے ہی نئے صوبے بنانے ہیں تو پھر ضرورت نہیں، کیونکہ عوام کو مشکلات میں انہی حکمرانوں نے ڈالا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ہے، بچوں کو پڑھا نہیں سکتے اور صحت کا برا حال ہے۔ شاید امتیاز اور ایمان نے کہا کہ نئے صوبے بننے چاہئیں مگر چیک اینڈ بیلنس بھی ہو اور خودمختاری بھی ملے تاکہ ہمیں بھی حکمرانوں جیسی سفری، تعلیمی اور معاشی سہولیات مل سکیں۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب عوام کی بھلائی کو سامنے رکھ کر صوبے بنائے جائیں اور عوام کو بھی اتنے اختیارات ہوں کہ وہ منتخب نمائندوں سے سوال کرسکیں اور سب یکساں ترقی کرسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں وہاں گراس روٹ لیول پر اختیارات دیے گئے ہیں، مگر یہاں جس کو اختیار مل جائے وہ چھوڑنے پر راضی نہیں۔ عوام کی اتنی ہی فکر ہے تو سب سے پہلے مہنگائی کو کنٹرول کریں، عوام کو اعتماد میں لیں، ستر برسوں سے عوام کو بے وقوف ہی بنایا جا رہا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل