Loading
چینی ٹیکنالوجی کمپنی اینکر نے اسمارٹ ہوم سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے یوفی مائنڈ بیس کے نام سے ڈیوائس تیار کیا جو مصنوعی ذہانت سے لیس ہے اور ویڈیو کو پروسیس کرتا ہے جبکہ اس کو جرمنی میں ہونے والے ٹیک شو میں متعارف کروایا جائے گا۔
دی ویرج کی رپورٹ کے مطابق چینی کمپنی اینکر کی جانب سے یوفی مائنڈبیس لانچ کیا جا رہا ہے جو سیکیورٹی کیمروں کے لیے مقامی مصنوعی ذہانت کا مرکزہے، اس میں ڈیوائس پر ہی چلنے والا لارج لینگویج ماڈل (ایل ایل ایم) موجود ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ نظام آپ کی ویڈیو فوٹیج کو اس طرح پروسیس کر سکتا ہے کہ وہ کبھی آپ کے گھر سے باہر نہ جائے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ چینی کمپنی رواں ہفتے جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ہونے والے آئی ایف اے ٹیک شو میں اسمارٹ ہوم سیکیورٹی کی مزید کئی مصنوعات بھی متعارف کرا رہی ہے، جن میں ٹریک لائٹ کیم ایس ونS1، ایس 4 ویڈیو ڈور بیل اور ایک ونڈو کیمرا شامل ہے۔
چینی کمپنی اینکرنے مائنڈ بیس کو ‘گھر کے مرکزی دماغ’ کے طور پر پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ صرف یوفی کے سیکیورٹی کیمروں تک محدود نہیں بلکہ کمپنی اس سے پورے گھر کے لیے کنیکٹیویٹی سلوشن کے طور پر پیش کر رہی ہے، جس میں ڈیوائس پر ہی کمپیوٹنگ اور مقامی اسٹوریج کی سہولت موجود ہوگی۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ سیکیورٹی اس کا پہلا استعمال ہے، تاہم کمپنی مستقبل میں گھر کی بجلی کے انتظام کے لیے انرجی ایجنٹ، روبوٹ ویکیوم کلینرز کے لیے کلین ایجنٹ اور دیگر سہولیات بھی شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اینکر نے تاحال مائنڈ بیس کی قیمت یا مارکیٹ میں دستیابی کے حوالے سے شیڈول جاری نہیں کیا ہے تاہم رواں ہفتے اس کو باقاعدہ طور پر لانچ کیا جائے گا۔
اینکر کے مطابق مائنڈ بیس ایک میٹر کنٹرولر کے طور پر کام کرے گا اور میٹر 1.5 پر چلے گا، جو ڈیوائسز کی 40 سے زائد کیٹیگریز کو سپورٹ کرے گا، جن میں لائٹس، سینسرز اور ایچ وی اے سی سسٹمز شامل ہیں۔
یوفی سیکیورٹی کی ترجمان جینی جن نے بتایا کہ کمپنی کا میٹر کمپیٹ ایبل تھرڈ پارٹی کیمروں کو بھی مائنڈ بیس سے منسلک کرنے کا منصوبہ ہے۔
اس ڈیوائس کے بارے میں مزید بتایا گیا کہ مائنڈ بیس میں ڈوئل بینڈ وائی فائی، بلیو ٹوتھ، تھریڈ اور زیگ بی موجود ہوں گے، یہ ایپل کے ہوم کٹ سیکیور ویڈیو کے ساتھ بھی کام کرے گا، جس کا مطلب ہے کہ اس سے جڑے کیمرےایل کے اسمارٹ ہوم سسٹم کے ساتھ بھی استعمال کیے جا سکیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل