Friday, September 04, 2026
 

کیا سندھ کبھی تقسیم ہوا؟ اہم حقیقت تاریخ کے آئینے میں !

 



ملک میں نئے صوبوں کے قیام یا نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کی تجاویز سامنے آنے کے بعد ہر طرف اس حوالے سے گرما گرم بحث کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ بحث سندھ میں جاری ہے اور سندھ کی قوم پرست تنظیمیں سندھ کی کسی بھی طرز کی تقسیم کی تجویز کو یکسر مسترد کرچکی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اس حوالے سے صوبائی اسمبلی میں اپنا واضح موقف پیش کررہی ہے، جو نئے صوبوں کے قیام یا نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کے حوالے سے نفی میں ہے ۔ تاہم ایم کیو ایم پاکستان نئے صوبے کے قیام یا انتظانی یونٹس کی تشکیل کے معاملے پر کسی بھی قسم کی تاریخی تمیز کیے بغیر اس کے حق میں لب کشائی کررہی ہے۔ اس سے پہلے کہ جدید سندھ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے ،پہلے اس حقیقت کا اعتراف کرلیا جائے کہ تاریخی طور پر ’سندھ جغرافیائی اعتبار‘ سے کبھی تقسیم نہیں ہوا ، جیسا کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت بنگال اور پنجاب کو تقسیم کیا گیا تھا۔ سندھ کی جدید تاریخ کو اگر فرنگی سامراج (برطانوی راج )کے دور سے دیکھا جائے تو سن 1843میں فرنگیوں نے سندھ پر قبضہ کرکے اسے بمبئی پریزیڈنسی کے ساتھ منسلک کردیا تھا لیکن طویل سیاسی جدوجہد کے بعد سن 1936 میں سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کرکے ایک آزاد صوبے کا درجہ دیا گیا،(یہ انضمام یا علیحدگی تھی، سندھ کی اپنی کوئی داخلی تقسیم نہیں تھی)۔ اب ہم سندھ کی تاریخ کو تالپوروں کے دور میں کھنگالتے ہیں۔ تالپوروں کا دور حکومت سن 1783تا سن1843 تک رہا ۔اس دور میں سندھ سیاسی طور پر (انتظامی بنیادوںپر ) 3 خود مختار ریاستوں/سرکاروں پر مشتمل تھا۔ سن 1783 میں جنگ ہالانی میں کلہوڑا خاندان کو شکست دینے کے بعد میر فتح علی خان تالپور نے سندھ کی باگ ڈور سنبھالی اور طاقت کے توازن اور قبائلی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے سندھ کو تین مختلف حصوں میں تقسیم کر کے اسے تالپور خاندان کی الگ الگ شاخوں کے حوالے کر دیاتھا۔ جس میں ایک ’حیدرآباد ریاست‘ ہے جسے شہدانی سرکار کہا جاتا تھا۔ اس کے حکمران میر فتح علی خان تالپور اور ان کے تین بھائی تھے۔ یہ باہمی حکمرانی ’چویاری ‘یا چار بھائیوں کی حکومت کہلاتی تھی ،یہ سرکار لوئر سندھ پر مشتمل تھی۔ دوسری ’خیر پور ریاست‘ ہے جسے سہرا بانی سرکار کہا جاتا تھا۔ اس ریاست کے حاکم میر فتح علی خان کے چچا زاد بھائی میر سہراب خان تالپور تھے۔ یہ سرکار سندھ کے بالائی /شمالی حصے پر قائم تھی۔ یہ ریاست بعد میں انگریزوں کے پورے سندھ پر قبضے کے بعد بھی قائم رہی اور 1955 تک ایک نیم خود مختار شاہی ریاست (Princely State) کے طور پربرقرار رہی۔ تیسری ’میرپور خاص ریاست‘ ہے، جسے مانکانی سرکار کہا جاتا تھا۔ اس کے حکمران میر ٹھارو خان تالپور تھے ،یہ ریاست یا سرکار مشرقی سندھ /تھر کے میدانی علاقوں تک محیط تھی۔ اس خاندان کے مشہور حکمران میر شیر محمد خان تالپور تھے، جنہیں انگریزوں کے خلاف مزاحمت پر ’شیر سندھ‘کہا گیا، تاہم 1843 میں انگریز جرنیل سر چارلس نیپیئر نے میانی کی جنگ میں انہیں شکست دی اور پورے سندھ کو فتح کر کے اسے دوبارہ ایک(یکجا) کر دیا تھا۔ انگریزوں اور امیرانِ تالپور کے ادوار کے بعد اب ہم سندھ کی اس تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں جو ’مغل سلطنت اور کلہوڑا راج‘سے متعلق ہیں۔ سندھ کی تاریخ میں مغل سلطنت کا دور سن 1552تاسن1737تک ہے اور کلہوڑو دور سن 1737تا سن 1783 تک ہے۔ ان دونوں ادوار میں بھی سندھ انتظامی /سیاسی اعتبار سے مختلف حصوں میں تقسیم رہا۔ سب سے پہلے مغل دور کو لیتے ہیں۔ سن 1592میں مغل شہنشاہ اکبر کے سپہ سالار خانِ خاناں نے ترخان خاندان کو شکست دے کر سندھ کو مغل سلطنت کا حصہ بنایا اورمغلوں نے انتظامی اور دفاعی بنیادوں پر سندھ کو دو بڑے حصوں (سرکاروں)میں تقسیم کیا۔ ایک سرکار ’بکر یا بھکر سرکار تھی، جس کا مرکز شمالی سندھ کے بالائی حصے میں سکھر (بکر قلعہ) تھا جس پر دہلی سے براہِ راست مغل گورنر (نواب )مقرر کیے جاتے تھے۔ دوسری سرکار ’ٹھٹھہ‘ سرکار ‘تھی ،یہ جنوبی سندھ کے زیریں حصے میں قائم تھی، جس کا مرکز ٹھٹھہ شہر تھا اور جہاں ساحلی تجارت کی وجہ سے مغل نوابوں کی سخت نگرانی رہتی تھی۔ اس دور میں ’سیوستان‘ یعنی سیہون بھی ایک اہم انتظامی اکائی تھا، جو ان دونوں کے درمیان توازن قائم رکھتا تھا۔ مغل سلطنت کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر میاں یار محمد کلہوڑو اور میاں نور محمد کلہوڑو نے آہستہ آہستہ مغلوں سے پورا سندھ حاصل کر لیا، لیکن سن1739 میں جب نادر شاہ درانی نے ہندوستان پر حملہ کیا تو سندھ کی جغرافیائی صورتحال میں تبدیلی آئی اور سندھ مستقل طور پر دو حصوں (ریاستوں)میں تقسیم ہو گیاتھا ۔ پہلی کلہوڑو سرکار جس کا مرکز وسطی اور زیریں سندھ کے شہر خداآباد ، محمد آباد اور حیدرآباد رہے۔ میاں نور محمد کلہوڑو اور ان کے جانشین اس کے حکمران رہے، تاہم نادر شاہ کے حملے کے بعد یہ خطہ مغلوں کے بجائے کابل (افغانستان)کی درانی سلطنت کو سالانہ خراج (ٹیکس) دینے پر مجبور تھے۔یہی وہ دور تھا جب نادر شاہ کی مداخلت کے باعث کلہوڑا حکمرانوں کو بلوچستان کے خان آف قلات (میر محبت خان)کے ساتھ خونی جنگوں کے بعد ایک معاہدہ کرنا پڑا۔ سندھ کا ایک بہت بڑا اور زرخیز حصہ جس میں بکر، لاڑکانہ کا کچھ حصہ، ڈیرہ غازی خان کی سرحدیں اور سیوی (سبی)شامل تھے، وہ کلہوڑا حکومت کے ہاتھ سے نکل گئے اور قلات کی ریاست یا درانی سلطنت کے براہِ راست کنٹرول میں چلے گئے۔ کلہوڑا دور کے آخری برسوں میں جب تالپور قبائل اور کلہوڑا حکمرانوں کے درمیان خانہ جنگی شروع ہوئی تو سندھ کا شیرازہ بکھر گیا۔ سن1783 میں ’جنگ ہالانی‘ سے ٹھیک پہلے، کلہوڑا حکمران میاں عبدالنبی نے اپنی ڈوبتی ہوئی حکومت کو بچانے کے لیے سندھ کے کئی علاقے قلات کے خان اور افغانوں کو تحفے میں دے دیے، جس کی وجہ سے تالپوروں کو حکومت سنبھالتے ہی ایک کٹا پیٹاسندھ ملا اور ان کی جانب سے بھی سندھ کو تین حصوں منقسم رکھا گیا۔ یہاں ایک بار پھر یہ واضح کرتا چلوں کہ سندھ کی یہ تقسیم ’جاگیردرانہ نظام‘ کی طرز کی تھیں، جس میں مقامی حاکموں ، نوابوں اور منتظمین کو ٹیکس کی وصولی اور امن و امان کے قیام کی غرض سے زمینیں اور غیر معمولی اختیارات سونپے جاتے تھے،جسے ہم آج کے دور میں ’اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی‘سے تعبیر کرسکتے ہیں ،یا پھر اسے ایک مضبوط بلدیاتی نظام سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔ لہٰذا سندھ کی اس طرح کی تقسیم کو ’ جغرافیائی تقسیم ‘کسی صورت نہیں کہا جاسکتا۔ نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل