Friday, September 04, 2026
 

چلی؛ زخمی پینگوئنز کو صحت یابی میں مدد کیلیے تانبے کی جیکٹس پہنائی گئیں

 



چلی میں محققین نے زخمی پینگوئنز کے لیے سرخ رنگ کی فٹ جیکٹس میں تانبے اور زنک کے تار پر مشتمل ایک غیر معمولی لباس تیار کرلیا ہے اور محققین کو امید ہے کہ یہ لباس آبی پرندوں کو تیزی سے صحت یاب ہونے میں مدد دے گا۔ غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ماضی میں ماہرین ایسے لباس کے ذریعے زخمی کتوں اور بلیوں کے علاج میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں، اب وہ اس ٹیکنالوجی کو چلی میں پائے جانے والے ہمبولٹ پینگوئنز پر آزما رہے ہیں، جہاں اس خطرے سے دوچار نسل کی سب سے بڑی تعداد موجود ہے۔ چلی کے دارالحکومت سینتیاگو کے مضافات میں واقع جنگلی حیات کے پارک ’بوئن چڑیا گھر‘ کے ڈائریکٹر اِگناسیو ایدلسوآگا نے بتایا کہ کئی برسوں سے تانبے اور زنک جیسے عناصر پر مشتمل مائیکرو فائبرز والی جیکٹس پالتو جانوروں خاص طور پر کتوں اور بلیوں پر آزمائی جا رہی ہیں، جس سے جلد پر موجود زخم کی مرہم میں بڑی مدد ملی ہے۔ ماہرین نے اسی چڑیا گھر میں پینگوئنز کے جسم کی پیمائش کی تاکہ ان کے لیے پہلے باڈی سوٹس تیار کیے جا سکیں اور بتایا کہ ہم نے سوچنا شروع کیا کہ یہ ٹیکنالوجی پینگوئنز کے لیے کیوں استعمال نہیں کی جا سکتی۔ رپورٹ کے مطابق یہ تجربہ ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب چلی میں ہمبولٹ پینگوئنز کی تعداد میں تیزی سے کمی آ رہی ہے، چلی اور بین الاقوامی محققین نے 2024 اور 2025 میں ملک کی بڑے پیمانے پر کالونیوں کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ تین سال پہلے انہی مقامات کے مقابلے میں فعال گھونسلوں کی تعداد میں63 فیصد کمی ہوئی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ان پینگوئنز کو متعدد بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے، جن میں مچھلی پکڑنے کے جالوں میں پھنس جانا، پلاسٹک کی آلودگی، وبائیں اور خوراک کے حصول کے لیے ماہی گیری کی صنعت سے مقابلہ شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اب ہمبولٹ پینگوئنز کو دنیا کے سب سے زیادہ تباہ کن موسمیاتی نظاموں میں سے ایک ایل نینو کی زد کا بھی سامنا ہے، ایل نینو بحرالکاہل کے بعض حصوں میں پانی کو معمول سے زیادہ گرم کر دیتا ہے، جس کے باعث وہ ٹھنڈے پانی کی مچھلیاں تلاش کرنا مشکل ہو جاتی ہیں جن پر یہ پینگوئنز انحصار کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خوراک کی کمی پینگوئن والدین کو کھانے کی تلاش میں مزید دور جانے پر مجبور کرتی ہے، جس کے نتیجے میں انہیں اپنے گھونسلے پیچھے چھوڑنے پڑتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل