Loading
جرمنی کے شہر میونخ میں دفاعی کمپنیوں کے دفاتر اور قریبی تعمیراتی مقام پر رات گئے آتش گیر حملے کیے گئے، جس کے بعد حکام نے واقعے کے سیاسی پس منظر اور ممکنہ تخریب کاری کے خدشے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق پولیس نے بتایا کہ حملوں میں دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی Rohde & Schwarz کے قریب فائر بم پھینکے گئے۔ ایک آتش گیر ڈیوائس میں آگ لگ گئی جسے پولیس نے بجھا دیا، جبکہ دوسری ڈیوائس کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ واقعے میں کسی بڑے نقصان یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
جرمن حکام کے مطابق واقعے کے بعد دو بلغاری شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بلغاریہ کی وزارت خارجہ نے بھی دونوں شہریوں کو ایک مبینہ آتش زنی کی کوشش کی تحقیقات کے سلسلے میں حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی ہے۔
جرمن ریاست باویریا کے وزیر داخلہ یوآخیم ہیرمان نے کہا کہ ملک میں بنیادی ڈھانچے اور دفاعی کمپنیوں کے خلاف حملوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے حالیہ واقعات کو روس سے منسوب ممکنہ ’’ہائبرڈ حملوں‘‘ کے وسیع تر تناظر سے جوڑا، تاہم تازہ حملے میں روس کے براہ راست ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
جرمنی یوکرین کا اہم حمایتی اور نیٹو کا رکن ہے، جبکہ حکام حالیہ عرصے میں روس نواز تخریب کاری اور ہائبرڈ حملوں کے خدشات کے باعث سکیورٹی الرٹ پر ہیں۔
دوسری جانب ناروے نے یوکرین کی توانائی کمپنی نافتوگاز کے حق میں 4.22 ارب ڈالر کے معاوضے کے دعوے پر عمل درآمد کے لیے ایک روسی بحری جہاز پروفیسر مولچانوف کو بھی ضبط کرلیا ہے۔
حکام کے مطابق جہاز کو ناروے کے آرکٹک جزائر سوالبارڈ کے قریب قبضے میں لیا گیا۔ نافتوگاز نے یہ معاوضہ روس کی جانب سے 2014 میں کریمیا کے الحاق کے دوران اپنے اثاثوں پر قبضے کے معاملے میں حاصل کیا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل