Loading
راولپنڈی کے تھانہ صدر بیرونی کے علاقے حبیب لائن اڈیالہ روڈ پر سسرال میں مبینہ طور پر مظالم کی شکار ایک اور خاتون کو قتل کردیا گیا، واردات کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔
پولیس نے خاوند اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی، مدعی مقدمہ محمد ابراہیم کے مطابق وہ ڈیرہ غازی خان کا رہائشی اور زمینداری کرتا ہے، اس کی ہمشیرہ سندس کی شادی تنویر سے دو سال قبل ہوئی تھی، جس سے ایک بیٹا ہے جس کی عمر ایک سال ہے۔
مدعی کے مطابق بہنوئی تنویر دبئی میں ملازمت کرتا تھا اور چار ماہ قبل واپس آیا، تاہم شادی کے بعد سے ہمشیرہ اور خاوند کے مابین ناچاقی رہتی تھی۔
مدعی کے مطابق ہمشیرہ کا خاوند لڑکیوں سے فون پر باتیں کرتا رہتا اور زیادہ تر وقت گھر سے باہر گزارتا، جبکہ تین چار دن سے بہنوئی نے شک کی بنا پر ہمشیرہ کو ذہنی دباؤ میں رکھا ہوا تھا۔
مدعی کے مطابق ہمشیرہ کی والدہ سے بات ہوئی تو اس نے بتایا کہ سسرال والوں نے بہت زیادہ پریشان کر رکھا ہے۔
مدعی نے بتایا کہ ہمشیرہ کو کال کی تو کال بہنوئی کی ہمشیرہ فضاء نے اٹھائی اور بتایا کہ آپ کی ہمشیرہ نے خودکشی کرلی ہے۔
مدعی کے مطابق بھائیوں کے ساتھ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ہمشیرہ کو تازہ مہندی لگی ہوئی تھی، ہمشیرہ کو اس کے خاوند تنویر، عبدالعزیز اور دیگر نامعلوم افراد نے مل کر گلے میں پھندا ڈال کر قتل کردیا۔
پولیس کے مطابق موقع پر پہنچنے پر نعش کمرے میں بستر پر پڑی تھی، گلے میں دوپٹہ اور گردن پر پھندے کا نشان تھا۔
پولیس کے مطابق تمام فرانزک شواہد اکٹھے کرنے کے بعد نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق بظاہر جسم پر پھندے کے نشان کے علاوہ کسی قسم کے ظاہری زخم وغیرہ کا نشان نہیں ملا، پولیس کے مطابق ڈاکٹر نے فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ آنے پر حتمی رائے دینے کا عندیہ دیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل