Friday, September 04, 2026
 

یوکرین کیلئے 7 کروڑ یورو کا ناقص اسلحہ اسکینڈل، ایسٹونیا کے وزیر دفاع مستعفی

 



تالین: ایسٹونیا کے وزیر دفاع ہانو پیوکور نے اس اسکینڈل کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے جس میں یوکرین کے لیے توپ خانے کے گولے تیار کرنے والی ایک بھارتی انتظام والی کمپنی کو تقریباً 70 ملین یورو کی ادائیگی کی گئی، تاہم بعد میں گولہ بارود ناقص پایا گیا۔ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق اٹلی میں قائم کمپنی Datasel SRL کو یوکرینی فوج کے لیے گولے تیار کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اس سے قبل ایک بھی گولہ تیار یا فروخت نہیں کیا تھا۔ ایسٹونیا نے اگست 2024 میں یورپی یونین کے فوجی فنڈ سے رقم ادا کی تھی، تاکہ گولہ بارود نومبر 2024 تک یوکرین کے محاذ پر پہنچایا جاسکے۔ تاہم کمپنی نے ترسیل میں کئی مرتبہ تاخیر کی اور 2025 میں جب ایک کھیپ کا معائنہ کیا گیا تو گولے ناقص نکلے، جس کے بعد انہیں یوکرین نہیں بھیجا گیا۔ ہانو پیوکور نے ٹی وی پروگرام میں استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وزیر کی حیثیت سے وہ اپنے محکمے کی سیاسی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، چاہے اس معاملے میں ان کی ذاتی ذمہ داری نہ ہو۔ دوسری جانب Datasel SRL نے ایسٹونیا کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس نے تقریباً 59 ملین یورو مالیت کا بیشتر گولہ بارود فراہم کردیا تھا اور اگر ایسٹونیا نے معاہدہ ختم نہ کیا ہوتا تو وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرلیتی۔ ایسٹونیا کا مرکزی دفاعی خریداری ادارہ RKIK دفاعی سازوسامان کی خریداری اور ٹھیکوں کے عمل کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل