Monday, September 07, 2026
 

ہرمز آپریشن میں شامل ہوئے تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے، ایران کی جنوبی کوریا کو سخت وارننگ

 



تہران: ایران نے جنوبی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ اگر سیول نے خلیج فارس یا آبنائے ہرمز میں امریکا کی کارروائیوں میں فوجی شرکت یا اپنی فوجی موجودگی قائم کی تو اسے امریکی جارحیت کی حمایت تصور کیا جائے گا اور اس کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ جنوبی کوریا کی جانب سے خلیج یا آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی کارروائی میں شرکت ایران کے خلاف جنگ میں براہ راست شمولیت تصور ہوگی۔ ایران کی یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنوبی کوریا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔ سیول حکام کے مطابق مختلف عملی اقدامات پر غور کیا جارہا ہے، تاہم کسی حتمی فوجی تعیناتی کا فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ 이란과 대한민국의 관계는 64년이 넘는 역사를 지니고 있으며, 양국 관계는 줄곧 상호 존중을 바탕으로 발전해 왔습니다. 이란은 대한민국과의 우호 관계를 매우 중요하게 여기고 있습니다. 그러나 현재 이란 국민이 미국의 침략적 행위에 맞서 자위하고 있으며, 여성과 어린이를 상대로 한 미국의… pic.twitter.com/ThlIXzIyIN — Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) September 7, 2026 آبنائے ہرمز جنوبی کوریا کے لیے بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ اس کی توانائی کی درآمدات کا بڑا حصہ اسی اہم سمندری راستے سے وابستہ ہے۔ موجودہ کشیدگی کے باعث ہرمز میں بحری آمدورفت اور عالمی توانائی کی سپلائی پر بھی دباؤ بڑھا ہوا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل