Wednesday, September 09, 2026
 

ایران کا امریکی آبدوز قبضے میں لینے کا دعویٰ؛ امریکا کا ردعمل سامنے آگیا

 



ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی فوج کا ایک جدید بغیر پائلٹ والا ڈرون قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا جس پر امریکا کا ردعمل سامنے آگیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی دفاعی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکی زیرِ آب ڈرون ضرور ضائع ہوا ہے تاہم ایران کا کسی فعال امریکی فوجی آبدوز کو آپریشن کے دوران شکست دے کر قبضے میں لینے کا دعویٰ جھوٹ ہے۔ پینٹاگون کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جو ڈرون آبدوز ایران نے پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے وہ ایک دن سے زائد عرصے پہلے خراب ہوگیا تھا اور علاقائی پانیوں کا سروے کرتے ہوئے جاری آپریشنز کی معاونت کر رہا تھا۔ امریکی حکام نے اس زیرِ آب ڈرون Dive-LD کو پرانا ماڈل قرار دیا جسے امریکی دفاعی کمپنی Anduril نے تیار کیا ہے۔ اس میں حساس معلومات، خفیہ سونار یا ریڈار نظام موجود نہیں تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک ایسا خودکار نظام ہے جسے خطرناک ماحول میں کام کرنے کے لیے بنایا گیا ہے اور اس کے ضائع ہونے کا امکان پہلے سے اس کے ڈیزائن کا حصہ ہے۔ Dive-LD کیا ہے؟ یہ جدید ڈرون Dive-LD ایک تقریباً 5.8 میٹر (19 فٹ) طویل خودکار زیرِ آب گاڑی ہے جسے مختلف فوجی اور سمندری مشنز کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسے سمندری بارودی سرنگوں کی تلاش اور صفائی، سمندر کی تہہ کی نقشہ سازی، انٹیلی جنس اور زیرِ آب کیبلز و پائپ لائنوں کے معائنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔  اس کی زیادہ سے زیادہ آپریشنل گہرائی تقریباً 6 ہزار میٹر اور مسلسل آپریشن کی صلاحیت 10 دن تک بتائی جاتی ہے۔ ایک Dive-LD کی قیمت تقریباً 25 لاکھ ڈالر ہے۔ ایران کا ایک اور بڑا دعویٰ اسی دوران پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک امریکی ڈرون ایم یو ریئپر مار گرایا ہے تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل