Loading
کراچی کے علاقے منگھوپیر میں گھر میں ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے 16 سالہ نوجوان روشم کے اہلخانہ کا لاش کے ہمراہ چوتھے روز بھی دھرنا جاری ہے۔
مقتول کے اہلخانہ اور علاقہ مکین منگھوپیر تھانے کے باہر احتجاجی دھرنا دیکر بیٹھے ہیں۔ احتجاج میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ جب تک واقعے میں ملوث ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاتا، احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔
مقتول کے والد نے کہا کہ آج جمعہ کا دن ہے اور وہ نمازِ جمعہ بھی دھرنے کے مقام پر ہی ادا کریں گے، جب تک انصاف نہیں ملتا بیٹے کی تدفین نہیں کریں گے، انہیں ہر صورت اپنے بیٹے کے قاتلوں کی گرفتاری اور انصاف چاہیے۔
یاد رہے کہ 7 اور 8 ستمبر کی شب منگھو پیر کے علاقے اجتماع گاہ کے قریب مہران سٹی بلاک 6 گھر میں ڈکیتی کی واردات کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 16 سالہ روشم ولد ڈاکٹر روئیداد خان جاں بحق ہوگیا، مقتول نے حال ہی میں میٹرک کیا اور پوزیشن ہولڈر تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل