Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں سے متعلق ایک تازہ دعوے نے ایک بار پھر سوال اٹھا دیے ہیں کہ حملوں کے روز اور اس کے بعد وہ گراؤنڈ زیرو پر کب اور کہاں موجود تھے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نائن الیون حملوں کے 25 سال مکمل ہونے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ حملے کے وقت گراؤنڈ زیرو کے قریب تعمیراتی کارکنوں کے ایک گروپ کے ساتھ موجود تھے۔
انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ میں نے یونائیٹڈ اسٹیٹس اسٹیل بلڈنگ کو چرچراتے دیکھا اور قریب تھا وہ ہم پر گر جاتی لیکن عین وقت پر دو فائر فائٹرز مجھے بازوؤں سے اٹھا کر بھاگتے ہوئے محفوظ مقام پر لے گئے تھے۔
تاہم دستیاب عوامی ریکارڈ اس دعوے کی تصدیق نہیں کرتے جن کے مطابق 11 ستمبر 2001 کو حملوں کے وقت صدر ٹرمپ دراصل مڈ ٹاؤن مین ہٹن میں واقع اپنے ٹاور میں تھے جو حملے کے شکار ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاورز سے کئی میل دور تھا۔
ٹرمپ کے دعوے میں تضاد
ٹرمپ ماضی میں بھی 9/11 کے بعد گراؤنڈ زیرو جانے کے حوالے سے مختلف بیانات دے چکے ہیں۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ وہ حملوں کے ایک دو دن بعد وہاں گئے جبکہ بعد میں ان کا کہنا تھا کہ وہ عمارتوں کے گرنے کے فوراً بعد وہاں پہنچے تھے۔
آج یہ واقعہ دوبارہ بیان کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جب فائر فائٹرز نے انہیں مبینہ طور پر وہاں سے اٹھایا تو وہ خود عمارت کے اندر موجود نہیں تھے بلکہ عمارت زیادہ دور نہیں تھی اور اسے گرنے کا خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔
تازہ بیان میں ٹرمپ نے امدادی اور ملبہ صاف کرنے والی ٹیموں کا ذکر کرتے ہوئے فوری طور پر ’’میرے لوگوں‘‘ کا شکریہ بھی ادا کیا جس سے یہ تاثر ملا کہ انہوں نے گراؤنڈ زیرو پر کام کرنے والے افراد کا ایک گروپ منظم کیا تھا۔
تاہم اس دعوے کے حق میں بھی انہوں نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ کسی آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق ہوسکی ہے۔
اسٹیل بلڈنگ کا معاملہ
ٹرمپ نے جس عمارت کو ’’یونائیٹڈ اسٹیٹس اسٹیل بلڈنگ‘‘ کہا، وہ اب ون لبرٹی پلازا کے نام سے جانی جاتی ہے۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق اس عمارت نے اکتوبر 2001 میں کام شروع کیا اور آج بھی معمول کے مطابق استعمال میں ہے۔
عوامی ریکارڈ میں ایسی کوئی رپورٹ بھی سامنے نہیں آئی کہ عمارت اب تک ٹرمپ کے بیان کردہ انداز میں چرچراتی رہی ہو یا اس کے گرنے کا خطرہ لاحق ہوا ہو۔
9/11 کے بعد ٹرمپ کی موجودگی
بعض رپورٹوں میں البتہ یہ ذکر ملتا ہے کہ ٹرمپ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی جانب جانے والے پولیس اہلکاروں اور رضاکاروں سے ملے اور بعض کے ساتھ ہاتھ ملایا یا انہیں حوصلہ دیا۔
تاہم ان رپورٹوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ٹرمپ نے خود ملبہ ہٹانے، تلاش اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا یا ایسی کسی تعمیراتی ٹیم کی قیادت کی تھی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل