Friday, September 11, 2026
 

قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا 62واں اجلاس، یکساں ای فائلنگ نظام کی اصولی منظوری

 



چیف جسٹس پاکستان کی زیرِ صدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا 62واں اجلاس سپریم کورٹ میں منعقد ہوا، جس میں لاہور، پشاور اور سندھ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے شرکت کی۔ کمیٹی نے ادارہ جاتی استعداد بڑھانے، انصاف تک رسائی بہتر بنانے اور مؤثر نظامِ انصاف کے عزم کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں جبری گمشدگیوں کے مقدمات کے ازالے کے مجوزہ طریقہ کار اور کمیشن کے قیام پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزارتِ قانون و انصاف کو ہدایت کی گئی کہ جبری گمشدگیوں سے متعلق معاملہ جلد حتمی شکل دے کر آئندہ اجلاس میں جامع رپورٹ پیش کرے۔ قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے قانون کی حکمرانی کے اشاریے سے ہم آہنگ قومی عدالتی اصلاحاتی فریم ورک پر غور کیا۔ مجوزہ قانون کی حکمرانی ٹریکر کے اشاریے تمام ہائیکورٹس کو تجاویز کے لیے بھجوانے کی ہدایت کی گئی، جبکہ قانون کی حکمرانی ٹریکر کو 15 مارچ 2027 تک عدالتی نظام کی تمام سطحوں پر مکمل فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ قومی قانون کی حکمرانی اشاریے اور عدالتی اصلاحات ٹریکر پورٹل کی تیاری پر لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی کاوشوں کو سراہا گیا۔ انصاف کے شعبے کے لیے میڈیا اینڈ اسٹریٹجک کمیونیکیشنز سیل فوری طور پر مکمل فعال کرنے اور عدالتی ڈیٹا کی بروقت، درست اور ذمہ دارانہ ترسیل کے لیے معیاری طریقۂ کار وضع کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے قانون کی حکمرانی کے اشاریے پر پاکستان کی کارکردگی کے غیر جانبدارانہ جائزے کے لیے بین الاقوامی شہرت کے حامل ماہر کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ ہائیکورٹس کو اپنی ضروریات کے مطابق مجوزہ خواتین سہولت مراکز کے ڈیزائنز پر عملدرآمد کی اجازت دی گئی، جبکہ اسلام آباد کی ضلعی عدلیہ کے لیے روٹیشن پالیسی پر پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے قومی یکساں ای فائلنگ اور الیکٹرانک عدالتی ریکارڈ نظام کی اصولی منظوری دے دی۔ کمیٹی کے مطابق یکساں ای فائلنگ نظام عدالتی شعبے کی ڈیجیٹل تبدیلی، شفافیت، کارکردگی اور انصاف تک رسائی میں اہم پیش رفت ہوگا۔ ای فائلنگ نظام کے آزمائشی مرحلے میں بار کو ہر قدم پر اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ قومی یکساں ای فائلنگ نظام کا آزمائشی منصوبہ منتخب مقامات پر خاندانی مقدمات سے شروع کرنے کی منظوری دی گئی، جو فیملی کورٹ، ڈسٹرکٹ کورٹ، متعلقہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ تک مربوط ہوگا۔ قومی ای فائلنگ ٹیمپلیٹس کو حتمی شکل دینے کے لیے ہائیکورٹس اور بار کونسلز کے نمائندگان پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔ نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کو مجوزہ جوڈیشل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے لیے سائبر سکیورٹی فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔ قومی عدالتی تجزیاتی ڈیش بورڈ میں 17 ترجیحی کیٹیگریز کے کامیاب انضمام کو سراہا گیا۔ ہائیکورٹس کے رجسٹرارز کو ڈیش بورڈ پر ڈیٹا کی مکمل اور درست فراہمی یقینی بنانے، جبکہ ہائیکورٹس کو مقدمات کے فیصلوں، زیرِ التوا مقدمات اور پرانے مقدمات کے بوجھ سے متعلق ماہانہ کارکردگی بریفنگ کا نظام مستقل بنانے کی ہدایت کی گئی۔ کمیٹی نے مقررہ مدت کے مقدمات نمٹانے میں ضلعی عدلیہ کی غیر معمولی کارکردگی کو سراہا۔ یکم ستمبر 2025 سے 31 جولائی 2026 تک 14 لاکھ 67 ہزار 675 مقررہ مدت کے مقدمات کے فیصلے کیے گئے، جسے واضح مدت، قابلِ پیمائش اہداف اور مسلسل ادارہ جاتی نگرانی کی مؤثریت کا مظہر قرار دیا گیا۔ قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے ہائیکورٹس، ضلعی عدلیہ، جوڈیشل افسران اور عملے کی مشترکہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہائیکورٹس کو مقررہ مدت کے مقدمات کے فیصلوں کا نظام مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ ماڈل فوجداری عدالتوں نے یکم ستمبر 2025 سے 31 جولائی 2026 تک 91 ہزار 71 مقدمات کے فیصلے کیے، جبکہ ماڈل دیوانی عدالتوں نے اسی عرصے میں 42 ہزار 386 مقدمات کے فیصلے کیے۔ ماڈل فوجداری اور دیوانی عدالتوں نے مجموعی طور پر ایک لاکھ 33 ہزار 457 مقدمات کے فیصلے کیے۔ کمیٹی نے ماڈل عدالتوں کی کارکردگی کو ہائیکورٹس اور ضلعی عدلیہ کی مضبوط ادارہ جاتی وابستگی کا مظہر قرار دیا اور ہائیکورٹس کو پرانے اور دیرینہ زیرِ التوا مقدمات میں مزید کمی پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی۔ قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے ضلعی عدلیہ کے جوڈیشل افسران اور عملے کے لیے ہیلتھ انشورنس پالیسی اپنانے کا متفقہ فیصلہ کیا۔ تمام ہائیکورٹس لاہور ہائیکورٹ کی منظور شدہ ہیلتھ انشورنس پالیسی کی طرز پر طبی سہولیات فراہم کریں گی۔ کمیٹی نے عدالتی سروس کے لیے قانونی فریم ورک کی تشکیل کا عمل شروع کرنے کا بھی متفقہ فیصلہ کیا۔ ہائیکورٹس بلوچستان ڈسٹرکٹ جوڈیشری ایکٹ 2021 کی طرز پر عدالتی سروس کے لیے قانونی فریم ورک وضع کرسکتی ہیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل