Sunday, September 13, 2026
 

جنگ ستمبر سے آپریشن بنیان المرصوص تک

 



یہ 6ستمبر 1965ء کا دن ہے۔ ابھی پو پھٹ رہی ہے۔ ماحول میں کچھ خنکی ہے ۔اچانک لاہور کے نزدیک واقع پاک بھارت سرحد پہ تعینات پاکستان رینجرز کے جوانوں کو اندھیرے میں چند سائے نظر آئے۔ وہ ابھی انھیں عقابی نظروں سے تول رہے تھے کہ اجنبی لوگوں کی جانب سے فائرنگ ہونے لگی۔جلد ہر جگہ یہ خبر پھیل گئی کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا ہے۔ حملہ آورا فواج کہیں زیادہ بڑی تھیں اور اُن کے پاس لاتعداد اسلحہ بھی تھا۔ مگر پاکستان کی مہارت و دلیری سے لیس افواج نے دشمن کو جنگ میں ایسا مزہ چکھایا کہ وہ اپنے زخم چاٹتا دم دبا کر واپس فرار ہو گیا۔ اُس شکست سے بھارتی حکمران طبقے نے کوئی سبق نہیں سیکھا اور وقتاً فوقتاً بھارتی افواج اپنی طاقت کے زعم میں پاکستان پہ حملہ کرتی رہیں۔ افواج پاکستان نے بھی مگر ہر بار عدو کو ایسی عبرت ناک شکست دی کہ اگلے کئی برسوں تک اُسے سرزمین پاک اپنے قدموں سے ناپاک کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ آخری بار دونوں پڑوسی مئی 2025ء کی لڑائی میں باہم ٹکرائے۔یہ تو ایسا زبردست ٹکراؤ تھا کہ نہ صرف مغرور ومتکبر بھارتی وزیراعظم کی سٹّی گم ہوئی بلکہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر ایک طاقتور ملک بن کر ابھر آیا۔ جب 7 مئی 2025ء کی ابتدائی ساعت میں پاک فضائیہ کے J-10CE   اور JF-17 جنگی طیارے ہنگامی طور پر روانہ ہوئے، تو چند ہی مبصرین کو اندازہ تھا کہ یہ معرکہ فضائی جنگوں کی عالمی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک بن جائے گا۔ چند گھنٹوں کے اندر بھارت اور پاکستان کی سرحد پر بصری حد سے پرے (بی وی آر) فضائی جنگ کا ایک ایسا مقابلہ شروع ہو گیا جو دہائیوں میں نہیں دیکھا گیا تھا اور جس کا ملبہ متعدد بین الاقوامی ذرائع نے بھارتی فضائیہ کے رافیل سمیت دیگر طیاروں کی صورت شناخت کیا جو پنجاب کے علاقے میں بکھرا ہوا تھا۔ اس تباہی کا ذمے دار ہتھیار چین ساختہ PL-15 فضا سے فضا میں مار کرتا میزائل تھا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ صرف ایک طیارے کے گرائے جانے کی کہانی نہیں، یہ اس امر کا افتتاحی باب تھا کہ دنیا کس طرح پاکستانی افواج کی ذہانت و بہادری، چینی فوجی ٹیکنالوجی کی جدتوں، مغربی پلیٹ فارموں کی بالادستی کی حدود اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے بدلتے توازن کو دیکھتی ہے۔ یہ تنازع جو بھارت میں ’’آپریشن سندور‘‘ اور پاکستان میں ’’آپریشن بنیان المرصوص‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، 7 سے 10 مئی 2025ء تک چار دن جاری رہا۔ امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی نے پھر معرکہ آرائی روک دی۔ یہ 22 اپریل 2025ء کو بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہوئے ایک دہشت گردانہ حملے کے بعد شروع ہوا جس میں 26 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ ردِعمل میں بھارت نے پاکستانی کے زیرِ انتظام علاقے میں نو مقامات پر حملے کیے جنھیں اب بھی بھارتی اپوزیشن وزیراعظم مودی کا سیاسی ڈرامہ قرار دیتی ہے۔ یہ بہرحال ایک ایٹمی ریاست کی طرف سے دوسری ایٹمی ریاست کے علاقے کے خلاف فضائی طاقت کا محض دوسرا معلوم براہِ راست استعمال تھا…ایک ایسی درجہ بندی جو مئی2025ء کے اِس تصادم کو تاریخی طور پر غیر معمولی مقام دیتی ہے۔ یہ واقعہ اِس حقیقت سے مزید اہم ہو جاتا ہے کہ نتیجے میں فرانس ساختہ رافیل فائٹر جیٹ کا جنگ میں پہلا نقصان ہوا اور جس کے اثرات برصغیر کی حدود سے کہیں آگے تک پھیل گئے۔ کلِ چین: کیا ہوا اور یہ کیوں اہم ؟ افواج ِ پاکستان نے مئی 2025ء میں جو کچھ پیش کیا وہ انفرادی چینی پلیٹ فارموں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مربوط ’’ملٹی ڈومین کلِ چین‘‘ (chain kill ) تھا، جس کی مکمل اہمیت کو عالمی ہتھیاروں کی منڈی نے بعد میں جا کر سمجھا۔7 مئی 2025ء کی فضائی جنگ کی درست ازسرنو تشکیل مشکل ہے کہ نہ تو بھارت اور نہ ہی پاکستان نے مکمل سرکاری تفصیل فراہم کی ہے۔ تاہم جس امر کا معقول اعتماد کے ساتھ تعین کیا جا سکتا ہے، وہ 2 اگست 2025ء کو شائع ہوئی رائٹرز کی رپورٹ اور متعدد آزاد تجزیے ہیں۔اُن سے ثابت ہے کہ پاکستان ایئر فورس کے طیاروں نے PL-15 میزائلوں کا استعمال کیا جنھوں نے بھارتی رافیل مار گرائے۔ بعد میں فرانسیسی انٹیلی جنس کے ایک سینئر ذریعے نے اس نقصان کا اعتراف کیا۔ عسکری ویب سائیٹ ،دی ایوی ایشنسٹ نے رائٹرز کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ PL-15 میزائل تقریباً 200 کلومیٹر کے فاصلے سے فائر کیا گیا تھا۔ اِس معرکے کی اہمیت جتنی میزائل میں ہے، اتنی ہی اُس کی ’’کلِ چین ‘‘ بھی رکھتی ہے۔ متعدد بین الاقوامی رپورٹوں کی رو سے پاکستانی حکام کے مطابق پاک فضائیہ نے گراؤنڈ ریڈاروں، ایئر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول (اواکس) پلیٹ فارموں اور خلائی سیّاروں سے حاصل ہونے والے سینسر ان پٹس کو ایک ڈیٹا لنک کے ذریعے باہم مربوط کر دیا تھا۔ اس کی بدولتJ-10CE  کے پائلٹس کو اپنے ریڈار’’ لوایمیشن موڈ‘‘ پر رکھتے ہوئے طویل فاصلے کے معرکے انجام دینے کی سہولت مل گئی۔ اِس امر نے بھارتی طیاروں کو اُن ریڈار وارننگ سگنلز سے محروم کر دیا جن پر وہ آنے والے میزائل کا پتا لگانے اور بچنے کے لیے عام طور پر انحصار کرتے ہیں۔ سوئس ملٹری ہسٹری انسٹی ٹیوٹ (CHPM) نے اپنے جنوری 2026ء کے جائزے میں نوٹ کیا کہ J-10CE اور  JF-17 طیاروں کے پاس یہ اختیار موجود تھا کہ وہ اپنے ریڈار بند رکھیں اور پاکستانی فضائی حدود کے عقبی حصے میں اڑتے اور ’’صعب ائیر آئی‘‘ سے لیس طیاروں کے فراہم کردہ ہدف کا ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے PL-15 میزائل فائر کردیں۔ باہمی اشتراک کے اِس ماڈل نے بھارتی دفاعی نظام کو آنے والے خطرے سے موثر طور پر بے خبر رکھا۔  پاکستانی فوجی ذرائع کا مؤقف ہے کہ PL-15 میزائلوں سے لیس طیاروں اور زمین سے فضا میں مار کرتے HQ-9 میزائیلوں نے تین رافیل، ایک Su-30MKI ، ایک میراج-2000 اور ایک نامعلوم طیارہ مار گرایا ۔ ان دعووں کی توثیق میں مینوفیکچرر کو طیاروں کے ٹیل نمبر بھی فراہم کیے ۔ بھارت نے علانیہ طور پر ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کی ۔تاہم جس بات پر کوئی سنگین اختلاف نہیں ، وہ یہ ہے کہ کم از کم ایک رافیل پاکستان نے مار گرایا گیا۔ اِس نتیجے نے تاثرات کو یوں بدل دیا جسے بعد کی وضاحتوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جیسا کہ آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن نے آپریشن سندور کی فوجی کارکردگی کے اپنے جائزے میں نوٹ کیا کہ دونوں فریقین نے ریڈار اور الیکٹرانک انٹیلی جنس ڈیٹا پر بہت زیادہ انحصار کیا جو دفاعی تدابیر یا الیکٹرانک اقدامات کو بھی کنفرم ہٹ سمجھ سکتا ہے۔اس وجہ سے حتمی نتیجہ نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پی ایل-15 : ایک انقلابی ہتھیار PL-15 کے عملی آغاز کی اہمیت سمجھنے کے لیے اس اسٹریٹجک حکمتِ عملی سمجھنا ضروری ہے جو اس کی تیاری کا سبب بنی۔ یہ میزائل جسے باضابطہ طور پر ’’تھنڈر بولٹ-15 ‘‘ کا نام دیا گیا ، لوویانگ شہر میں قائم سرکاری ادارے، ’’چائنا ایئر بورن میزائل اکیڈمی‘‘ نے بصری حد سے پار (بی وی آئی) سے مار کرنے والے جدید مغربی میزائلوں کے براہِ راست جواب کے طور پر تیار کیا۔ ڈیول پلس راکٹ موٹر سے لیس، فعال الیکٹرانک طور پر اسکین شدہ اری (AESA) ریڈار سییکر سے ہدایت یافتہ اور درمیانی راستے میں تصحیح کے لیے دو طرفہ ڈیٹا لنک پر مشتمل اس کے چینی ملکی ماڈل کی زیادہ سے زیادہ رینج 200 سے 300 کلومیٹر کے درمیان ہے۔ اس کا برآمدی ورژن PL-15E جو تقریباً 1.5 ارب ڈالر پیکج کے بطور ایک حصّے پاکستان کو فراہم کیا گیا (جس میں بیس J-10CE فائٹر طیارے بھی شامل تھے)، باضابطہ طور پر تقریباً 145 کلومیٹر کی رینج کا حامل قرار دیا گیا ۔ تاہم عالمی تنظیم ،انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز (IISS) نے نوٹ کیا ہے کہ PL خاندان کی ترقی کا عمل ظاہر کرتا ہے کہ اس کی مسلسل آنے والی اقسام میں کارکردگی کی بہتری کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر 200 کلومیٹر کے مبینہ فاصلے سے فائر کی خبر درست ہے، تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو برآمدی ماڈل کی رینج کا اندازہ بہت کم لگایا گیا یا پاکستان کو ملکی ماڈل سے قریب تر خصوصیات والی قسم ملی …ایک ایسا امکان جو سرکاری تصدیق کے بغیر پاکستانی دفاعی حلقوں میں زیرِ گردش رہا ہے۔    پاکستان کی جانب سے J-10CE اور PL-15E کے امتزاج کو حاصل کرنے کا فیصلہ صرف ہتھیاروں کی دستیابی کا معاملہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا سٹریٹجک اقدام تھا۔ سویڈش تنظیم،اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2019ء سے 2023ء کے درمیان پاکستان کی ہتھیاروں کی کُل درآمدات میں چین کا حصہ تقریباً 82 فیصد تھا۔یہ ایک ایسی مرکزیت ہے جو پاکستان کے دفاعی صنعتی تعلقات کی پائیداری اور مقصد پر مبنی صف بندی کی عکاسی کرتی ہے۔2019ء میں بالاکوٹ بحران کے بعد پاکستانی منصوبہ سازوں نے مخصوص صلاحیت کے ایک خلا کی نشاندہی کی: بھارت کے رافیل طیاروں کا مقابلہ پاک فضائیہ کے موجودہ ذخیرے میں شامل طیارے آسانی سے نہیں کر سکتے تھے۔J-10CE  اور PL-15E کو خاص طور پریہ خلا پُر کرنے کے لیے حاصل کیا گیا ۔ایسے میں عددی برابری کے بجائے ’’معیاری توازن‘‘ پانے پر زور دیا گیا۔ مئی 2025ء کا معرکہ برسوں سے جاری پاک ائیر فورس کی ڈیولپمنٹ اور پیشہ ورانہ تربیتی حکمتِ عملی کا آپریشنل نتیجہ تھا۔ سوئس انسٹی ٹیوٹ کے جائزے نے نتیجہ اخذ کیا کہ ابتدائی پاکستانی کامیابی کی وجہ یہی امتزاج تھا: میزائل کی توقع سے زیادہ رینج، باہمی تعاون پر مبنی ہدف کا تعین اور بھارت کی طرف سے اس بات کا کم تخمینہ لگانا کہ یہ مربوط ’’کلِ چین‘‘کہاں تک پھیلی ہوئی ہے۔  پاکستان کا مربوط ایئر ڈیفنس آرکیٹیکچر مئی 2025ء کی فضائی جنگ کے بیانیے کا زیادہ تر حصہ اور J-10CE اور PL-15E کے امتزاج پر مرکوز رہا ۔ تاہم اُس معرکے کو صرف فضائی جنگ کے نقطہ نظر سے دیکھنا تنازع کے اِس رخ کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے جو اتنی ہی سٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے: پاکستان کے زمین پر مبنی چینی ساختہ ایئر ڈیفنس سسٹموں کی فعالیت ۔ سوئس ملٹری انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ جو اِس معرکے کا اب تک سب سے تفصیلی اور معتبر آزادانہ جائزہ ہے، صراحت کے ساتھ تصدیق کرتی ہے کہ J-10CE اور JF-17 فائٹرز کے PL-15E فائر کرنے کے ساتھ ساتھ 7 مئی کی ابتدائی جھڑپوں کے دوران ایک HQ-9 ،زمین سے فضا میں مار کرتی میزائل بیٹری نے بھی بھارتی طیاروں کو نشانہ بنایا۔یہ کوئی معمولی تفصیل نہیں ، یہ ایک ہم پلّہ تنازع میں جدید ترین فوجی طیاروں کے خلاف چینی زمینی ایئر ڈیفنس سسٹمز کا پہلا تصدیق شدہ جنگی استعمال تھا۔عالمی ہتھیاروں کی مارکیٹ کے لیے اِس سنگِ میل کی اہمیت جنگی فضائی آغاز کے برابر ہے۔ اِس بات کی اہمیت سمجھنے کے لیے اُس فریم ورک کو سمجھنا ضروری ہے جس کے تحت HQ سسٹم کام کرتے ہیں۔ چین کے ساختہHQ-9/P،LY-80  اور  FM-90میزائیل اجتماعی طور پر پاکستان کا مربوط فضائی دفاعی نظام تشکیل دیتے ہیں۔یہ پاکستان کی نیٹ ورک سینٹرک جنگی صلاحیتوں کی کلیدی بنیاد ہے۔ پاکستان HQ-9/P اور اس کے جدید ورژن  HQ-9BE  استعمال کرتا ہے۔ HQ-9/P کی طیاروں کے خلاف انٹرسیپشن رینج تقریباً 125 کلومیٹر ہے۔ سوئس رپورٹ تصدیق کرتی ہے کہJ-10CE فائٹرز، PL-15E ایئر ٹو ایئر میزائل،  CM-400AKG ایرو بیلسٹک میزائل اور HQ-9/P سسٹمز کی فراہمی نے پاکستان کے دفاعی فریم ورک کو پرانے اور متفرق درآمدی سسٹموں کے مجموعے سے تبدیل کر کے مکمل طور پر مربوط چینی ساختہ نظام میں ڈھال دیا ہے۔  7 مئی کو جو کچھ ہوا، وہ صرف کسی ایک زمینی بیٹری سے فائر کیا جانا نہیں تھا بلکہ ایک مربوط اور ملٹی لیئر’’کلِِ ویب‘‘ کا متحرک ہونا تھا، جس میں HQ سسٹمز اورJ-10CE  کی بی وی آر صلاحیتوں نے ایک دوسرے کے تکمیلی اجزا کے طور پر کام کیا۔ بھارتی طیاروں کے خلاف زمینی HQ سسٹمز کی کارروائی اسی آپریشنل ونڈو کے اندر ہوئی جس میںJ-10CE  سے میزائیل فائر کیے گئے ۔اس سے مختلف بلندیوں اور دائرہ کار پر مشتمل معرکہ آرائی کا ایک ایسا ماحول پیدا ہوگیا جس سے نکلنا انتہائی دشوار تھا۔ فضائی خطرے سے بچ نکلنے والا طیارہ اس کے باوجود محفوظ نہیں تھا، وہ ایک ایسے زمینی نظام کی رینج میں داخل ہو سکتا تھا جس کا ریڈار مربوط فریم ورک کے تحت بیرونی سینسروں کے ذریعے رہنمائی حاصل کر رہا ہو جبکہ خود الیکٹرانک طور پر خاموش رہے…اِس وجہ سے ہدف والے طیارے کے ریڈار وارننگ ریسیورز کو آنے والے خطرے کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں ملتی ۔ یہ مربوط فضائی و ارضی میزائل ڈیفنس کا وہ ماڈل ہے جس میںعالمی افواج دہائیوں سے سرمایہ کاری کر رہی ہیں ۔اور یہ بات اہم ہے کہ پاکستان نے جدید مغربی پلیٹ فارموں سے لیس ہم پلّہ حریف کے خلاف اپنے پہلے سنجیدہ امتحان میں اُس کا نمایاں و کامیاب اثر دکھایا۔ میدان جنگ میں کامیابی سے استعمال پر ہتھیاروں کی عالمی منڈی میں چینی اسلحے کے اثرات برصغیر سے باہر بھی واضح ہوئے۔مصر ، آذربائیجان، انڈونیشیا، ملائشیا اور کئی افریقی ممالک چین سے اسلحہ خریدنے کے منصوبے بنانے لگے۔حال ہی میں خبر آئی ہے کہ بنگلہ دیش چینی ساختہ J-10 CE طیارے خریدے گا۔ یہ خریداریاں کسی خلا میں نہیں ہوئیں، یہ ایک ایسے تنازع کے بعد ہوئی جس میں چینی ہتھیاروں نے دہائی کی اہم ترین فضائی و زمینی جنگ میں حصہ لیا اور عملی دنیا میں ایسی توثیق فراہم کی جس کی نقل کوئی تربیتی مشق یا مینوفیکچرر کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ مئی 2025ء کی کامیابی میں پاکستان کے لیے چین کا تعاون محض پلیٹ فارم تک محدود نہیں بلکہ سسٹم میٹک یا نظم وضبط والا تھا۔ بیجنگ نے صرف بہتر میزائل یا بہتر فائٹر طیارے فراہم نہیں کیے بلکہ ایک مربوط ملٹی لیئر نظام فراہم کیا جس نے حقیقی جنگی حالات میں مربوط نیٹ ورک کے طور پر کارکردگی دکھائی اور یہ اسٹریٹجک لحاظ سے زیادہ اہم اور دیرپا توثیق ہے۔ مغربی ٹیکنالوجی کا باریک بینی سے جائزہ مئی 2025ء کی فضائی جنگ کے اسٹریٹجک اثرات سب سے زیادہ مغربی دفاعی حلقوں میں محسوس کیے گئے۔ مئی 2025ء سے پہلے رافیل کو جنگ میں کبھی مار نہیں گرایا گیا تھا اور اسے جدید ایویونکس، ’’اسپیکٹرا‘‘ الیکٹرانک وارفیئر سوٹ اور ’’میٹیور‘‘ (Meteor) میزائل کے طاقتور امتزاج کی بدولت سب سے بہترین فورتھ جنریشن پلس فائٹر طیاروں میں شمار کیا جاتا تھا۔ اس لیے ایک چینی میزائل سسٹم کے ہاتھوں کم از کم ایک رافیل کی تباہی کے ایسے نتائج سامنے آئے جو محض ایک معرکے کی تک محدود نہیں تھے۔ سوئس اخبار،نوئے زیورشر زیٹنگ نے اِس نتیجے کو مغربی عسکری ٹیکنالوجی کے لیے شدید تشویش کا باعث قرار دیتے ہوئے نوٹ کیا کہ ’’آپریشن سندور‘‘ نے وہ رُخ اختیار کر لیے جن کی بھارتیوں نے توقع نہیں کی تھی۔ J-10CE تیار کرنے والی چینی کمپنی، اے وی آئی سی چنگدو ایئر کرافٹ کے شیئرز میں اِس معرکے کے بعد20 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا…ایک ایسا مارکیٹ سگنل جسے سرمایہ کاروں نے چینی فوجی ٹیکنالوجی کی حتمی توثیق قرار دیا اور جو امن کے دور کی نمائشیں کبھی حاصل نہیں کر سکی تھیں۔  رافیل کا گرنا چینی متبادل کے مقابلے میں مغربی پلیٹ فارموں کی کمتری ظاہر نہیں کرتا۔ متعدد تکنیکی تجزیہ کاروں کی روسے حتمی فیکٹر محض ’’ہارڈویئر بمقابلہ ہارڈویئر‘‘ نہیں تھا بلکہ پاکستان کی ’’کلِ چین‘‘ کا ربط، انٹیلی جنس کی وہ ناکامی جس کے باعث بھارت نے PL-15E کی مؤثر رینج کا کم اندازہ لگایا اور مختلف ممالک کے سسٹموں پر مشتمل ایک ایسے بیڑے کی ساخت جاتی کمزوری تھی جو مکمل مربوط ڈیٹا لنکس کے بغیر کام کر رہا تھا۔کنگز کالج لندن کے سینئر لیکچرر، ڈیوڈ جارڈن نے مشاہدہ کیا کہJ-10CE  کو جدید ماڈل کے F-16 کے مساوی سمجھا جانا چاہیے، لیکن طویل فاصلے تک مار کرتے میزائل کی صلاحیت اُسے مخصوص حالات میں برتری دیتی ہے۔ مئی 2025ء کا سبق یہ کم ہے کہ چینی ٹیکنالوجی نے حتمی طور پر مغرب کو پیچھے چھوڑ دیا اور یہ زیادہ کہ کسی بھی حریف کے جدید پلیٹ فارم کا فائدہ بہترین نیٹ ورکنگ اور انٹیلی جنس کے خلا سے ختم کرنا ممکن ہے۔ یہ ایک ایسا سبق ہے جس کے اثرات جنوبی ایشیا سے کہیں آگے تک پھیلے ہیں اور جسے مغربی پلیٹ فارم مینوفیکچرر اور ان کے سرکاری گاہک سمجھ چکے۔ پاک بھارت معرکے میںJ-10CE کی عمدہ کارکردگی کے باعث ہی مصر، ازبکستان، بنگلہ دیش اور ترقی پذیر دنیا کے دیگر ممالک اُس کی خریداری میں دلچسپی لینے لگے ۔ چین نے بھی برآمدی سفارت کاری میں اس جنگی توثیق سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیزی سے قدم بڑھائے ۔ بین الاقوامی دفاعی نمائشوں میں J-10 CE کو نمایاں طور پر پیش کیا اور مئی 2025ء کے نتائج کو براہِ راست اپنی ’’سیلز پچ ‘‘میں شامل کر لیا۔ اس کی وسیع تر اہمیت ساخت جاتی ہے: دہائیوں سے چینی جنگی طیارے فروخت ہونے میں جدوجہد کرتے رہے کیونکہ اُن کے پاس سب سے بنیادی سند یعنی کسی برتر حریف کے خلاف ثابت شدہ جنگی ریکارڈ کی کمی تھی۔ وہ سند اب افواج پاکستان کے ذریعے جنم لے چکی اور اس کا اطلاق نہ صرف J-10 CE اور PL-15E پر بلکہ اُس وسیع تر چینی ساختہ مربوط ایئر ڈیفنس نیٹ ورک پر بھی ہوتا ہے جس کا  HQ-9ایک اہم حصہ ہے۔ مقامی فضائی طاقت: ایک نیا توازن  جنوبی ایشیا کے اندر بھی مئی 2025ء کے تنازع نے فضائی طاقت کے توازن کو ایک پیچیدہ اور مسلسل بدلتی شکل دے دی ۔ پاکستان کے لیے اِس معرکے نے چینی پلیٹ فارموں، ڈیٹا لنک انٹیگریشن، اور بی وی آر حکمتِ عملی میں ایک دہائی کی سوچی سمجھی اسٹریٹجک سرمایہ کاری کی توثیق کی۔ J-10 CE اور PL-15E کے امتزاج نے بالکل اسی طرح کام کیا جس کے لیے اسے حاصل کیا گیا تھا…یعنی ایک ایسے دفاعی ہتھیار کے طور پر جو تنازع کے ابتدائی لمحات میں ہی بھارتی فضائی آپریشنز پر بھاری نقصان لادنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔-9 HQ کی زمینی سطح کے متوازی استعمال نے تصدیق کر دی کہ پاکستان کا ایئر ڈیفنس نیٹ ورک الگ الگ اثاثوں کے مجموعے کے بجائے ایک حقیقی مربوط سسٹم کے طور پر کام کرتا ہے۔ اِس آپریشن نے خطّے میں یہ پہلو بھی نمایاں کیا جسے عسکری ویب سائیٹ ،ڈیفنس سیکورٹی ایشیا نے ’’سہ طرفہ ٹیک ‘‘ قرار دیا ہے: ٭ چینی ہارڈویئر ٭ترک ڈرون کے پلیٹ فارموں کے ذریعے ڈرون وارفیئر کا تجربہ ٭ اور پاکستان کی عملی مطابقت پذیری اِن سب نے مل کر پاکستان میں زیادہ صلاحیت رکھنے والا اور نیٹ ورک سے جڑا ہوا ایک ایسا فریم ورک تشکیل دے دیا جس کا بیرونی تجزیوں میں کم اندازہ لگایا گیا تھا۔ یہ بتانا ضروری ہے ،یہاں وسیع تر اسٹریٹجک تناظر بھی اہم ہے۔ مئی 2025ء کا تنازع 1999ء میں کارگل کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان پہلا سنگین فوجی تصادم اور 2019ء میں بالاکوٹ کے بعد بڑے پیمانے پر فضائی طاقت استعمال کرنے والا پہلا معرکہ تھا۔ اس نے ثابت کر دیا کہ دونوں ایٹمی ریاستیں سخت اشتعال انگیزی کے حالات میں اُن حدوں کو پار کرنے کے لیے تیار ہیں جنہیں ماضی کی بحرانی حکمتِ عملی نے دور رکھا ہوا تھا۔ اور دونوں نے ایسی صلاحیتوں پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے جو تنازع کے ابتدائی گھنٹوں میں حریف کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا سکیں۔ سوئس انسٹی ٹیوٹ نے اس معرکے کو دو ایٹمی مسلح ریاستوں کے درمیان پہلے اعلیٰ شدت والے، نیٹ ورک سینٹرک فضائی تنازع کے طور پر بیان کیا۔ اس تناظر میں چینی ہتھیاروں کا کردار صرف ہتھیاروں کی خریداری کی کہانی نہیں ، یہ علاقائی اسٹریٹجک استحکام کی ایک بنیادی خصوصیت ہے جس کے اثرات دفاع، بحران کے بڑھاؤ کو روکنے اور دنیا کے خطرناک ترین خطّوں میں سے ایک میں ہتھیاروں کے کنٹرول کے مستقبل پر مرتب ہوں گے۔ حرف آخر مئی 2025ء میں PL-15E کا جنگی آغاز محض ایک تکنیکی پیشرفت سے کہیں زیادہ تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب جدید فوجی ٹیکنالوجی میں چین کی سالہا سال کی سرمایہ کاری کو اپنے قریبی ساتھی، پاکستان کی بدولت ایک زبردست اور غیر مبہم عالمی توثیق مل گئی: یعنی ایک جدید اور باصلاحیت حریف کے خلاف اعلیٰ شدت کی حقیقی جنگ میں بہترین کارکردگی۔ جب اِسے اسی معرکے میں HQ-9 زمینی سسٹم کے تصدیق شدہ استعمال کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے، تو جو تصویر سامنے آئے وہ چینی اصل پہ مبنی ایک مربوط، ملٹی ڈومین ’’کلِ چین‘‘ کی ہے جو الگ الگ متاثر کن پلیٹ فارموں کے مجموعے کے بجائے ایک یکجا نظام کے طور پر کام کرتی ہے۔ دفاعی فن تعمیر کا یہ وہ نمونہ ہے جس نے اپنے سب سے مشکل امتحان میں بالکل توقعات کے مطابق کارکردگی دکھائی…اور یہ ایک ایسی توثیق ہے جسے عالمی ہتھیاروں کی منڈی نظر انداز نہیں کر سکی۔ اِس معرکے کے اثرات ایک ساتھ متعدد سطحوں پر مرتب ہوئے : ٭جنوبی ایشیائی فضائی طاقت: علاقائی فضائی توازن اور تزویراتی حکمتِ عملی کی نئے سرے سے تشکیل۔ ٭دنیا بھر میں افواج پاکستان کی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا سکّہ بیٹھ گیا۔ ٭مغربی دفاعی صنعت: مغربی پلیٹ فارم مینوفیکچررز کی برتری کو سنگین چیلنج لاحق ہوگئے۔ ٭چینی برآمدات: چین کے دفاعی برآمدی عزائم میں تیزی آ گئی۔ ٭عالمی توازن: اِس بنیادی سوال نے جنم لیا کہ کیا پچھلی تین دہائیوں سے قائم مغربی فوجی برتری کا ڈھانچہ اب بھی اتنا ہی مستحکم ہے جتنا فرض کیا جاتا تھا؟ مئی 2025ء کا معرکہ مغرب کے زوال یا چین کی حتمی برتری کا کوئی سادہ فیصلہ پیش نہیں کرتا بلکہ یہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اگر چینی فوجی نظاموں کو ایک پیشہ ور اور تربیت یافتہ فوج کے عملی نیٹ ورک میں مربوط کیا جائے، تو وہ ایسی کارکردگی دکھا سکتے ہیں جو دنیا کو اپنے پرانے مفروضوں پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کر دے۔ خریداری کے فیصلوں، جنگی عقائد، دفاعی صلاحیت کے تخمینوں اور ہتھیاروں کی معیشت میں اِس نظرِ ثانی کا آغاز ہو چکا اور اِس کے مکمل اثرات ظاہر ہونے میں ابھی کئی سال لگیں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل