Loading
دو صدیوں سے زائد عرصہ گزر گیا ہے ، مگر ہمارے سرکاری مراعات یافتہ طبقات اور اعلیٰ سرکاری اشرافیہ کے چال چلن نہیں بدلے ۔ دو سو سال قبل جب اُردو زبان کے افسردہ شاعر، میر تقی میر، حیات تھے ، اُس وقت بھی سرکار کی دولت سے دولتمند بننے والے امیر زادے ، سماج کے عام افراد کی غربت و تنگدستیوں کا سبب بن گئے تھے ۔
میر تقی میر عالمِ مایوسی اور عالمِ نااُمیدی میں ، تنگ آ کر ، پکار اُٹھے : اے میر ، دہلی کے اِن امیر زادوں سے مت ملا کر ، کیونکہ اِنہی کی بدولت تو ہم سب عوام فقیر ہُوئے ہیں ۔ عوام کے حصے میں آنے والی سرکاری رقوم بھی اِنہی سرکاری امیر زادوں کی جیب میں چلی گئی ہیں : امیر زادوں سے دِلّی کے مِل نہ تا مقدور/ کہ ہم فقیر ہُوئے ہیں اِنہی کی دولت سے !
جناب میر تقی میر کا یہ آفاقی شعر آج یوں شدت و حدت سے یاد آیا ہے کہ 8ستمبر2026ء کی صبح ہی صبح اُٹھ کر پہلی ہوش اُڑا دینے والی بد خبری یہ ملی کہ حکومت نے 13روپے فی لٹر پٹرول کی قیمت میں پھر اضافہ کر کے غریب عوام پر ایک بار پھر نیا بم مار ڈالا ہے ۔ ہر طرف کہرام مچا ہے ۔ ہر شئے کی قیمت تا آسمان پہنچ گئی ہے ۔ ہر گھریلو بجٹ کو پھر شدید جھٹکا لگا ہے ۔ 440وولٹ بجلی کے جھٹکے ایسا ۔ عوام مگر بظاہر زندہ ہیں ، مگر چلتی پھرتی لاشیں ۔8ستمبر کے بعد بھی پٹرول کی قیمت میں مزید اور مسلسل اضافہ کیا گیا ہے ۔
اتوار ( بتاریخ 13ستمبر) کی صبح جب یہ کالم لکھا جارہا ہے ، پٹرول کی قیمت 376روپے فی لٹر اور ڈیزل کی قیمت 403روپے فی لٹر ہو چکی ہے ۔اور14ستمبر کی صبح جب یہ کالم شائع ہوگا، نجانے پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کتنا قیامت خیز اضافہ ہو چکا ہوگا ۔عوام کو پٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے باؤلا کر ڈالا ہے ۔ پہلے ہر ماہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے عوام کو جھٹکا لگتا تھا، مگر اب کسی سرکاری ’’سیانے‘‘کی ایسی ’’صلاح‘‘ بروئے کار آ ئی ہے کہ ہر روز عوام کو مہنگے ترین پٹرول و ڈیزل کے نام سے جھٹکے دیئے جاتے ہیں ۔
سرکاری اشرافیہ ،سرکاری دولتمند اور سرکاری مراعات یافتہ طبقات مگر بے پروا ہیں ۔ اُنہیں مہنگا ترین پٹرول و ڈیزل اور مہنگی ترین بجلی مفت مل رہی ہے ۔عوام میں یہ تاثر گہرا اور گُوڑھا ہے کہ اگر اِن سرکاری دولتمندوں ، سرکاری اشرافیہ اور حکمران طبقات کو پٹرول و ڈیزل اور بجلی کی مفت فراہمی بند کر دی جائے تو پھر، شائد، اِنہیں کوئی تپش محسوس ہو ۔ 12 ستمبر 2026ء کو ، صرف ایک دن کے اخبار ، نے لاہور اور اِس کے مضافاتی علاقوں سے جو چند ہوشربا خبریں شائع کی ہیں، ذرا یہ سنئے : فاروق آباد میں 8ماہ کے بچے سمیت ماں نے نہر میں چھلانگ لگا کر موت کو گلے لگا لیا۔ سبب بھوک اور مہنگائی بتایا گیا ہے ۔
مغلپورہ لاہور میں 55سالہ نُور محمد نے گلے میں پھندا لے کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ سبب؟ مہنگائی ، بے روزگاری اور مہنگی بجلی ۔ ایک اور نوجوان ، نبیل، نے زہریلی گولیاں کھا کر تلخ ترین زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ سبب؟ مہنگائی اور بے روزگاری!!میرے سامنے ایسی ہی ہولناک اور دلشکن خبریں نوحہ پڑھ رہی ہیں ۔ کس کس کا ذکر کیا جائے ؟ حکمران مگر اپنی موجوں میں ہیں۔ حکمران جماعت اِس وقت نامقبولیت کے آخری کنارے پر کھڑی ہے ۔ ایسے میں جب عوام وزیر بجلی ، جناب اویس لغاری ، کا یہ ٹویٹی بیان پڑھتے ہیں تو اُن کے تن بدن میں مزید آگ بھڑک اُٹھتی ہے ۔ لغاری ’’صاحب‘‘ نے فرمایا:’’گیس( مزید) مہنگی ہونی چاہیے تاکہ عوام گیس کی بجائے بجلی استعمال کریں۔‘‘ لیجئے ، ایسے ہوتے ہیں عوام کے زخموں پر نمک پاشی کرنے والے ’’عوامی نمائندے‘‘ اور حکمران۔ گیس پہلے ہی 300فیصد مہنگی کی جا چکی ہے اور یہ وفاقی وزیر صاحب گیس مزید مہنگی کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔
نون لیگی حکومت عوام کی ناک مزید کتنی اور کہاں تک رگڑنا چاہتی ہے ؟ ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ پٹرول و ڈیزل کے بغیر وقفہ نئے بم گرا کر عوام میں نئی قیامتیں برپا کر دی گئی ہیں ، مگر حکمران بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہُوئے ملک میں نئے صوبے یا نئے انتظامی یونٹس بنانے کے جنون میں مبتلا ہیں ۔ سارے ملک کو اِس لا یعنی مباحثے میں مبتلا کر دیا گیا ہے ۔ نئے صوبے یا نئے انتظامی یونٹس بن بھی جاتے ہیں تو کیا بلکتے عوام کو سستا پٹرول و ڈیزل ، سستی بجلی ، سستا آٹا، سستا خوردنی تیل، سستی گروسری میسر ہو جائے گی ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر عوام کو نئے یا پرانے صوبوں سے بھلا کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟ کیا ملک میں نئے نام نہاد انتظامی یونٹس بننے سے عوام کا خون پینے والی آئی پی پیز ( بجلی کے نجی پرائیویٹ کارخانوں) سے نجات مل جائے گی؟ اِن کے خوں آشام پنجوں سے جان چھوٹ جائے گی ؟ 8ستمبر کو یہ ہولناک خبر شائع اور نشر ہُوئی ہے :’’وفاقی حکومت نے پچھلے11ماہ کے دوران آئی پی پیز کے سیٹھ مالکان کو 29کھرب 35ارب روپے ادا کیے ہیں۔‘‘کیا اب سمجھ میں آئی کہ یہ آئی پی پیز ( جن میں سے کئی ایک کے حکمران طبقات مالک ہیں) عوام کا خون کیسے پی رہی ہیں؟ اور اگر ہمارا حکمران طبقہ کالا باغ ڈیم بنانے کی جرأتِ رندانہ کرتا تو مہنگی ترین جان لیوا بجلی سے بھی نجات مل جاتی اور آئی پی پیز کے شکنجے سے بھی ۔ کیا عوام سے یہ سنگین مذاق نہیں ہے کہ اِدھر ایک ہفتے میں پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر125روپے اضافے کے بم گرائے گئے ہیں اور اُدھر حکومت کی وفاقی اقتصادی کمیٹی نے 30بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے 6ارب 60کروڑ روپے جاری کر دیئے ۔
مبینہ طور پر یہ بلٹ پروف مہنگی گاڑیاں 2027ء میں اسلام آباد میں ہونے والےSCOکے (سہ روزہ)اجلاس میں شریک ہونے والے عالمی لیڈروں کے لیے استعمال کی جائیں گی ۔ کیا حکومت تین یوم کے لیے ایسی گاڑیاں رینٹ پر نہیں لے سکتی؟ ایک سابق وفاقی وزیر نے حکومت کے اِس فیصلے کو عوام کے دکھوں کا استہزا قرار دیتے ہُوئے لکھا ہے:’’اسلامی سربراہی کانفرنس (1974ء میں) بھٹو صاحب نے پاکستان تشریف لانے والے عالمی اسلامی لیڈروں کے لیے نئے ہوٹل تعمیر کروائے نہ نئی گاڑیاں خریدی تھیں ۔اُنہوں نے امیر پاکستانی صنعت کاروں سے 7دنوں کے لیے گاڑیاں عاریتاً لیں ۔ آج تک اِس شاندار کانفرنس کی کہانی کو پاکستان کی سب سے خوبصورت سفارتی کہانی مانا جاتا ہے ۔‘‘جماعتِ اسلامی پاکستان نے اپنے امیر ( حافظ نعیم الرحمن) کی زیر قیادت پچھلے کئی ہفتوں سے پٹرول و ڈیزل پر نافذکردہ ظالمانہ ’’لیوی‘‘ کے خاتمے کے لیے پاکستان کے کئی شہروں میں احتجاجی دھرنے دے رکھے ہیں ۔
ایک بار ہڑتال بھی کی ہے ۔ حکومت مگر ٹس سے مس نہیں ہُوئی ۔ بلکہ حکومت نے اُلٹا پٹرول کی قیمت میں مزید کئی بار ہلاکت خیز اضافے کرکے عوام اور جماعتِ اسلامی کو اُس کی اوقات یاد دلا دی ہے ۔ عوام نے بھی جماعتِ اسلامی کے احتجاجی دھرنوں میں توقعات کے مطابق شرکت نہیں کی ۔ اِس عدم توجہی و عدم دلچسپی نے حکومتی جرأتوں کو مزید شہ دی ہے ۔ تو پھر عوام مہنگے ترین پٹرول و ڈیزل اور مہنگی ترین بجلی کا ذائقہ بھی چکھیں اور اپنی بزدلی پر ماتم بھی کریں!!
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل