Wednesday, September 16, 2026
 

عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس: سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو فوری طلب کر لیا

 



بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے کیس میں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو فوری طلب کر لیا، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کی ہے کہ عمران خان کی اسپتال منتقلی کا کیس وفاقی آئینی عدالت کیسے سن سکتی ہے؟ عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی آئینی عدالت نے کل حکم نامہ جاری کیا ہے، وفاقی آئینی عدالت نے اس مقدمے کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔ جسٹس شاہد وحید نے کہا عدالت نے 18 اگست کے آرڈر میں سرکاری افسران کو طلب کیا تھا، لیکن کوئی پیش نہیں ہوا، کیا افسران کا پیش نہ ہونا حکم عدولی نہیں؟ کہیں نہ کہیں کوئی غلط فہمی موجود ہے، علاج سرکاری یا نجی اسپتال میں ہوگا، یہ پوائنٹ فی الحال سائیڈ پر رکھ دیں، کیا ہمارے آرڈر کے باقی حصے پر عمل ہو رہا ہے؟ کیا ملاقاتیں اور بچوں سے بات کرائی گئی؟ فاضل جج نے کہا وفاقی آئینی عدالت قرآن و سنت کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی، وفاقی آئینی عدالت صرف آئین کی تشریح کرسکتی ہے، آئین کی تشریح کے علاوہ تمام معاملات سپریم کورٹ کے پاس ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا شریعت بینچ قرآن و سنت کی تشریح کر سکتا ہے، جس پر جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کیا عدالت آج درخواستیں خارج کر دے یا سماعت نہ کرے؟ کیا ہم آئینی عدالت کے حکم کے پابند ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا آئین کے مطابق آئینی عدالت مقدمات کا ریکارڈ ہی نہیں،کیسز بھی منگوا سکتی ہے، اس بات کا تعین ہونا ہے کہ آئینی عدالت کہاں کہاں سے ریکارڈ منگوا سکتی ہے۔ جسٹس شاہد وحید کا کہنا تھا وفاقی آئینی عدالت کے حکم نامے میں لکھا ہےکہ ریکارڈ منگوا کر کیسز مقرر کیے جائیں، وفاقی آئینی عدالت میں کیسز مقرر کرنےکا لفظ ہمیں تنگ کر رہا ہے، اٹارنی جنرل ہماری معاونت کریں کہ وفاقی آئینی عدالت کیسے کیس سن سکتی ہے؟ جسٹس شاہد وحید کا کہنا تھا اڈیالا جیل انتظامیہ کو آج ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہوا تھا، سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی، کیا جیل سپرنٹنڈنٹ کے وارنٹ جاری کردیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا مناسب ہوگا کہ ایک موقع دے دیں۔ جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے نظرثانی درخواست میں حکومت نے لکھا ہےکہ نجی اسپتال میں علاج نہیں ہوسکتا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا عدالت کے حکم پر ریکارڈ فراہم کردیا ہے۔ جسٹس شاہد وحید بولے کہ وفاقی آئینی عدالت سے آئین کی منشا سمجھنا چاہ رہے ہیں، عدلیہ کے درمیان باہمی احترام کے قائل ہیں، سوالات کا منفی مطلب نہ لیجیے گا، یہ صرف سمجھنے کے لیے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار آئین میں واضح ہیں، جس پر جسٹس شاہد وحید بولے آئینی عدالت کے حکم میں لکھا ہے کہ وہ تعین کریں گے کہ بنیادی حقوق کے کیسز کون سن سکتا ہے، بنیادی حقوق کا معاملہ تو ہر کیس میں ہوتا ہے، شفاف ٹرائل کا بنیادی حق ہر فوجداری کیس میں سامنے آتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ آئینی عدالت نے مقدمات کا ریکارڈ منگوا کر سماعت کےلیے مقررکرنےکا حکم دیا، مقدمات کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کے حکم کے کیا نتائج ہوں گے؟ اٹارنی جنرل اس نکتے پر ہماری معاونت کریں۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان کا کہنا تھا مناسب ہوگا عدالت کیس پر سماعت 3 ہفتوں کے لیے موخر کر دے، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کردیا  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل