Friday, September 18, 2026
 

کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، کسی کو اسلام آباد بند کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، محسن نقوی

 



وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے اعلان کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اس طرح کی منصوبہ بندی کا کوئی جواز نہیں بنتا اور کسی کو اسلام آباد بند کرنے یا کسی دوسرے صوبے پر حملہ آور ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے، پہلے ہی بتارہے ہیں تاکہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ آج دھرنے کی کال پر امن و امان کی صورت حال پر اجلاس ہوا، اسلام آباد ہائی کورٹ کا تفصیلی آچکا ہے اور اس فیصلے کے بعد کوئی صورت نہیں بنتی کہ کسی طرح وفاقی دارالحکومت اسلام آباد یا کسی دوسرے صوبے پر دھاوا بولا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بہت وضاحت کے ساتھ ہم نے بتا دیا ہے کہ اگر کوئی بھی نکلنے کی کوشش کرتا ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو توہین عدالت پر جائیں گے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیصلے کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے، دوسرے نمبر پر ہم ان کو ہر ممکن طریقے سے روکیں گے، ماضی میں ہمارے بہت زیادہ نقصان ہوتے رہے ہیں اور دوسری طرف سے اسلحہ استعمال کیا گیا ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بات ہورہی ہے کہ مخصوص قبائل کے لوگ آرہے ہیں، اس دفعہ ہم اپنے جوانوں کو واضح طور پر بتا رہے ہیں کوئی صورت نہیں ہے کہ اگر آپ جوانوں پر گولیاں چلائیں گے تو وہ چپ کرکے بیٹھیں گے، درخواست ہے کہ اپنے علاقے میں اور اپنے شہر میں احتجاج کریں لیکن اس طرح وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو بند کرنے کی منصوبہ بندی کرنا یا کسی صوبے پر اس طرح حملہ کرنا کسی بھی طریقے سے آپ کو اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بتارہے ہیں کسی کو غلط فہمی نہ رہے اور بعد میں شکوہ نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کوہاٹ میں دہشت گردی ہوئی آپ کو زیب نہیں دیتا کہ ایک طرف لاشیں اٹھائیں اور دوسری طرف دھرنوں کی تیاری کریں، سیاسی جلوس، جتھے اور یلغار میں فرق ہوتا ہے، ایک بھی جان گئی تو ذمہ دار وہ ہوں گے جو جتھے جمع کرہے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں سے کہتا ہوں اس لڑائی سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اس لڑائی سے صرف نقصان ہی نقصان ہے، ماضی کی طرح بدامنی پھیلانے نہیں دیں گے، وزیراعظم نے کتنی بار آپ کو پارلیمنٹ میں مذاکرات کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری کریں، ان دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اتنی محنت کریں جتنی اس وقت وہ لانگ مارچ کے لیے کر رہے ہیں تو میرے خیال میں دہشت گردی بہت حد تک کم ہوجائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ہم دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اس وقت ہمارا 90 فیصد اسی پر فوکس کرنا چاہیے نہ کہ تمام توجہ بندے اکٹھےکرنے، چندہ جمع کرنا اور ٹرانسپورٹ کا انتظام پر دیں، اس طرح کے واقعات کے بعد آپ کو زیب نہیں دیتا کہ ایک طرف شہدا کے جنازے اٹھائیں اور دوسری طرف آپ دھرنوں کی طرف جائیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل