Friday, September 18, 2026
 

محسن نقوی کی ہدایت پر اسکول کرکٹ کا دائرہ کار ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ

 



پاکستان میں کرکٹ کے ٹیلنٹ پر کسی کو شک نہیں۔ یہ وہ ملک ہے جہاں گلی، محلے اور اسکول کے میدانوں سے ایسے کھلاڑی سامنے آتے رہے ہیں جنہوں نے آگے چل کر دنیا کے بڑے کرکٹ میدانوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ مسئلہ ٹیلنٹ کی کمی کا نہیں، بلکہ اس ٹیلنٹ تک بروقت پہنچنے، اسے پہچاننے اور پھر درست سمت میں آگے بڑھانے کا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ سمجھتا ہے کہ اس کی ذمہ داری صرف میچز اور ٹورنامنٹس منعقد کرنے تک محدود نہیں۔ ایک مضبوط کرکٹ نظام کی بنیاد اس وقت بنتی ہے جب باصلاحیت بچوں کو ان کے ابتدائی برسوں میں تلاش کیا جائے، انہیں کھیلنے کے مواقع دیے جائیں، ان کی صلاحیتوں کو نکھارا جائے اور ان کے لیے آگے بڑھنے کا واضح راستہ موجود ہو۔ یہی وہ سوچ ہے جو اسکول کرکٹ کو پاکستان کرکٹ کے مستقبل کے لیے اہم بناتی ہے۔ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے اسکول کرکٹ کے فروغ اور نئے ٹیلنٹ کی تلاش کو خصوصی اہمیت دی ہے اور اس مقصد کے لیے اسکول کی سطح پر کئی نئے ٹورنامنٹس اور پروگرام شروع کروائے ہیں۔ گزشتہ سال شروع کیا گیا اسکول کرکٹ پروگرام اسی سمت میں ایک اہم قدم تھا۔ 2025-26 میں 39 اضلاع کے 450 اسکولوں نے اس پروگرام میں حصہ لیا، جو اس وقت پاکستان کی تاریخ میں اسکول کرکٹ کی سب سے بڑی شرکت تھی۔ اس تجربے کو بنیاد بناتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ نے رواں سال اس پروگرام کو کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر ملک بھر میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ محسن نقوی کی جانب سے اسکول کرکٹ کو ملک بھر میں وسعت دینے پر خصوصی توجہ کا مقصد بھی یہی ہے کہ نئے اور غیرمعروف ٹیلنٹ کو ابتدائی سطح پر تلاش کرکے اسے قومی کرکٹ کے نظام کا حصہ بنایا جا سکے۔ اس سال 100 اضلاع کے 1,400 اسکولوں سے تقریباً 21,000 طلبہ میدان میں اتریں گے اور 2,895 میچز کھیلے جائیں گے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں یہ غیر معمولی توسیع ہے۔ لیکن ان اعداد کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ اب ہزاروں نوجوانوں کو اپنی صلاحیت دکھانے، مقابلہ کرنے اور سسٹم کی نظروں میں آنے کا موقع ملے گا۔ اسکول کی سطح پر نئے ٹورنامنٹس شروع کروانے اور ان کا دائرہ وسیع کرنے کے حوالے سے کرکٹ بورڈ کے اقدامات نے اس عمل کو مزید منظم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاکہ صرف روایتی کرکٹ مراکز ہی نہیں بلکہ دور دراز علاقوں سے بھی باصلاحیت کھلاڑی سامنے آسکیں۔ پی سی بی کی جانب سے اس پروگرام کو حقیقی معنوں میں قومی بنانے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ گلگت سے گوادر تک مختلف علاقوں کے سکول اس سرگرمی کا حصہ ہیں۔ فاٹا کے 124 سکولوں کی شرکت، ڈیرہ اسماعیل خان کے 80 سے زائد سکولوں کی شمولیت جبکہ کشمیر اور لاڑکانہ سمیت مختلف علاقوں سے آنے والے نوجوان اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کا کرکٹ ٹیلنٹ کسی ایک شہر یا خطے تک محدود نہیں۔ اس سال کی سرگرمی صرف میچز تک محدود نہیں رہے گی۔ 1,400 اسکولوں میں سکلز ڈویلپمنٹ کیمپس کے ذریعے نوجوانوں کی بیٹنگ، باؤلنگ، فیلڈنگ اور فٹنس پر کام کیا جارہا ہے۔ تجربہ کار ریجنل اور ڈسٹرکٹ کوچز، جن میں سابق اور بین الاقوامی کرکٹرز بھی شامل ہیں، نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت کررہے ہیں۔ اسکول کرکٹ کے فروغ کے لیے محسن نقوی کی زیر قیادت بورڈ ترجیحات میں صرف ٹورنامنٹس کا انعقاد نہیں بلکہ ان مقابلوں کے ذریعے سامنے آنے والے ٹیلنٹ کو تربیت اور کوچنگ فراہم کرنا بھی شامل ہے، تاکہ باصلاحیت بچوں کو آگے بڑھنے کے لیے عملی پلیٹ فارم میسر آسکے۔ اس کے بعد اصل مقابلہ شروع ہوگا۔ اسکول کرکٹ کا یہ سفر ڈسٹرکٹ لیول سے ڈویژن، پھر صوبائی اور بالآخر پاکستان لیول تک جائے گا۔ ستمبر سے اکتوبر تک ڈسٹرکٹ لیگ کے پول میچز، نومبر میں 100 ٹیموں کا ناک آؤٹ مرحلہ اور نومبر کے آخر سے دسمبر تک قومی مرحلہ منعقد ہوگا، جس کا فائنل 5 دسمبر کو ہوگا۔ یہاں ایک نوجوان کھلاڑی کے لیے سب سے اہم چیز صرف ٹرافی نہیں، بلکہ وہ راستہ ہے جو اس کے بعد کھلتا ہے۔ بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو U15، U17 اور U19 کرکٹ کے ساتھ 16 ریجنل اکیڈمیز اور ریجنل کرکٹ تک رسائی کا موقع دیا جائے گا۔ پاکستان کے کسی دور افتادہ ضلع کا ایک اسکول بوائے شاید آج صرف اپنے اسکول کی ٹیم کے لیے کھیل رہا ہو۔ لیکن اگر اس میں صلاحیت ہے، تو اس پروگرام کے ذریعے اسے دیکھنے، پرکھنے اور آگے بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ یہی اسکول کرکٹ کی اصل طاقت ہے۔ یہ صرف ایک ٹورنامنٹ نہیں بلکہ پاکستان کے ان نوجوانوں تک پہنچنے کی کوشش ہے جو کھیلنا چاہتے ہیں، آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور ایک دن پاکستان کی گرین کٹ پہننے کا خواب دیکھتے ہیں۔ محسن نقوی کی جانب سے اسکول کی سطح پر نئے ٹورنامنٹس شروع کروانے اور اسکول کرکٹ کے دائرہ کار کو مسلسل وسیع کرنے کے اقدامات بھی اسی وسیع تر مقصد کا حصہ ہیں کہ پاکستان کے نئے ٹیلنٹ کو اس کی ابتدائی سطح پر تلاش کیا جائے اور اسے قومی کرکٹ تک پہنچنے کا موقع دیا جائے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوشش ہے کہ یہ خواب صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہے، بلکہ ملک کے ہر اس بچے اور نوجوان تک پہنچے جس میں پاکستان کے مستقبل کا کرکٹر بننے کی صلاحیت موجود ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل