Friday, September 18, 2026
 

وہ دور شروع ہوگیا جب امریکی F-35 اور F-15 جنگی طیارے ہمارا شکار بنیں گے؛ ایران

 



ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے جدید جنگی طیارے اب ایرانی حملوں سے محفوظ نہیں رہے ہیں اور ٹرمپ کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان خیالات کا اظہار چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی کانگریس کو پیش کردہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کیا۔ محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران جنگ کے دوران امریکا کے جنگی طیارے F-35 اور F-15 کے نقصان کی اطلاعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنگ کی صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ دور شروع ہوچکا ہے جب امریکی F-35 اور F-15 جنگی طیارے ’شکار‘ بنیں گے اور امریکا کو ان کے نقصان کی اطلاع بھی دنیا کو خود دینا پڑے گی۔ محمد باقر قالیباف نے امریکی جنگی طیاروں کی تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ جو چیز پہلے ایک خوفناک خواب تصور ہوتی تھی وہ اب روزمرہ کی حقیقت بن چکی ہے۔ خیل رہے کہ امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے دوران متعدد امریکی طیاروں کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے 30 جون تک جاری کارروائیوں میں متعدد امریکی طیارے تباہ یا متاثر ہوئے جن میں چار F-15E لڑاکا طیارے اور ایک F-35A بھی شامل ہے جسے ایران کے اوپر دشمن کی فائرنگ سے نقصان پہنچا۔ رپورٹ میں مجموعی طور پر امریکی فوجی سازوسامان کے نقصانات اور ایران جنگ کے اخراجات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ امریکی انسپکٹر جنرل کے مطابق اس عرصے میں آپریشن ’ایپک فیوری‘ پر تقریباً 33.4 ارب ڈالر خرچ ہوئے، جن میں 22.3 ارب ڈالر سے زیادہ رقم صرف جنگی اسلحے اور گولہ بارود پر خرچ ہوئی۔ رپورٹ میں امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں ’اسٹریٹجک کمی‘ اور انہیں دوبارہ بھرنے میں صنعتی رکاوٹوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ تاہم امریکی محکمہ دفاع نے انسپکٹر جنرل کے بعض نتائج سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ تیار کرنے والوں کو تمام متعلقہ معلومات تک مکمل رسائی حاصل نہیں تھی۔ واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی شروع کی تھی جس کے بعد خطے میں وسیع پیمانے پر جنگی کشیدگی پیدا ہوئی اور جو تاحال جاری ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل