Loading
انگلینڈ کے فاسٹ بولر برائیڈن کارس کو ڈربی میں مبینہ حملے کے معاملے میں پولیس کی جانب سے مزید کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ واقعے کی تحقیقات ختم کر دی گئی ہیں۔
31 سالہ کارس کو 23 اگست کی صبح ڈربی سٹی سینٹر میں پولیس نے حراست میں لیا تھا۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں انہیں ہتھکڑیوں کے ساتھ پولیس اہلکاروں کے درمیان دیکھا گیا۔
پولیس کے مطابق انہیں نشے کی حالت میں بد نظمی کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تاہم تفصیلات درج کرنے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔
بعد ازاں ڈربی شائر پولیس نے مبینہ حملے کی شکایت کی تحقیقات شروع کیں جو اب بند کر دی گئی ہیں۔
پولیس نے تصدیق کی کہ افسران نے ڈربی کے ایک بار میں پیش آنے والے واقعے پر کارروائی کی تھی۔
کارس کو اس واقعے کے باعث پاکستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے انگلینڈ کی ٹیم سے باہر کر دیا گیا تھا جبکہ بعد میں انہیں تیسرے ٹیسٹ اور سری لنکا کے خلاف وائٹ بال سیریز کے اسکواڈ میں بھی شامل نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب پولیس تحقیقات ختم ہونے کے باوجود کرکٹ ریگولیٹر کی جانب سے کارس کے معاملے کی الگ تحقیقات جاری رہیں گی۔
انگلینڈ کے وائٹ بال کوچ برینڈن میک کولم نے بھی ان کی واپسی سے قبل مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل