Saturday, September 19, 2026
 

نئے صوبے؛ مصطفی کمال کی پریس کانفرنس پر ترجمان سندھ حکومت کا ردعمل

 



نئے صوبوں کے حوالے سے وفاقی وزیر مصطفی کمال کی پریس کانفرنس پر ترجمان سندھ حکومت کا ردعمل سامنے آ گیا۔ ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا فلسفہ ہی ’پاکستان کھپے‘ ہے، سندھ دھرتی کو انتظامی اکائیوں میں بانٹنے کی خواہش رکھنے والے ملک کو جوڑنے کا دعویٰ نہ کریں۔ سعدیہ جاوید نے کہا کہ سیاسی مصلحتوں کے تحت چہرہ بدلنے والے آج سندھ دھرتی کو تقسیم کرنے کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔ لاشوں کی سیاست پر جنم لینے والے آج معصومیت کا لبادہ اوڑھ کر صوبائی خودمختاری پر شب خون مارنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم نے وفاق کو مضبوط اور عوام کو حقوق دیے، دھرتی ماں کو توڑنے کی بات کرنے والے ملکی تاریخ سے ناواقف ہیں۔ شہر کو بارود کے ڈھیر پر بٹھانے والے ماضی کے کردار آج اندرون سندھ کی ماؤں اور بہنوں کے ہمدرد بننے کا ڈھونگ رچا رہے ہیں۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ موبائل چھیننے پر سیاست چمکانے والے بتائیں کہ جب ان کے دور میں پورے پورے خاندانوں کے چراغ گل کیے گئے تو ان کی غیرت کہاں تھی؟ ایم کیو ایم کا ماضی گواہ ہے کہ انہوں نے صرف نفرتیں بوئیں، اب نیا روپ دھار کر سندھیوں اور مہاجروں کو لڑا نہیں سکتے۔ سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ سندھ کی دھرتی صوفیائے کرام کی دھرتی ہے، یہاں کسی ضمیر فروش کی نفرت انگیز سیاست کو پنپنے نہیں دیا جائے گا۔ حکومت سندھ کی عوامی مقبولیت سے بوکھلا کر اپوزیشن رہنما سستی شہرت اور پریس کانفرنسز کا سہارا لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھنے کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی ہر سازش ناکام بنائیں گے۔ سندھ کے اسپتالوں اور صحت کے نظام پر انگلیاں اٹھانے والے پہلے اپنے دور اقتدار کی کرپشن اور بربادی کا حساب دیں۔ ترجمان سندھ حکومت کے مطابق انتظامی یونٹس کے نام پر سندھ کی تقسیم کا راگ الاپنے والے دراصل ملک میں نئے انتشار کا بیج بو رہے ہیں۔ سندھ حکومت وڈیروں کی نہیں بلکہ غریب ہاریوں، مزدوروں اور عوام کی نمائندہ حکومت ہے، جس کی بنیادیں جمہوریت پر ہیں۔ سعدیہ جاوید نے مزید کہا کہ عوام اب بیدار ہوچکے ہیں، جذباتی نعروں اور جھوٹے دعووں سے اب کراچی یا سندھ کے کسی شہری کو بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل